ٹرمپ کی اَگر مَگر 5 ہزار ڈالر کیلئے!!!

0
5
کامل احمر

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت اور اس کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ بات ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اس تکنیک کا بے جا استعمال آنے والی نسل کو ذہنی طور پر مجمود کر رہا ہے اور انسان میں غور و فکر نیز کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔ دو معروف کارپوریشنز کے انتظامی سربراہان نے اس کو سست کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ انٹرنیٹ کے نظام پر منفی اثرات نہ پڑیں۔ انتھروپک کے ڈاریو امادئی اور ایک اور ادارے کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق یہ پیش رفت انسانی فکر کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔ایک انٹرویو میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوان نسل میں خود انحصاری کی کمی ہو رہی ہے۔ اگر ان سے وکالت اور طب میں ترجیح کے بارے میں پوچھا جائے یا کوئی مضمون تحریر کرنے کو کہا جائے تو وہ فوراً تکنیکی وسائل کا سہارا لیتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی امتحانات میں بھی غیر منصفانہ طریقے اپنائے جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ طب کے چوتھے سال کے طالب علموں کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عملی مطالعے کی کمی کی وجہ سے وہ بنیادی طبی سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست صحت عامہ پر مرتب ہوں گے۔
موجودہ دور میں طبی معائنے کے دوران دوا تجویز کرنے کے بجائے فوراً خون کے ٹیسٹ، سونوگرام، ای کے جی اور ایکس رے کے لیے لیبارٹری بھیجنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح قانونی شعبے میں بھی جزا و سزا اور ہرجانے کے دعوؤں کے فیصلے خود کار نظام کے ذریعے کرنے کی عادت فروغ پا رہی ہے۔سابقہ دور کو یاد کیا جائے جب موبائل فون عام نہیں تھے تو لوگوں کو اپنے عزیزوں اور دوستوں کے رابطے حفظ ہوا کرتے تھے، جبکہ اب صورت حال بالکل مختلف ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی نے روزمرہ زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انسان کو کاہل اور سست بھی کر دیا ہے۔ خاندانی نظام پر اس کے منفی اثرات ظاہر ہو رہے ہیں، جہاں لوگ دفتر کا کام ہر وقت ساتھ لیے پھرتے ہیں اور آپسی تعلقات کے لیے وقت کی شدید کمی محسوس کی جاتی ہے۔ اس طرز زندگی کے نتیجے میں انفرادی معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور سماجی تعامل میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مین ہیٹن جیسے شہروں میں نوجوان سادہ راستوں کے لیے بھی فون کی سمت نمائی پر انحصار کرتے ہیں۔ دوسری ریاستوں میں روزگار کے لیے نقل مکانی کے باعث اب کئی والدین بڑے گھروں میں تنہا زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب، امریکی سیاست میں صدر ٹرمپ کے حالیہ اعلانات نے بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد وہ ہر بالغ شہری کو 5 ہزار ڈالر دیں گے۔ تاہم اس فیصلے کے ساتھ یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ان کی پارٹی کو کانگریس اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل ہو اور متعلقہ بل اسمبلی سے پاس ہو۔ اسے سیاسی ماہرین الیکشن سے قبل ایک ایسا وعدہ قرار دے رہے ہیں جس کی تکمیل کے امکانات مبہم ہیں۔
اس سے قبل بھی 2 ہزار ڈالر اور 1 ہزار ڈالر کے اسی نوعیت کے وعدے کیے گئے تھے جو تاحال وفا نہیں ہو سکے۔ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ملبہ یوکرین کی صورت حال پر ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے پالیسی بیانات اور سفارتی طرزِ عمل کو عالمی سطح پر ملا جلا ردِعمل مل رہا ہے۔ ایرانی موقف اور تیل کی عالمی قیمتوں کے حوالے سے کی جانے والی پالیسیاں بھی زیرِ بحث ہیں۔ بنیادی طور پر ریئل اسٹیٹ کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے رہنما کی ان معاشی تدابیر کے باعث معیشت، روزگار اور عام بالخصوص متاثر ہو رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here