جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے!!!

0
7
شبیر گُل

ظالمانہ لیوی ٹیکس کیخلاف جماعت اسلامی نے چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز اور وزیراعلیٰ ہاؤسز کے سامنے دھرنے دے رکھے ہیں۔ ان دھرنوں کی وجہ سے حکومتی صفوں میں اضطراب پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حمایتی چند صحافیوں کی جانب سے جماعت اسلامی پر تنقید ان کے صحافتی منصب اور غیر جانبداری کے منافی ہے۔ اگر ان دھرنوں کے ذریعے حکومت کو اشیائے ضرورت کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو اس میں بالآخر عام عوام ہی کا بھلا ہوگا۔ جن عناصر کو ان احتجاجی مظاہروں سے تکلیف ہو رہی ہے، ان کا عوام الناس سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کوئی ہمدردی۔ جماعت اسلامی کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ اس نے اپنے مطالبات ہمیشہ آئینی اور جمہوری انداز میں منوائے ہیں۔ ان کے جلسوں اور دھرنوں میں نہ تو توڑ پھوڑ ہوتی ہے اور نہ ہی گھیراؤ جلاؤ کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ محب وطن شہری نہ کسی کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں اور نہ گاڑیوں کو نذرِ آتش کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے حامی ہمیشہ تشدد اور لاشوں کی سیاست کرتے آئے ہیں، اسی لیے انہیں جماعت اسلامی کے اس پْرامن احتجاج پر اعتراض ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنوں میں شہری اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ خواتین کی بھی بڑی تعداد ان میں شریک ہوتی ہے۔ ان مظاہروں میں مکمل نظم و ضبط قائم رکھا جاتا ہے۔ یہ انتہائی منظم اور باادب احتجاج ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے، جو ہمیشہ جماعت اسلامی کا طرہ امتیاز رہا ہے۔
اس وقت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن قوم کی مؤثر آواز بن کر سامنے آئے ہیں۔ وہ مظلوموں کے ساتھی ہیں اور بے روزگاروں کے مسائل پر آواز بلند کرتے ہیں۔ وہ واحد رہنما ہیں جو بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی عیاشیاں اور اخراجات ختم کرنے کو تیار نہیں، جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ پیٹرول پر لیوی ٹیکس ایک طرح کا جگا ٹیکس ہے اور اسے ختم کرائے بغیر دھرنے ختم نہیں ہوں گے۔
حکمرانوں کے پروٹوکول، بلٹ پروف گاڑیوں، ہیلی کاپٹر کے استعمال، سیکیورٹی اور بھاری تنخواہوں کے اخراجات کا بوجھ بھی عوام ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہر سال خود مختار بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز کو ناجائز طور پر اربوں ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ چودہ سو ارب روپے میں ایک نیا ڈیم بن سکتا ہے، مگر ڈیم بنانے کے بجائے ہر سال پچیس سو ارب روپے ان آئی پی پیز کو بغیر بجلی حاصل کیے ادا کر دیے جاتے ہیں۔ اس طرح ملکی وسائل کو بے دردی سے لٹایا جا رہا ہے۔
ایوان میں بیٹھے نمائندے مراعات کے نام پر ملکی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر پاکستانی پارلیمنٹ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک رکنِ پارلیمنٹ کی ماہانہ تنخواہ ساڑھے تین ہزار ڈالر ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ نیپال میں رکنِ پارلیمنٹ کو چھ سو ڈالر، سری لنکا میں ایک ہزار ڈالر، بنگلہ دیش میں چودہ سو ڈالر اور بھارت میں ڈھائی ہزار ڈالر ملتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں صورتحال انتہائی ابتر ہے۔
تنخواہ کے علاوہ اراکینِ پارلیمنٹ اور ان کے خاندان کو نیلے پاسپورٹ، یومیہ دو ہزار روپے الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس اور تمام طبی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی ہوائی جہاز میں بزنس کلاس ٹکٹ، بذریعہ سڑک سفر پر پچیس روپے فی کلومیٹر اور ساڑھے گیارہ ہزار روپے یومیہ الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ ان تمام مراعات کو ملا کر ہر رکنِ پارلیمنٹ کو ماہانہ دس لاکھ روپے سے زائد ملتے ہیں۔
حکمران طبقہ مغرب کی تقلید اور لبرلزم کے نام پر سود اور منفی امور کو فروغ دیتا ہے۔ ماضی میں جن چیزوں کے ٹھیکے محدود تھے، اب وہ کھلے عام میسر ہیں۔ پہلے چوری اور ڈکیتی کی سخت سزائیں ہوتی تھیں لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ موجودہ کرپٹ عناصر عوام کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور دیگر قیادت انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے برعکس دیگر تمام سیاسی رہنما کروڑوں روپے کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، اربوں روپے کی جائیدادیں اور غیر ملکی بینک اکاؤنٹس رکھتے ہیں اور درجنوں سیکیورٹی گارڈز کے پروٹوکول میں رہتے ہیں۔ جن کی زندگی اس قدر پرتعیش اور شاہانہ ہو، وہ عام عوام کی کیا خدمت کریں گے۔
