جماعت اسلامی 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر رہی ہے۔ اس لانگ مارچ کا مقصد نہ اقتدار کا حصول ہے اور نہ حکومت کا گھیراؤ یا ٹکراؤ، بلکہ اس کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ مہنگائی میں کمی لائی جائے، آئی پی پیز کو لگام دی جائے، اور حکومتی اخراجات و عیاشیوں کو ختم کیا جائے۔ یہ مارچ حکمرانوں پر تیل، گیس اور گرانی کے خلاف دباؤ کا ایک لائحہ عمل ہے جو ایک بڑے دھرنے کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اب یہ حکمرانوں پر منحصر ہے کہ آیا وہ ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرتے ہیں یا عوام کو ریلیف دیتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ لوگ پھل اور سبزی خریدتے وقت پوری ریہڑی چھان مارتے ہیں، لیکن اپنے نمائندے چنتے وقت شعور سے کام نہیں لیتے اور کرپٹ عناصر کو ووٹ دے دیتے ہیں۔ بعد ازاں پانچ سال ان کی بدعنوانیاں بھگتتے ہیں اور اگلی بار پھر انہی کے ہاتھ مضبوط کر دیتے ہیں۔ قوم کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ووٹ ہمیشہ ان لوگوں کو کیوں دیا جاتا ہے جنہوں نے ملک کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
جماعت اسلامی اس وقت عوام کے لیے امید کی ایک کرن بن کر ابھری ہے جس نے آئی پی پیز کے معاملے پر لوگوں میں شعور بیدار کیا اور تیل، گیس نیز بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ جماعت اسلامی خدمتِ خلق کے شعبے میں ملک کے طول و عرض میں ضرورتمندوں کی مدد کر رہی ہے۔ ان کے کارکن باکردار، بااخلاق اور امانت و دیانت کے علمبردار ہیں۔ ان کا احتجاج انتہائی پرامن ہوتا ہے جس میں نہ کوئی نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کی دکان یا گاڑی کو آسیب پہنچتا ہے۔ جماعت اسلامی کا احتجاج، دھرنا اور لانگ مارچ صرف عوام کے لیے اور حکومت کو مہنگائی کم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ہے۔
تاہم کچھ منفی عناصر اور غیر ذمہ دار صحافی بلاجواز اس احتجاج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ماضی میں مختلف شعبوں اور شخصیات پر منحصر رہنے والے یہ عناصر اب بدتہذیبی کی انتہا کر رہے ہیں۔ یہ وہی گروہ ہے جو مفادات کی خاطر اپنے موقف بدلتا رہتا ہے اور بغیر کسی معقول وجہ کے اس پرامن احتجاج کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ ان لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ جماعت اسلامی عام عوام کی آواز اٹھا رہی ہے اور ان کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ اس احتجاج سے کسی سیاسی فریق کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ عوام کے حقوق کی جنگ ہے۔
عوام کی خاموشی اور پرانی روش پر قائم رہنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ لوگ مہنگائی کے باوجود بیدار نہیں ہو رہے۔ ایک کم آمدنی والا شخص اس دور میں کس طرح گزر بسر کر رہا ہے، یہ ایک انتہائی سنجیدہ سوال ہے۔ چاہے تیل، آٹا، گھی، دالیں اور گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں، قوم کا غیر حساس رویہ تشویشناک ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غریب آدمی آلو، پیاز، ٹماٹر، آٹا اور چاول جیسی بنیادی اشیاء کے لیے ترستارہا ہے۔
عوام کو اب اپنے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ جماعت اسلامی کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکمرانوں کو عوامی کٹہرے میں لایا جا سکے اور ان سے ملک و قوم کا حساب لیا جا سکے۔ جماعت اسلامی کے دباؤ ہی کی وجہ سے ماضی میں تیل کی قیمتوں میں کمی لائی گئی اور حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ جب حکومتی وزراء عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ خالی باتوں کے بجائے عملی قدم اٹھائیں اور اگر مسائل حل نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دیں۔
بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے اکثر صرف بیانات تک محدود رہتے ہیں۔ وہ نہ تو اسمبلیوں میں مہنگائی اور بیروزگاری پر موثر آواز اٹھاتے ہیں اور نہ ہی سڑکوں پر عوام کے لیے نکلتے ہیں۔ ایسے میں جب جماعت اسلامی احتجاج کرتی ہے تو دیگر فریقین کو بلاوجہ تکلیف ہوتی ہے۔ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ہر ایک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بدزبانی اور گالم گلوچ کے بجائے عوامی مسائل پر بات کی جائے۔
اللہ رب العزت پاکستان کو شرپسندوں سے محفوظ رکھے، بددیانت و ظالم حکمرانوں کو ہدایت دے یا ان کا خاتمہ کرے، اور جماعت اسلامی کی قیادت کو کامیاب فرمائے تاکہ پاکستان کا مقدر محبِ وطن، نظریاتی اور دیانت دار لوگوں کے ہاتھ میں ہو، آمین۔












