کچھ انتظار کی گھڑیاں سوئیوں سے نہیں ناپی جاتیں، وہ برسوں آنکھوں میں ٹھہری رہتی ہیں۔ وہ دروازے کی ہلکی سی آہٹ پر چونک اٹھتی ہیں اور ہر خبر کے امکان کے ساتھ دل کی دھڑکن بڑھا دیتی ہیں۔ کسی انسان کا اچانک غائب ہو جانا صرف ایک فرد کے منظر سے ہٹ جانے کا واقعہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا گھر، خاندان، دعائیں، بچوں کے سوال اور شریکِ حیات کی ہر سانس میں برسوں پر محیط انتظار رہ جاتا ہے۔ جب یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی کہاں ہے، کس حال میں ہے اور زندہ بھی ہے یا نہیں، تو دیواروں پر آویزاں تصویریں بھی خاموش سوال بن جاتی ہیں۔
30 اگست کا دن جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں، بلکہ ریاستوں اور معاشروں کے لیے ایک گہرا انسانی، اخلاقی اور قانونی سوال ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد جبری گمشدگیوں کی سنگینی کو اجاگر کرنا، متاثرہ خاندانوں کے حقِ معلومات کو تسلیم کرنا اور انصاف و جواب دہی کے مطالبے کو تقویت دینا ہے۔ کسی شہری کی گمشدگی کے بعد اس کے خاندان کو سچ جاننے کا حق کب اور کیسے ملے گا، یہ ایک اہم اور بنیادی سوال ہے۔
اگرچہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ دنیا کے کئی خطوں میں موجود ہے، مگر اس المیے کا جائزہ اگر اپنے خطے کے تناظر میں لیا جائے تو پاکستان، بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ مسئلہ صرف انسانی حقوق کی بحث نہیں، بلکہ بہت سے گھروں کی روزمرہ تلخ حقیقت ہے۔ ہر لاپتا فرد کے پیچھے ٹوٹی ہوئی امیدیں، نامکمل رشتے، بچوں کے سوال اور برسوں سے دروازے پر ٹھہری منتظر نظریں موجود ہیں۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ لوگ کیوں لاپتا ہوتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ان کے لاپتا ہونے کے بعد اداروں کا کیا کردار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شہری قانون کی نظر میں ملزم یا مجرم ہے تو اس کے لیے آئین، عدالتیں اور باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ کسی شخص کو اس عمل سے باہر رکھنا اور اس کے خاندان کو لاعلمی کے اندھیرے میں چھوڑ دینا صرف فرد کی آزادی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ قانون کی حکمرانی اور ریاستی ذمہ داری پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جبری گمشدگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اس کا بوجھ صرف متاثرہ فرد نہیں اٹھاتا، بلکہ اس کا پورا خاندان بھی ایک ایسی غیر یقینی سزا کا سامنا کرتا ہے جس کی کوئی مدت مقرر نہیں ہوتی۔ کسی گھر میں دستک، خالی کرسی، ادھورا دسترخوان اور خاموش کمرہ مسلسل یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا ایک اہم حصہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ ہر عدد کے پیچھے ایک نام، ایک رشتہ، ایک گھر اور کئی ادھورے خواب ہوتے ہیں۔
پاکستان میں یہ مسئلہ انسانی حقوق، آئینی ضمانتوں اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک سنجیدہ قومی تشویش کا باعث رہا ہے۔ خیبر پختونخوا، سابق فاٹا، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور مختلف شہری علاقوں کے کئی خاندان اپنے پیاروں کی خبر کے لیے سرگرداں ہیں۔ ریاستی سلامتی یقیناً اہم ہے، مگر اگر کسی فرد پر الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ بے خبری اور غیر یقینی کی صورتِ حال کبھی بھی انصاف کا راستہ نہیں ہو سکتی۔
اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل تنازع اور عدم تحفظ نے اس دکھ کو اور گہرا کر دیا ہے۔ کئی کشمیری خاندان اپنے لاپتا عزیزوں کے انجام کی خبر کے منتظر ہیں۔ ان کے لیے گمشدگی کوئی مجرد اصطلاح نہیں، بلکہ سچ تک پہنچنے کی ایک تھکا دینے والی جدوجہد ہے۔ اہلِ خانہ کو اپنے پیاروں کے انجام اور مقام سے آگاہ ہونا ان کا بنیادی حق ہے، اور مؤثر و غیر جانب دارانہ تحقیقات ان کا اولین مطالبہ ہے۔
اس مسئلے کو سیاسی نعروں اور الزام تراشی سے بلند ہو کر محض ایک انسانی اور قانونی مسئلہ سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ متاثرہ خاندان کسی سیاسی جماعت یا نظریے سے پہلے انسان ہیں۔ 30 اگست کا دن بھی دنیا کو یہی پیغام دیتا ہے کہ کسی انسان کو غائب کر دینے سے اس کی یاد، اس کے رشتے اور پیچھے رہ جانے والی منتظر آنکھیں ختم نہیں ہوتیں۔ سوال آج بھی وہی قائم ہے کہ جو لوٹ کر نہیں آئے، ان کے منتظر لوگوں کو آخر کب جواب ملے گا؟














