نیویارک (پاکستان نیوز)وزارت انصاف نے نیویارک ٹائمز کے 4 صحافیوں جولیان بارنز، ایرک لپٹن، ٹائلر پیجر اور ایرک شمٹ کو مینہیٹن کی ایک وفاقی گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کر دئیے ہیں۔ یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قطر کی جانب سے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے کے سیکیورٹی خدشات کے بارے میں کی جانے والی خبر کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان صحافیوں نے حال ہی میں یہ انکشاف کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ترکی میں منعقدہ نیٹو اجلاس سے واپسی پر سیکیورٹی خدشات کی بنا پر اس نئے طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون پر روانہ ہوئے تھے۔ امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے اس حساس معلومات کے افشا ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ 400 ملین ڈالر مالیت کے اس جیٹ کے سیکیورٹی نقائص کی خبریں عام ہونے اور طیارے کے غیر مج?ز ہونے پر شدید برہم تھے۔ سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے ایران کے ممکنہ خطرات اور جہاز میں اینٹی میزائل جیسے دفاعی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے پرانے طیارے کو زیادہ محفوظ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے اعلان کیا ہے کہ وہ صحافیوں کی آزادی کے تحفظ کے لیے اس عدالتی حکم کا قانونی مقابلہ کرے گی۔ اخبار کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو اس طرح عدالتوں میں طلب کرنا آزاد صحافت کو دبانے کی ایک دھمکی آمیز کوشش ہے۔ دوسری طرف وزارت انصاف کے ترجمان نے موقف اپنایا ہے کہ صحافی اس تحقیقات کا براہ راست نشانہ نہیں ہیں بلکہ اصل مقصد ان افراد کا پتہ لگانا ہے جنہوں نے قومی سلامتی کی معلومات افشا کیں۔ صحافتی تنظیموں نے بھی اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کے معلومات تک رسائی کے حق پر حملہ قرار دیا ہے۔








