ٹرمپ کی سربراہی میںغزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس 19 فروری کو ہوگا، پاکستان شرکت کریگا

0
7

اسلام آباد(پاکستان نیوز)غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکا میں ہو گا۔سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان کی شرکت کو خطے میں امن کے قیام اور انسانی بحران کے حل کیلئے سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی اراکین کا یہ اجلاس واشنگٹن میں یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں ہو گا جس کی صدارت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے چیئر مین ہیں اور انہوں نے پچھلے سال جنوری میں غزہ پیس بورڈ کا باضابطہ آغاز کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ اس کے ذریعے دنیا کے بڑے تنازعے حل کرنے کی کوششیں کی جا سکیں گی۔دفتر خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ پاکستان کو اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے۔ جب کہ حتمی باضابطہ فیصلے کی اطلاع ابھی باقی ہے، ذرائع نے اشارہ کیا کہ اسلام آباد کی شرکت کا امکان ہے۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم شہباز شریف یا نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی طرف سے متوقع ہے۔اجلاس میں غزہ کی صورتحال،امن و استحکام کی بحالی، جنگ بندی کی پائیداری،امداد فراہمی اور تنازع کے بعد کی تعمیر نو سے متعلق اقدامات پر غور کیا جائے گا۔اسلام آباد نے مسلسل فوری اور مستقل جنگ بندی، بلا روک ٹوک انسانی امداد اور بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے جڑے ایک قابل اعتماد سیاسی عمل کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے بارہا فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا ہے، جس میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا قیام بھی شامل ہے الشریف اس کا دارالحکومت ہے۔حکام کا خیال ہے کہ بورڈ آف پیس میں شرکت سے پاکستان کو امریکہ سمیت اہم بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز تک اپنا نقطہ نظر براہ راست پہنچانے کا موقع ملے گا۔واضح رہے پاکستان ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے گزشتہ ماہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیووس میں منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی۔25 ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے۔کچھ ماہرین اور سفارتکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ کثیرالجہتی فریم ورک سے باہر ہونے والے اس طرح کے اقدام سے اقوام متحدہ کے کردار کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی میکانزم قائم کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب دوحہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حماس کے سینیئر رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ غزہ پر کسی غیر ملکی حکومت کو تسلیم کریں گے نہ ہیتھیار ڈالیں گے ۔اسرائیل نسل کشی آسان بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے، جب تک غزہ پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، بھرپور مزاحمت جاری رہے گی۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here