عوام نے سیاسی رہنماؤں کے علاوہ دیگر مذہبی رہنماؤں کے شاہانہ طرزِ زندگی کو بھی دیکھا ہے۔ مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی قیادت قیمتی گاڑیوں اور مراعات کے حصول میں مصروف ہے اور ان کا حقیقی دین اور سیاست سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ اگر عوام خاموش تماشائی بنے رہے تو ان کا حل ان پر مسلط کرپٹ سیاستدانوں کے پاس بالکل نہیں ہے، جنہوں نے جھوٹ اور منافقت کی سیاست کے سوا کچھ نہیں دیا۔
تمام بااثر عناصر مل کر ملکی وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو اس لوٹ مار کا احتساب کر سکے۔ عدالتوں کو مراعات دے کر خاموش کرایا جاتا ہے جبکہ اشرافیہ اپنے مفادات حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ ملک میں سروس مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ عہدیدار کروڑوں اور اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک بن جاتے ہیں اور یورپ یا امریکہ میں رہائش پذیر ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ سب سے زیادہ محبِ وطن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، بالآخر وہی ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
اللہ کے فضل سے اس ملک میں تمام وسائل موجود ہیں۔ زمین قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے لیکن ان قدرتی وسائل پر عام عوام کا کوئی حق نظر نہیں آتا۔ مقتدر طبقہ ان سے مستفید ہو رہا ہے جبکہ عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیا گیا ہے۔ قائد اعظم کے اقوال اور علامہ اقبال کے اشعار سنا کر حبِ وطنی کا مظاہرہ تو کیا جاتا ہے لیکن ان کے ذاتی مفادات، سرمایہ اور جائیدادیں ملک سے باہر ہیں۔
موجودہ نظام میں جمہوریت کی آڑ میں عامرانہ طرزِ حکومت قائم ہے، جہاں عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ اپنے مفادات کے لیے ووٹ کی عزت کو پامال کرنے والے عناصر آج اپنے موقف سے ہٹ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تعلیمی اداروں کا تقدس پامال ہوتا ہے تو حکومتی حامی صحافی بھی اس کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ نے ایک عسکری عہدیدار کی جانب سے تعلیمی ادارے میں کی جانے والی زیارتی پر کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ بصورتِ دیگر ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ احتجاج کریں گے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کی بات کرتی ہے اور تعلیمی اداروں میں لادینیت و قانون شکنی کی مخالفت کرتی ہے۔ یہ نوجوان پاکستان کا حقیقی سرمایہ اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں۔
پاکستان کی تقدیر صرف وہی لوگ بدل سکتے ہیں جو دل میں خوفِ خدا رکھتے ہوں اور جنہیں آخرت میں جوابدہی کا احساس ہو۔ عوام کو انصاف صرف وہی فراہم کر سکتے ہیں جن میں انسانیت کا درد موجود ہو۔ لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی تقدیر کے فیصلے ان بددیانت حکمرانوں کے ہاتھ میں نہ دیں۔
ایک بار جماعت اسلامی کو آزمائیے۔ اگر جماعت اسلامی کو موقع ملا تو بدعنوان عناصر کا بلا تفریق احتساب کیا جائے گا اور ملکی دولت لوٹنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مفاد پرست طبقہ جماعت اسلامی کی مخالفت کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں کرپٹ عناصر براجمان ہیں جبکہ چند زرخرید مذہبی عناصر بھی اپنے مفادات کی خاطر حق کا ساتھ نہیں دیتے۔ یہ عناصر قرآن و سنت کو پسِ پشت ڈال کر دنیاوی فائدے حاصل کر رہے ہیں اور جماعت اسلامی کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔
جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو کردار و افکار، امانت و دیانت، خدمتِ خلق اور اخلاقی اعتبار سے ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے وقت اللہ کے حضور جوابدہی کا احساس بیدار کیجیے۔ اہل، دیانت دار اور ان لوگوں کو منتخب کیجیے جو عوام کی عزتِ نفس کے محافظ، بے روزگاروں کے ساتھی اور مظلوموں کے ہمدرد ہوں۔
جماعت اسلامی نے پورے پاکستان میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے آئی ٹی کا ایک بہت بڑا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت بیس لاکھ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو جدید تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ آئندہ کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی ہنر مندی کے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ وہ ہنر حاصل کر کے باوقار روزگار کما سکیں اور اپنے خاندان کی بہتر خدمت کر سکیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو نظریاتی، محبِ وطن اور دیانت دار حکمران نصیب فرمائے، جنہیں ان چودہ لاکھ قربانیوں کا ادراک ہو جن کے لہو سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، آمین۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here