صدارتی نظام یا آئین کی منسوخی !!!

0
7
رمضان رانا
رمضان رانا

آئین پاکستان کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے کہ ملک کا نظام حکومت پارلیمانی ہوگا جس میں پارلیمنٹ کو دیگر اداروں پر برتری حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کا نامزد کردہ وزیراعظم ملکی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے جبکہ صدر پاکستان مملکت کا سربراہ ہوتا ہے اور یہ دونوں عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ 1973 کا آئین چاروں صوبوں کی خودمختاری اور فیڈریشن کی ضمانت دیتا ہے جس کی رو سے صوبے آئین کے طے شدہ معاہدوں اور وعدوں کے تحت فیڈریشن کا حصہ ہیں۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 میں درج ہے کہ جو بھی آئین کو معطل یا منسوخ کرے گا اس کو سزائے موت دی جائے گی۔ چند دہائیوں پہلے سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کی سربراہی میں جنرل مشرف کے تمام آئین شکن اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے بعد نواز شریف حکومت نے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ قائم کیا۔ اس مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کردہ خصوصی عدالت کے سربراہ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے جنرل مشرف کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس فیصلے پر اس وقت کے وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سزا کو متنازع بنانے کی کوشش کی تاہم بعد میں قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ بدقسمتی سے فیصلے پر عملدرآمد کے بجائے آئین شکن کو سزا نہ مل سکی جبکہ جج وقار سیٹھ کرونا کے باعث انتقال کر گئے۔
آج ایک بار پھر آئین بے بس نظر آ رہا ہے اور آئے دن ترامیم کے ذریعے اس کی اصل روح کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر سے ہی صدارتی نظام لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور نئے صوبوں کی تشکیل کی آڑ میں ملک پر ایک بار پھر آمرانہ اور جابرانہ صدارتی نظام مسلط کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ موجودہ آئین ایسے کسی نظام کی اجازت نہیں دیتا اور اس کے لیے پہلے اس آئین کو منسوخ کرنا پڑے گا تب ہی 1962 کے آئین کی طرز کا صدارتی نظام نافذ ہو سکتا ہے جو کہ موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔
موجودہ صوبے اور وفاقی اکائیاں صرف 1973 کے آئین اور اس کے فراہم کردہ پارلیمانی نظام کے تحت ہی آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ اگر آئین کو توڑا یا مروڑا گیا تو ملک کو 1971 جیسے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی انتشار کا شکار ہے جہاں بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسائل موجود ہیں۔
لہٰذا آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے بجائے اور صدارتی نظام کا تجربہ دہرانے کی جگہ ملک میں بلدیاتی نظام کو نافذ اور فعال کیا جائے۔ تمام شہروں، اضلاع اور تحصیلوں کی مقامی انتظامیہ کو بااختیار بنایا جائے تاکہ عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق دہلیز پر مل سکیں۔ مرکزی کنٹرول کے بجائے اضلاع کی اپنی پولیس اور انتظامیہ ہونی چاہیے جس کا سربراہ منتخب نمائندہ ہو تاکہ نوآبادیاتی دور کے پرانے نظام سے نجات مل سکے۔ اسی طرح تمام انتظامی امور کو صوبائی اور مقامی سطح پر منتقل کر کے حکام کو عوام کے سامنے براہ راست جواب دہ بنایا جائے کیونکہ اسی عمل میں پاکستان کی بقا اور استحکام مضمر ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here