واشنگٹن (پاکستان نیوز)بدنام زمانہ جیفری ایپس ٹین اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن اپنی موت کے بعد بھی اس نے دنیا میں ایک طوفان برپا کر رکھا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ گزشتہ دنوں منظر عام پر آنیوالی ”ایپس ٹین فائلز” کی لاکھوں دستاویزات میں کئے گئے ہولناک انکشافات نے پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق امریکی صدر بل کلنٹن، برطانوی شہزادے اینڈریو، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر، مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس، معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ اور دیگر عالمی شخصیات کے نام شامل ہیں۔ 30لاکھ صفحات، ایک لاکھ 80ہزار سے زائد تصاویر اور 2ہزار سے زائد ویڈیوز میں ایسے انکشافات منظر عام پر آئے ہیں جن میں کئی عالمی شخصیات کے مکروہ چہرے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ جیفری ایپس ٹین 1953ء میں نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھا مگر اسے لوگوں کو متاثر کرنے، اعتماد جیتنے اور خود کو طاقتور حلقوں سے وابستہ ظاہر کرنے میں غیرمعمولی مہارت حاصل تھی۔ اس نے اپنے عملی کیریئر کا آغاز ایک اسکول ٹیچر کے طور پر کیا، بعد ازاں ایک سرمایہ کاری فرم قائم کی جسکے ذریعے اس نے خود کو ایک مالیاتی مشیر کے طور پر پیش کرتے ہوئے دنیا کے امیر اور طاقتور ترین افراد تک رسائی حاصل کرکے دولت کمائی۔ اسی دولت اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پر جیفری ایپس ٹین نے نجی طیارے، پرتعیش Yacht اور کیریبین میں واقع جزیرہ ”لٹل سینٹ جیمز” خریدا جو بعدازاں میڈیا میں بدنام زمانہ ”ایپس ٹین آئی لینڈ” کے نام سے مشہور ہوا۔ ایپس ٹین کی اصل طاقت صرف دولت نہیں تھی بلکہ عالمی سیاستدانوں، برطانوی شاہی خاندان کے افراد اور ارب پتی سرمایہ کاروں سے اس کے قریبی تعلقات تھے۔ ایپس ٹین نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کم عمر لڑکیوں سے جنسی استحصال کا ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک چلایا، وہ کم عمر لڑکیوں کو پیسوں کا لالچ دے کر انہیں اپنے جزیرے پر دنیا کی طاقتور شخصیات کے سامنے پیش کرتا تھا۔ اس گھنائونے کام میں اس کی قریبی ساتھی گیسلین میکسویل نے اہم کردار ادا کیا جو یہودی ناول نگار رابرٹ میکسول کی بیٹی تھی اور آج کل امریکی جیل میں سزا بھگت رہی ہے۔








