واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ نے جون کے مہینے میں 1,000 سے زائد مزید اسٹاک ٹرانزیکشنز ظاہر کی ہیں جس نے صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے ان کے ذاتی فوائد حاصل کرنے کے عمل پر شدید سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ حکومتی اخلاقیات کے دفتر میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ان سودوں میں توانائی سے متعلق ان کمپنیوں کے ہزاروں ڈالرز کے حصص کی خرید و فروخت شامل ہے جو ایران میں جاری جنگ سے براہ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوا ساز اداروں جیسے ایلی للی اور مررک کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینویڈیا سمیت مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایے کی منتقلی کی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا پورٹ فولیو مکمل طور پر تیسرے فریق کے مالیاتی ادارے کے زیر انتظام ہے اور ان کا یا ان کے اہلخانہ کا ان فیصلوں میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس کے باوجود ڈیموکریٹس اور دیگر مبصرین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ ٹرمپ کی ذاتی دولت میں ان کے دوسرے دور اقتدار کے دوران بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جون کے سودوں میں ایکسن موبائل، شیورون اور کونوکو فلپس جیسی دفاعی و توانائی کمپنیوں کے حصص کی اہم خریداریاں شامل ہیں جو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور عسکری کارروائیوں سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے قریبی اتحادی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے پبلک ہونے کے فوراً بعد اس میں بھی 15,001 سے 50,000 ڈالرز تک کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ اور دیگر حساس شعبوں سے متاثرہ کمپنیوں میں 1,000 سے زائد مزید نئے حصص کی خریداریاں ظاہر کرنے پر ممکنہ مفاداتی تصادم کے شدید تنازع نے جنم لے لیا









