نیویارک (پاکستان نیوز) گزشتہ چند ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کے خاتمے اور خطے میں ایک نئی وسیع تر جنگ کے خطرات کے سائے میں واشنگٹن اور تہران کے مابین بحری محاذ پر براہ راست فوجی تصادم شروع ہو گیا ہے جس نے مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر شدید عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان میں متعدد مقامات کو فضائی بمباری کا نشانہ بنایا ہے تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہو سکی۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چند گھنٹے قبل ہی امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف نئے اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے تھے۔ امریکی فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران پر یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر ایرانی فورسز کے مبینہ حملوں اور ناکہ بندی کی کوششوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں تاکہ بحری تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تہران نے ان امریکی حملوں کو مفاہمت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید جوابی عسکری کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے جبکہ دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی بمباری نے پورے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ اور دھماکہ خیز بنا دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی سمندری حدود بالخصوص ہرمز کی اہم ترین آبی پٹی میں تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر ایرانی اثر و رسوخ اور تین آئل ٹینکروں پر حالیہ مبینہ حملوں کو جواز بنا کر امریکی افواج نے ایران کے تزویراتی اور عسکری ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔ امریکی مرکزی کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد بین الاقوامی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا اور تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ سمندری حدود میں اپنی جارحانہ سرگرمیاں بند کرے۔ امریکی حکومت نے ان فوجی حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کو حاصل تیل کی فروخت کے اجازت نامے بھی فوری طور پر منسوخ کر دئیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور عسکری تصادم کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جزیرہ قشم پر کم از کم 6 جبکہ بندر عباس اور سیریک کے ساحلی علاقوں میں متعدد زوردار دھماکے سنے گئے ہیں جہاں ایرانی بحریہ کے اہم مراکز اور نگرانی کے نظام موجود ہیں۔ ان شدید حملوں کے فوری بعد ایران میں سیاسی اور عسکری قیادت کے ہنگامی اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں اور عراقی دارالحکومت کا سرکاری دورہ ادھورا چھوڑ کر ایرانی صدر مسعود پزشکیان فوری طور پر تہران واپس پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے دوطرفہ امن مفاہمت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے جو چند ہفتے قبل ہی دونوں فریقین کے مابین طے پائی تھی۔ تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن نے خطے میں امن کے قیام کی تمام سفارتی کوششوں کو سبوتاڑ کیا ہے اور اس جارحیت کے بعد اب ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ اور حتمی اقدام اٹھانے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کی تمام مسلح افواج کو اعلیٰ ترین الرٹ پر رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور کسی بھی وقت جوابی عسکری اقدامات کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی محض روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وہ دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی لائن سمجھے جانیوالے اہم سمندری راستوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ایران نے ہرمز اور باب المندب کی آبی پٹیوں پر ناکہ بندی کر دی تو اس سے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو ایسا دھچکا لگے گا جس کا سنبھالنا مغربی طاقتوں کے لیے انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ دوسری طرف واشنگٹن نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران کی طرف سے کوئی بھی جوابی کارروائی کی گئی تو اس کا جواب مزید ہولناک فوجی طاقت سے دیا جائے گا۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں کسی بھی فریق کی جانب سے اٹھایا گیا اگلا قدم خطے کو ایک ایسی بڑی تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔











