کچھ شخصیات اپنی زندگی میں صرف اپنے خاندان، ادارے یا پیشے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنے علم، خلوص، کردار اور خدمت کے ذریعے بہت سے دلوں میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ سید عبدالجبار مرحوم بھی ایسی ہی باوقار اور انسان دوست شخصیت تھے جو ایک قابل پروڈیوسر، ماہر براڈکاسٹر، ذمہ دار منتظم اور ادب دوست انسان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ریڈیو پاکستان بالخصوص ریڈیو پشاور کے تاریخی اسٹیشن سے ان کی وابستگی محض ملازمت نہیں بلکہ ایک فکری، ثقافتی اور عوامی ذمہ داری تھی۔ شعبہ پروگرام میں بطور سنئیر پروڈیوسر ان کی خدمات ریڈیو پشاور کی مقبولیت، معیار اور تخلیقی شناخت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی تھیں۔ وہ ریڈیو کو صرف آوازوں کا وسیلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے علم، ادب، ثقافت، تفریح اور عوامی شعور کو عام کرنے کا طاقت ور ذریعہ تصور کرتے تھے۔
ان کی فنی صلاحیتوں نے یادگار ریڈیو ڈراموں، ادبی پروگراموں اور ثقافتی نشریات کو جنم دیا۔ وہ کرداروں، مکالموں، موسیقی اور صوتی اثرات کو ایسی دل کشی سے ترتیب دیتے کہ سامع خود کو کہانی اور ماحول کا حصہ محسوس کرتا تھا۔ ان کے پروگراموں میں تفریح کے ساتھ فکر، ادب کے ساتھ شعور اور فن کے ساتھ معاشرتی احساس شامل ہوتا تھا۔ وہ معیار پر سمجھوتا نہ کرتے اور نوجوان فنکاروں، لکھنے والوں اور ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ادب سے ان کی وابستگی بہت گہری تھی اور شعراء ، ادباء ، فنکاروں اور اہل علم کی صحبت انہیں عزیز تھی۔ احمد فراز، فیض احمد فیض، خاطر غزنوی، رضا ہمدانی، فارغ بخاری، طٰہ خان اور محسن احسان جیسی شخصیات ان کے قریبی احباب میں شامل تھیں۔
ان کے نزدیک کتاب، قلم اور تعلیم قوم کی اصل قوت تھے اور وہ یقین رکھتے تھے کہ تعلیم انسان کو باوقار، خودمختار اور مضبوط بناتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے دفتر کے ڈرائیور، مالی اور چوکیداروں کے بچوں کی تعلیم کی بھی فکر کرتے تھے اور ان کو اسکول میں داخل کرانے کے ساتھ ساتھ حتی المقدور ان کی فیس اور کتابوں کا انتظام کرتے تھے۔ انسانیت اور ہمدردی ان کی شخصیت کا روشن ترین پہلو تھا۔ کسی کی بیماری، مالی پریشانی یا بے روزگاری کا علم ہوتا تو وہ صرف اظہار افسوس پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ عملی طور پر اس کے لیے کوشش کرتے تھے۔ بیماروں کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ہو یا ہسپتال میں داخل کرانا، روزگار کی تلاش میں مدد دینا اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے مالی تعاون کرنا ان کی عادت تھی۔
وہ ایک فرمانبردار بیٹے، وفادار شوہر، محبت کرنیوالے بھائی اور بہترین والد تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو محبت کے ساتھ اصول، شفقت، نظم و ضبط اور اعتماد کے ساتھ محنت کا درس دیا۔ انہی کی شخصیت نے ان کی بیٹی کو براڈکاسٹنگ اور پروڈکشن کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، جس کے نتیجے میں انہیں ریڈیو پشاور کی 90 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کنٹرولر اور اسٹیشن ڈائریکٹر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کی آواز، نصیحتیں، دعائیں اور تربیت ہر قدم پر ان کے متعلقین کے ساتھ ہیں۔ ہر سال 15 ستمبر کوان کی برسی کا دن ان کی یادوں کو مزید تازہ کر دیتا ہے۔ وہ جسمانی طور پر موجود نہیں مگر ان کی محبت، تربیت، دعائیں اور انسانیت آج بھی زندگیوں کو روشن کیے ہوئے ہیں۔ سید عبدالجبار مرحوم کی میراث ان کا نام اور کردار ہے جو ہمیشہ چراغ کی طرح راستہ روشن کرتا رہے گا۔
بابا تمھارے جیساقلندر ہے اب کہاں
عبدالجبار تجھ سا سکندر ہے اب کہاں
تجھ سا ہو کوئی اور یہ ممکن بھلا کہاں
سب دوستوں کا تجھ سا مقدر ہے اب کہاں
اہل نظر تو اب بھی زمانے میں ہیں بہت
علم و ادب کا تجھ سا سمندر ہے اب کہاں
وہ دوستوں کی جان تھا اور ان کا مان تھا
اس جیسا میرے من میں وہ جوہر ہے اب کہاں
عفت کے دل میں ان کی ہیں یادیں سجی ہوئی
سب کچھ ہے پر وہ پہلا سا منظر ہے اب کہاں
















