پاکستان میں عوامی اور قومی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑا گیا ہے، جس طرح ماضی میں کالا باغ ڈیم اور حال ہی میں نہروں کے مسائل پر شوشہ برپا کیا جاتا رہا ہے۔ یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے تاکہ پاکستان کے عوام آپس میں الجھے رہیں اور کبھی متحد نہ ہو سکیں۔ اگرچہ عام، غریب، مفلس اور لاچار عوام کو ان شوشوں سے کبھی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی کبھی کسان کسی جاگیردار یا وڈیرے سے اور مزدور یا محنت کش کسی اجارہ دار سرمایہ دار سے نجات پا سکے گا۔
صوبے کے معنی مخصوص جغرافیائی علاقے کے ہوتے ہیں، جس کے زیادہ تر عوام ایک ہی زبان، کلچر، رسم و رواج اور تہذیب کے حامل ہوا کرتے تھے۔ اس کا جغرافیائی دائرہ کار ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوتا تھا جو ماضی میں مختلف سلطنتوں کے ماتحت ہوا کرتے تھے، تاہم آج کی دنیا میں نقشے اور روایات بدل چکی ہیں۔
آج امریکہ، برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بیرونی دنیا کے لوگوں کی آباد کاری سے مخصوص صوبوں یا ریاستوں کی آبادی کی ساخت بدل چکی ہے۔ اسی طرح بھارت اور پاکستان میں بھی ریاستوں اور صوبوں کے عوام میں باہر کے بسنے والے انسانوں کی شمولیت سے آبادی میں نمایاں فرق آ چکا ہے۔ خاص طور پر تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے چاروں صوبوں میں بیرونی لوگوں کی آباد کاری سے صوبائی آبادی کی ترکیب میں تبدیلی آئی ہے۔ جیسا کہ آج پنجاب میں کروڑوں بلوچ، پختون، یوپی اور سی پی کے غیر پنجابی آباد کار مقیم ہیں جو اب پنجاب کے کلچر، زبان اور رسم و رواج کا حصہ بن چکے ہیں۔ سندھ میں قدیم سندھیوں اور نئے سندھیوں کی آبادی تقریباً برابر نظر آتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پختون اور غیر پختون آبادی پائی جا رہی ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی پشتون اور بلوچ عوام کی آبادی تقریباً برابر ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود صوبوں کی تاریخی اور روایتی زبان، کلچر، تہذیب و تمدن ابھی بھی قائم ہیں، جن کے ناموں کو بدلنا اس خطے کی قدیم تاریخ کو مٹانے کے مترادف ہے۔
مزید برآں صوبے کے حکمران کو ماضی میں صوبے دار کہا جاتا تھا جو فارسی کا لفظ ہے اور جس کا مطلب گورنر یا ناظم ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کس بنا پر پاکستان میں فوج کے نان کمیشنڈ افسر کو بھی صوبیدار کا درجہ دے دیا گیا ہے، جس سے ایک طرف صوبے کا حکمران صوبے دار اور دوسری طرف فوج کا غیر کمیشنڈ افسر بھی صوبیدار کہلاتا ہے۔
بہر کیف پاکستان میں صوبے یا صوبیداری نظام کے بحث و مباحثے جاری ہیں، جس کا مقصد اور مطلب صوبوں کے نام پر ملک پر پھر کسی صوبے داری کا خطرہ منڈلانا ہے۔ جب ملک میں شدید بے چینی اور بے قراری پیدا ہوتی ہے تو صوبے دار کو موقع مل جاتا ہے کہ ملک پر صوبیداری نظام یعنی فوجی مارشل لا نافذ کیا جائے۔ پاکستان میں صوبیداری نظام کی ایسی تاریخ بھری پڑی ہے جہاں مختلف اوقات میں مختلف حیلے بہانوں سے ملک پر غیر قانونی اور غیر آئینی مارشل لا نافذ کر کے کئی دہائیوں تک براہ راست حکمرانی کی گئی۔
جب پاکستان میں پہلی بار جنرل ایوب خان صوبیدار نے مارشل لا نافذ کیا تو یہ بہانہ بنایا گیا کہ ملک کی پارلیمنٹ ناکام ہو چکی ہے، جس میں ایک بنگالی پارلیمنٹرین کو قتل کر دیا گیا تھا۔ دوسری دفعہ جب جنرل ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک نے زور پکڑا تو جنرل یحییٰ خان صوبیدار نے حکومت پر قبضہ کرتے ہوئے مارشل لا نافذ کر دیا، جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا۔ اس کے بعد جب بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک نے زور پکڑا تو جنرل ضیاء الحق صوبیدار نے اقتدار پر قبضہ کر کے مارشل لا نافذ کیا اور بھٹو کو سولی پر لٹکا دیا، جس کے بعد افغان جنگ یا فساد کی بنیاد رکھی گئی جس سے پاکستان لہولہان ہو گیا۔ پھر جب امریکہ کا افغانستان پر حملہ کرنا مقصود تھا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں جنرل مشرف صوبیدار نے ملک پر قبضہ کر لیا اور منتخب حکمران نواز شریف کو دس سال کے لیے جلاوطن کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستان آج تک دہشت گردی کا شکار ہے اور یہ مسئلہ قابو سے باہر ہو چکا ہے۔
آج ایک بار پھر پاکستان میں انتشار اور خلفشار عروج پر ہے اور پورے ملک میں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ اس صورت حال سے محسوس ہوتا ہے کہ عنقریب کسی اور صوبیدار کے قبضے کی خبریں سنائی دینے والی ہیں جو ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہوگی۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے مزید نقصان کا اندیشہ ہے، کیونکہ موجودہ جنرل عاصم منیر صوبیدار کو بے شمار اختیارات دیے جا چکے ہیں اور انہیں قانونی جواب دہی سے مبرا قرار دیا جا چکا ہے تاکہ اگر وہ کل آئین توڑیں، منسوخ یا معطل کریں تو وہ کسی سزا کے حقدار نہ ٹھہرائے جا سکیں۔ جس طرح ماضی میں جنرل مشرف کو عدلیہ نے آئین شکنی پر سزائے موت سنائی تھی، جس پر عمل درآمد کے بجائے عمران خان حکومت نے پہلے یومِ سیاہ منایا اور پھر ماتم کیا، اور بعد میں اس سزا دینے والے جج وقار سیٹھ کا انتقال کرونا کے دنوں میں ہوا۔
بہر حال پاکستان میں یہ پیدا کردہ انتشار اور خلفشار کسی نہ کسی صوبیدار کے آئینِ پاکستان پر حملے کے امکانات کی نشان دہی کر رہا ہے، جس پر شاید بہت جلد عمل درآمد ہو جائے گا۔ اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی جس نے صوبیدار کو بے تحاشہ اختیارات دیے ہیں جو ملک کی تباہی کا باعث بنیں گے اور ملکی عوام کے لیے مزید نقصانات لائیں گے۔ اس سے بچاؤ کے لیے وطن اور عوام دوست قوتوں کو متحد ہونا چاہیے تاکہ عوام کو گمراہی اور لاعلمی سے نکال کر چین کے ماؤ زے تنگ کی طرز پر ایک عوامی انقلاب برپا کیا جا سکے جس کی آج شدید ضرورت ہے، اور اسلامی تعلیمات بھی بدکردار و بداعمال حکمرانوں کے خاتمے کا درس دیتی ہیں۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)













