قرآنِ مجید فرقہ واریت کی مذمت کرتا ہے!!!

0
5
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

میں عموماً اپنی شاعری، کشمیر ، پاکستان ، عالمی سیاسی امور اور ادبی و سماجی موضوعات پر لکھتا ہوں۔ میں نے دانستہ طور پر مذہبی اور فرقہ وارانہ معاملات پر کبھی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ یہ نہایت حساس موضوعات ہیں۔لیکن آج کے حالات مجھے لکھنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
گزشتہ 1400 سال سے ملوکیّت اور ملائیت کی دیوار کے سائے میں مسلمان فقہی اور تاریخی اختلافات کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم کبھی بھی جمہوریت، انصاف اور فلاح پر مبنی اسلامی فلاحی ریاست قائم نہ کر سکے جو اسلام کا اصل مقصد ہے۔گزشتہ چند ماہ سے میں کچھ انتہا پسندوں کی انتہائی نفرت انگیز ویڈیوز دیکھ رہا ہوں جن میں وہ دوسرے فرقوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ اگر اس ناپاک عمل کو فوراً نہ روکا گیا تو پاکستان فرقہ وارانہ فسادات کی آماجگاہ بن جائے گا۔ صرف اسی ہفتے اسلام آباد میں فرقہ واریت کی بنیاد پر دو افراد قتل کیے گئے۔ جب عوام اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے کا سوچنے لگیں تو سمجھ لیں کہ ریاست کی بنیادیں خطرے میں ہیں۔
فرقہ واریت اور دہشت گردی وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں ریاست کا قانون کمزور ہو۔ اگر پولیس، عدلیہ اور متعلقہ ادارے نفرت پھیلانے اور فساد برپا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں تو یہ فتنہ ختم ہو سکتا ہے۔ مذہب کے نام پر بے گناہوں کا قتل کسی طور جائز نہیں۔ یہ ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے۔
میری اسلام پر انگریزی میں شائع شدہ دو کتابیںہیںـان کتابوں میں یہ نے واضح کیا گیا ہے کہ اسلام ایک سادہ، عقلی اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی بنیاد توحید، عدل، آزادی ، رحم اور بھلائی ہے۔
اسلام ظلم، ناانصافی اور تفرقے کو حرام قرار دیتا ہے۔ تفرقہ بازی کو قرآنِ مجید میں شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اسلام کو فرقہ باز اور غیر عقلی علما نے پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آج اسلام کے عملی پہلو کو پس پشت ڈال کر فرقہ وارانہ تاریخ پر بحث ہو رہی ہے۔
قرآن مجید میں *مسجدِ ضرار* کا ذکر ہے جو مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ حضور اکرم صلعم نے اسے گرا دینے کا حکم دیا۔
میرا سوال ہے: کیا آپ پاکستان میں کوئی ایک ایسی مسجد کا نام بتا سکتے ہیں جہاں تمام مکاتبِ فکر کے مسلمان ایک ساتھ نماز پڑھ سکیں؟ اگر ہماری مساجد فرقوں کے لیے مخصوص ہو گئی ہیں تو کیا ہم مسجدِ ضرار کی روش نہیں اپنا رہے؟
کیا اسلام فرقہ واریت کی اجازت دیتا ہے؟ کیا قرآن تفرقے کی مذمت نہیں کرتا؟”اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو”( آل عمران: 103)میں برسوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہوں تمام مساجد کو ریاستی نظام کے تحت لایا جائے تاکہ خطبات میں اتحاد کا درس دیا جائے نہ کہ نفرت کا۔ اسکولوں میں کلاس اول سے بی اے تک قرآن، سیرت، اخلاق اور شہری اقدار کی بنیادی تعلیم لازمی ہو۔ مذہبی مدارس کے نصاب میں جدید علوم جیسے ریاضی، ادبیات اور انگریزی شامل کیے جائیں تاکہ وہاں پڑھنے والے نوجوانوں میں اعتدال پسندی اور منقولات کے ساتھ معقولات کی روشنی آئے۔اگر ہم واقعی “ریاستِ مدینہ” بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں انصاف، علم اور اتحاد والے اسلام کی طرف لوٹنا ہوگا۔
میری نوجوان نسل سے اپیل ہے کہ وہ علامہ اقبال اور ڈاکٹر علی شریعتی کا مطالعہ کریں تاکہ اسلام کو ایک ترقی پسند، انصاف پسند اور فکری و عملی دین کے طور پر سمجھ سکیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں۔ اس سے پہلے کہ فرقہ واریت کے نام پر پاکستان معصوموں کا قبرستان بن جائے۔ دین تجارت نہیں انسانیّت کی خدمت کا نام ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here