خلیج کے پرسکون سمندری راستوں پر چھائے ہوئے بادل اب ایک ایسے معاشی اور عسکری طوفان کی پیشگوئی کر رہے ہیں جس کی حرارت پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ مکہ کے معاہدے کی روشناء ابھی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ خطے کے جیو پولیٹیکل حالات نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ یمن کے ساحلوں سے اٹھنے والے حوسی مسلح افواج کے تلاطم نے سعودی عرب کی معاشی شاہراہوں اور شاہی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ مشرقی ایشیا اور خلیج فارس کو ملا کر دیکھنے والے مبصرین کے لیے یہ صورتحال خلاف توقع نہیں، مگر ریاض کی اس تحیر انگیز حکمت عملی نے سب کو حیران کر دیا ہے جہاں اب ہر در سے مایوسی کے بعد غائبانہ طور پر تل ابیب سے معاونت حاصل کرنے کے ڈول ڈالے جا رہے ہیں۔
مشرق وسطی کے موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا روایتی توازن بدل چکا ہے۔ ایک ہی دن میں دو بار واشنگٹن رابطہ کرنا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے صریحاً عسکری مدد سے انکار سننا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کاغذی اتحادی نازک وقت میں کام نہیں آتے۔ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ تنازع میں پہلے ہی الجھا ہوا ہے اور وہ یمن کے دشوار گزار محاذ پر اپنی فورسز کو جھونک کر ایک اور محاذ کھولنے سے گریزاں ہے۔ دوسری جانب اگست 2025 میں طے پانے والے مکہ کے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے باجوجود پاکستان اور ترکیہ نے بھی فی الحال مذمتی بیان بازی اور رسمی ہمدردی سے آگے بڑھ کر کسی بھی قسم کی عملی یا جیو پولیٹیکل فوجی مداخلت سے احتراز کیا ہے۔ ان حالات میں جب تینوں اہم تجارتی و معاشی راستے یعنی باب المندب، آبنائے ہرمز اور زمینی پائپ لائنز ایک ساتھ خطرے میں پڑ چکی ہیں، ریاض کی بے بسی عیاں ہو چکی ہے۔
اس سارے تناظر میں سب سے المناک اور المیہ خیز پہلو یہ ہے کہ جن قوتوں نے دہائیوں سے خطے کے عوام کو اپنے تسلط کے نیچے رکھا، اج وہ خود اپنے لیے کوئی جائے پناہ تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ برصغیر اور عالم اسلام کے دیگر ممالک سے ناامیدی کے بعد صیہونی ریاست سے امریکی کمان کے ذریعے خفت کے ساتھ معلومات اور قبل از وقت خبردار کرنے والے نظام کی بھیل مانگنا اس جیو پولیٹیکل شکست کا اعتراف ہے۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تل ابیب کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ یمن کی اس پیچیدہ سرزمین پر اثر انداز ہو سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ تل ابیب سے یمن کا دو ہزار کلومیٹر کا فاصلہ اور وہاں کی جغرافیائی و زمینی معلومات کی عدم دستیابی اس کی کسی بھی فضائی یا عسکری کارروائی کو بے اثر کر دیتی ہے۔ حوسیوں کا دفاعی اور ملٹری ڈھانچہ اتنا متحرک اور بکھرا ہوا ہے کہ اس کو کسی روایتی فضائی بمباری سے ختم کرنا ناممکن ہے، جیسا کہ واشنگٹن کی تمام تر جدت کے باوجود تباہ کن بمباری بے سود ثابت ہوئی۔
دوسری طرف افریقہ کے ساحلوں جیسے جبوتی اور صومالی لینڈ میں غیر ملکی فوج کے اڈوں اور زیر زمین ایندھن و اسلحہ کے ذخائر کی تعمیر یہ واضح کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں کسی بھی طور باب المندب کی شاہراہ سے اپنا قبضہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔ تاہم، تجارتی ناطقہ بند ہونے کا سارا نقصان خود ریاض کو اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ حوسی قوتوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی کی جائے گی۔ جب تک یمن کی معاشی سنسنی دور نہیں ہوتی اور ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں کو راستہ نہیں ملے گا۔ عالمی معیشت کا بارہ فیصد تجارتی حصہ اس بحری راستے پر انحصار کرتا ہے اور اگر یہ اگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو دنیا کے معاشی پہیے جام ہو جائیں گے۔
خارجی امداد کی مسلسل آس اور غیروں کی سرپرستی کا خواب اب ٹوٹ چکا ہے۔ سعودی ولی عہد کو یہ بات درک کرنی ہوگی کہ اسرائیل سے پردے کے پیچھے امداد مانگنے سے یا واشنگٹن کے سامنے التجا کرنے سے یمن کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کا واحد حل طاقت کے تکبر کو چھوڑ کر خطے کے حقیقی حالات اور عوام کی منشا کو تسلیم کرنا، مداخلت کا خاتمہ کرنا اور بلاوجہ کی ناکہ بندی کو ہٹانا ہے۔ اگر اب بھی دانشمندی اور تدبر سے کام نہ لیا گیا تو جنگ کی یہ بھیانک لہر پورے خطے کو ایک ایسے تاریک دور میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔
٭٭٭












