پاکستان کی سیاسی تاریخ نشیب فراز بھری پڑی ہے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو سازش کے ذریعے ہٹایا گیا اور ابتدا ہی سے بحران ہی بحران پاکستان کے حصے میں آئے فوجی قیادتوں نے سیاسی قیادتوں کو کبھی بھی اُبھرنے نہ دیا اور جنرل سکندر اور جنرل ایوب خان قابض رہے ۔ایک پلان کے تحت بیرونی طاقتوں کو پاکستان میں مداخلت کی دعوتیں دی جاتی رہیں جتنے بھی بڑے بڑے سیاستدان اور حکمران خاندان ہیں یہ سب انگریزوں سے وفاداری کے صلے میں جاگیرداروں کے مالک بنے۔ فیلڈ مارشل ایوب خاں کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو سامنے آئے جو ایوب خاں کو ڈیڈی کہتے تھے بھٹو صاحب عوام میں مقبول ہوئے اس وقت یحیٰی خاں کے بعد جنرل ٹکا خاں آرمی چیف بنے تھے ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو شریف جنرل سمجھ کر کئی جرنیلوں کو پیچھے چھوڑ کر آرمی چیف بنایا۔ ضیاء الحق نے جو بھٹو صاحب کا حال کیاوہ اس کے سامنے ہے پھر ضیاء الحق کا انجام دنیا نے دیکھا تھوڑے عرصے کے لئے نواز شریف جو ضیاء الحق کو باپ کہتے تھے ان کی حکومت آئی اور بینظیر کی مختصر میں حکومتیں آسکیں اس کے بعد جنرل مشرف صاحب براجماں ہوئے اور ان کا انجام بھی آپ سب کے سامنے ہے سیاسی حکومتیں کرپشن کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ سے بلیک میل ہوتی رہیں کسی بھی سیاسی حکومت نے بے روزگاری اور اینڈ آرڈر ہیلتھ کیئر تعلیم معیشت پر کوئی توجہ نہ دی اور ستر سال تک چوہے بلی کا کھیل چلتا رہا اس تمام …میں میڈیا پر مکمل کنٹرول رہا من چاہی خبریں لگانی چاہئیں اس میں عوام کو بھٹو بکریوں کی طرح سٹریٹ کیا جاتا رہا اس کے بعد مرد بحران میدان میں آیا جس کا نام عمران خاں ہے کہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں فوج عمران خان کو لے کر آئی بالکل درست نہیں ہے عمران خان عوام کی حقیقی سپورٹ اور ووٹوں سے حکومت میں آئے۔ 2018ء میں عمران خان کے ممبران کو جعلی ہرا دیا گیا اور ایک سوبیس سیٹیں دی گئیں اتحادی حکومت بنائی لیکن ہزاروں رکاوٹوں کے باوجود عمراں خان نے ایسے کام کئے جو ہماری اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہ آئے اور ناجائز طریقے سے عمران خان کی حکومت کو گرا دیا گیا۔ عمران خان کو تین سو جھوٹے کیسوں میں پابند سلاسل کردیا ان کی اہلیہ کو بھی جھوٹے کیس میں قید کرلیا جس طرح پاکستان میں عدلیہ کا بیڑہ غرق کیا گیا اور اینڈ آرڈر خراب کیا گیا بے گناہ لوگوں کو قتل کیا گیا بے گناہ لوگوں کو جھوٹے کیسوں کے ذریعے جیلوں میں ڈالا گیا۔ جعلی فارم47 کی حکومت قائم کردی میڈیا پر کنٹرول یزیدی دور کی یاد قائم کردی گئی ہے آج کے دور میں اور گزشتہ ادوار میں فرق سوشل میڈیا کا ہے امریکہ میں پاکستانی صحافی محفوظ ہیں پاکستان میں کوئی بھی عمران خاں کا نام لیتا ہے یا خیر حقیقی خبر دیتا ہے تو یا تو قتل کردیا جاتا ہے یا غائب کردیا جاتا ہے لیکن امریکہ اکثر پاکستانی صحافی محفوظ ہونے کے باوجود عمران خان سے حسد اور بغض رکھتے ہیں اندر سے ان کو یہ بھی معلوم ہے عمران خان حق پر ہے اور سچا لیڈر ہے بے گناہ قید ہے اس کے باوجود زبانوں پر تالے ہیں جب عمران خان وزیراعظم کی حیثیت سے امریکہ آئے تو یہ لنڈے کے صحافی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لائنوں میں کھڑے رہتے تھے پاکستان میں احتجاج کی کوریج پر پابندی ہے لیکن سوشل میڈیا کچھ نہ کچھ خبریں ضرور دے رہا ہے امریکہ میں اکثریت صحافی اپنی ذاتی تشہیر اور مفاد کے لئے سوشل میڈیا خوب چلاتے ہیں لیکن اتنے بڑے بڑے احتجاج اور پاکستان میں انسانی حقوق سیاسی حقوق قتل غارت اور کرپشن کی رپورٹوں پر کبھی بات نہیں کرتے اور پریس کانفرنسز میں بھی خوشامدی سوال کرکے داد حاصل کرتے ہیں عمران خان سچا بہادر ایماندار پاکستانی رہنما ہے اور سب کو معلوم ہے یاد رکھیں اگر صحافت صرف ذاتی مفاد اور لفافوں کے لئے کرنی ہے تو اللہ پاک کو کیا منہ دکھائو گے دنیاوی مقاصد تو حاصل کر لو گے لیکن ڈرو اس وقت سے جب آپ کو آپ کے فرائض کے بارے میں پوچھا جائے گا وہاں جھوٹ نہیں چلے گا اب بھی وقت ہے غریب پاکستان عوام کی مدد کریں حق پر رہنے والے یہاں واحد پاکستانی رہنما عظیم عمران خان کے لئے آواز اٹھائیں حق بات کرکے اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کی کوشش کریں۔
٭٭٭٭٭








