پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 70 سال ہو گئے ہیں۔ جدید علوم سے بہرہ ور امریکہ اور یورپ کی دانش گاہوں سے پڑھے ہوئے سائنسدانوں اور ماہرینِ طب نے اپنے اپنے شعبہ حیات میں کارہائے نمایاں بھی سر انجام دئیے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان ایٹمی سائنسدان نے پاکستان کو مسلمانوں کے 57 ممالک میں پہلا ایٹمی ملک بنا دیا لیکن بحیثیت قوم ہم دو چیزیں ابھی حاصل نہ کر سکے۔ اول قیامِ نظامِ عدلِ اسلامی، دوم تخلیقِ جذبہ حبِ الوطنی۔ ہم نے قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے دو قومی نظریہ کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اسلامی نظامِ عدل کے قیام کی جگہ جاگیرداری اور سرمایہ داری کا دیرینہ نظامِ فرعون و ہامان برقرار ہے۔
اسلام کے نظامِ فلاح و اصلاح کی بجائے ملائیت، شخصیت، خانقاہیت، آمریت، عسکریت اور سرمایہ داری کو فروغ دیا۔ اسلام کا ٹھیکہ رجعت پسند، انتہا پسند اور فرقہ واریت کا شکار مولویوں کو دے دیا گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی، آج بھی چند علمائے حق ہیں جو دینِ اسلام کی فلاحی و انقلابی تفسیر کر رہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ استبداد میں ایک مرتبہ وزارتِ مذہبی امور اسلام آباد کی سالانہ تقریب میں شمولیت کی دعوت پر جنبشِ دانشوران کی تہمت کی بدولت حاضرِ مجلس ہوا جس میں بڑے بڑے نامی گرامی علماء و مشائخ دست بستہ دربارِ شاہی میں ایستادہ تھے۔ ایک معروف عالمِ دین گڑگڑا کر ضیاء الحق کی زندگی اور حکومت کی طوالت و کامرانی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ میرے ساتھ والی نشست پر ایک روشن فکر دانشور مولانا کے گریہ پیہم پر ہنس رہے تھے۔ یہ کیسے عالمِ دین ہیں جو ملوکیت و آمریت کے حامی ہیں۔ میں یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ ہم علامہ اقبال مصورِ پاکستان اور مفکرِ اسلام کے انقلابی پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔
علاوہ ازیں جذبہ حبِ الوطنی بھی خال خال دکھائی دیتا ہے۔ سیاست دانوں، جاگیرداروں، سرمایہ کاروں، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور تاجروں کی دولت پاکستان سے باہر ہے۔ ان کی جائدادیں پاکستان سے باہر ہیں۔ ان کی اولاد امریکہ اور یورپ میں مقیم ہے۔ یہ لوگ پاکستان میں صرف حکومت کرنے اور دولت لوٹنے کے لیے آتے ہیں اور لوٹ مار کے بعد باہر چلے جاتے ہیں۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ میں اکثر ان لوگوں کو سفیر بنایا جاتا ہے جو اس ملک کی زبان جانتے ہیں۔ نہرو نے کئی مسلم ممالک میں مسلمان سفیر بھیجے جو عربی زبان پر عبور رکھتے تھے انہوں نے وہاں بھارت نوازی کا خود ساختہ بیانیہ پیش کیا۔ پاکستان کے سفیروں کو سوائے انگریزی زبان کے دوسری زبان نہیں آتی۔ یہ نظریہ پاکستان اور مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے کیسے پیش کر سکتے ہیں؟ پاکستان سفارت کاری میں ناکام اسی وجہ سے ہے جس ملک میں جس سفیر کو بھیجنا ہو اسے ایک سال کا زبان کا کورس کروایا جائے اور پھر متعلقہ ملک میں سفیر بنا کر بھیجا جائے۔
وزارتِ خارجہ توجہ کرے۔ شیخ سعدی نے کہا تھا قضیہ زمین بر زمین است۔ اس سے مراد زمینی حقائق کی تفہیم بھی لی جا سکتی ہے۔ زمین کا مسئلہ زمین پر ہی حل کرو۔ سعدی نے یہ بھی کہا تھا تو کارِ زمین را نکو ساختی تو زمین کے مسائل تو حل کر نہیں سکا اور آسمانوں پر پرواز کر رہا ہے۔ کتنی بڑی حقیقت کی طرف سعدی نے اشارہ کیا۔ ایک مولوی صاحب جمعہ کے خطبے میں جنت میں شیر و شہد کی نہروں اور چشمِ آہو جیسی حوروں کا بیان پر ترنم انداز میں کر کے خود بھی مسرور ہو رہے تھے اور سامعین کو بھی مسحور کر رہے تھے بلکہ یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ اپنے معتقدین و مریدین کو اپنی انانیت کے قلعہ میں محصور کر رہے تھے۔ بعد از خطاب میں نے ان سے کہا حضورِ اسلام دینِ زندگی ہے خدا را کبھی اپنے خطبہ میں زمینی حقائق اور مستضعفین و محرومین و مظلومین کے مسائل بھی بیان کر دیا کریں تو مولانا سیخ پا ہو گئے اور ہمیں لامذہب سمجھ بیٹھے۔ دنیا و آخرت لازم و ملزوم ہیں لیکن ملوکیت اور آمریت کی بدولت ملائیت نے ہمیشہ عوام کے سیاسی و معاشی و سماجی حقوق سے صرفِ نظر کیا اور عوام کو اخلاقی، روحانی، مسلکی و اخروی معاملات میں الجھائے رکھا۔ مثال کے طور پر میں نے بات قضیہ زمین سے شروع کی تھی۔ مسلمان علماء و فقہا کی اکثریت نے جاگیرداری، سرمایہ داری اور ملوکیت کی حمایت میں اسلام کی تعبیر و تشریح کی ہے لیکن تاریخِ اسلام میں ایسے مردانِ حق بھی گزرے ہیں جنہوں نے اذیتیں تو برداشت کر لیں لیکن سر کو دربارِ شاہی میں نہ جھکایا۔
امام جعفر صادق کو بادشاہِ وقت نے بار بار دربار میں طلب کیا، انہیں ستایا مگر امام نے سر نہ جھکایا۔ امام موسیٰ کاظم کو 21 سال قید خانہ میں قید رکھا حتیٰ کہ ان کی لاش بھی قید خانہ سے برآمد ہوئی اور سامرہ عراق میں مدفون ہوئے۔ امام مالک کو سرِ بازار ذلیل کیا گیا اور کوڑے مارے گئے لیکن انہوں نے بادشاہ کی رضا کے مطابق فتویٰ نہ دیا۔ رہا قضیہ زمین تو قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر ارشاد ہوا کہ زمین و آسمان کی ملکیت اللہ کی ہے۔ زمین اللہ کی ہے، آیہ قرآن ہے۔ سور النور کی آیت نمبر 64 میں ارشادِ ربانی ہے، خبردار! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔ اس آیت کی رو سے نہ صرف حقِ ملکیتِ زمین اللہ کا ہے بلکہ زمینی خزائن سونا، ہیرے، تیل، گیس، پانی اور فصلیں سب اللہ کی یعنی حکومتِ اسلامی کی ملکیت ہیں اور تقسیمِ رزق مبنی بر انصاف و مساوات حکومتِ اسلامی کا فریضہ ہے۔ اسلامی ریاست میں جاگیرداری کا کوئی تصور نہیں، زمین وراثت میں تقسیم نہیں ہو سکتی، زمین صرف کسانوں کو پٹے پر دی جا سکتی ہے اور ریاستِ اسلامی پیداوار میں کسانوں کو حصہ دیتی ہے۔ زمین کی وراثتی تقسیم سے بھی نہ صرف پیداوار میں کمی ہوتی ہے بلکہ خاندانی تنازعات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان میں جاگیرداروں سے زمین لینے کی بجائے ریٹائرڈ جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو مربعے الاٹ کیے جا رہے ہیں۔
رسالت و نبوت، خلافت و امامت، قیادت و سیادت اور سیاست و معیشت ایسے موضوعات ہیں جن پر مسلمان علماء و فقہا اور مدبرین و مفکرین کی آراء میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ رسالت و نبوت تو من جانب اللہ ہے۔ کوئی شخص ریاضت و عبادت سے یا علمی و عقلی مرتبہ اختیار کرنے سے رسول یا نبی نہیں بن سکتا۔ اہل تسنن کے ہاں امامت دینی و علمی مرتبہ یعنی جو لوگ قرآن و حدیث و فقہ میں نام پیدا کرتے ہیں انہیں امام کہا جاتا ہے، جیسے امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام مالک اور دیگران۔ اہل تشیع اثناء عشری میں بارہ امام ہیں جو ان کے عقیدے کے مطابق من جانب اللہ ہیں۔
حضرت علی سے لے کر امام مہدی تک سلسلہ امامت ہے۔ امام مہدی پردہ غیب میں ہیں جسے غیبتِ کبریٰ کہا جاتا ہے۔ ان کی آمد قربِ قیامت ہو گی۔ بوہرہ اور اسماعیلی امامت کو وراثت گردانتے ہیں اور جیسے ملوکیت موروثی ہے اسی طرح ان دونوں فرقوں کے ہاں امامت بھی موروثی ہے جو آج تک جاری ہے۔ سنجیدہ مسئلہ خلافت کا ہے۔ قرآن مجید میں سور النور کی آیت نمبر 55 مسئلہ خلافت و حکومت کے بارے میں بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور ان کو زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو حقِ حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ اس آیت کا سہارا لے کر ہر مسلمان حاکم اپنے آپ کو خلیفہ خدا اور خلیفہ رسول کہلواتا آیا ہے یہاں تک کہ ظالم و جابر اور فاسق و فاجر ملوک بھی اپنے آپ کو خلیفہ کہتے اور کہلواتے رہے۔ دربارِ یزید میں اس نے حضرت زینب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اللہ نے مجھے فتح و نصرت اور عزت بخشی اور حسین کو شکست و ذلت سے دوچار کیا۔ جس کے جواب میں دخترِ شیرِ خدا نے فرمایا کہ شہادت مقامِ احترام و عزت ہے جبکہ تو نے جبر و جبروت سے خاندانِ رسول پر مظالم ڈھائے اور دائمی شکست و ذلت کا سزاوار ہے۔













