ادبی شخصیات اور ہم!! !

0
8
کامل احمر

مجھے دو شخصیات ہمیشہ یاد رہتی ہیں جنہوں نے مجھے لکھنے کی سوچ دی۔ ان میں ایک اچھوتے افسانہ نگار حمید کاشمیری ہیں اور دوسری شاعرہ پروین شاکر ہیں۔ پروین شاکر کا مجموعہ کلام آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ یہ مجموعہ مجھے خود انہوں نے نہیں بلکہ دبئی میں بڑے مشاعرے کرانے والے سلیم جعفری نے اس ہدایت کے ساتھ دیا تھا کہ میں اس کی حفاظت کروں خواہ پڑھو یا نہ پڑھوں۔
مجھے ابتدا ہی سے افسانوں کا شوق تھا اور شمع دہلی میرے اس ذوق کی تسکین کا باعث بنتا تھا، جو مجھے کراچی میں صدر کے کیپٹل سینما کے قریب واقع بک اسٹال سے مل جاتا تھا۔ وہاں میری دوستی کی بنیاد پڑی۔ اگرچہ وہ مجھے اتنا نہیں جانتے تھے کہ میں انہیں باقاعدہ دوست کہتا، لیکن رفتہ رفتہ وہ میرے دوست بن گئے۔
جب میں ان کے پاس تازہ شمارے کی کاپی لینے گیا تو اس وقت تک میں ان کے کئی افسانے پڑھ چکا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ میرا ہی انتظار کر رہے ہوں۔ انہوں نے مجھ سے میرا پورا نام پوچھا۔ میں نے اپنا ادبی نام کامل ادیب بدایونی بتایا تو وہ خوشی سے بول اٹھے کہ تم نے تو مجھے بھی پیچھے چھوڑ دیا، کیونکہ اس شمارے میں تمہارا افسانہ شائع ہوا ہے۔ یہ سن کر میں خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ ان دنوں میں کراچی سے نکلنے والے انگریزی روزنامے میں گرافک آرٹ سپروائزر کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ وہ مجھے دیکھتے رہے اور میں صفحات پلٹ کر اپنے افسانے الیاس جن اور اس پر اندر جیت کی مصوری کو غور سے دیکھتا رہا۔ دو صفحات پر شائع ہونے والا یہ افسانہ دیگر لوگوں کے لیے رشک و حسد کا باعث بنا۔
حمید کاشمیری جیسے نامور اور سینئر ادیب نے مجھ سے پوچھا کہ یہ افسانہ لکھنا کس سے سیکھا۔ میں نے جواب دیا کہ آپ کی کہانیوں سے، یعنی کہانی کے اختتام پر قاری کو چونکا دینے کا فن میں نے ان ہی سے مستعار لیا تھا۔ میں ان سے مسلسل ملتا رہا۔ بعد میں یہاں منتقل ہونے سے پہلے میں نے ان کا ایک افسانہ دوکان پڑھا تھا۔ جی چاہا کہ اسے چرالوں، لیکن میں نے اس سے متاثر ہو کر اپنا ایک نیا افسانہ تخلیق کیا۔ حمید کاشمیری کے افسانے دوکان سے ماخوذ اپنے اس افسانے الیاس جن کے بارے میں جب میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ تم شاید یقین نہ کرو، لیکن یہ ایک شاہکار افسانہ ہے اور کوئی باور نہیں کرے گا کہ یہ تمہاری تحریر ہے۔ انہوں نے مجھے ملاقاتیں جاری رکھنے کی تاکید کی۔
بڑے لوگوں کی صحبت انسان کو بہت کچھ عطا کرتی ہے۔ میری مراد ادیب، دانشور، شاعر اور لکھاری ہیں۔ سعادت حسن منٹو، قر? العین حیدر، عصمت چغتائی، ممتاز شیریں، جیلانی بانو، واجدہ تبسم اور احمد ندیم قاسمی جیسے قامات سے اگرچہ میری براہ راست ملاقات نہیں ہوئی، لیکن یہ تمام شخصیات کسی نہ کسی طور میری فکری مرشد رہی ہیں۔
آگ کا دریا کا کردار گوتم نیلامبر ایک ایسا صبر و ضبط رکھتا ہے جو آج کی نوجوان نسل میں مفقود ہے۔ یہی بات رابند ناتھ ٹیگور، منٹو، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس، انتظار حسین اور شوکت صدیقی کی تحریروں پر بھی صادق آتی ہے۔ شوکت صدیقی نے خدا کی بستی لکھ کر نہ صرف ادب میں بلند مقام حاصل کیا بلکہ پاکستان ٹیلی ویڑن کے ذریعے ایک پوری دنیا آباد کی۔ اسی طرح ان کی کہانی آنندی ماحول کی حقیقی پیداوار ہے، جس میں کسی ایک مرکزی کردار کے بجائے پورا شہر متحرک نظر آتا ہے۔
یہ تمام تخلیق کار روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس یا اسپین کے کسی بھی بڑے لکھاری سے کم تر نہیں تھے۔ اپنے اردگرد کے ماحول اور بسنے والے کرداروں پر لکھی گئی یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ اس دور کے لوگ کیسے تھے، ان کی وضع قطع کیا تھی، ان کے مسائل کیا تھے اور ان کی باہمی نوک جھونک کی نوعیت کیا تھی۔ واجدہ تبسم نے دکن کے نوابوں کی کارستانیوں کو کاغذ پر منتقل کیا اور ان کے احوال کی ایسی تصویر کشی کی جس سے ان نوابوں کے طرز زندگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جوش ملیح آبادی اگرچہ بنیادی طور پر شاعر تھے، لیکن اپنی آپ بیتی یادوں کی بارات میں انہوں نے نوابین دکن اور وہاں کی راتوں کا ذکر شب برات کے تسلسل سے کیا ہے۔
اسی طرح فنون لطیفہ کی سب سے اہم اور مقبول شکل سینما ہے جس سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ فلمیں دیکھنے کا شوق لڑکپن سے تھا۔ پاکستان کے علاقے جھڈو میں جب لکڑی کی چھت والا سینما کھلا تو اس کے مالک نے ہمیں فلم دیکھنے کے لیے بگھی بھیجی کیونکہ اس زمانے میں کاریں عام نہیں تھیں۔ ہم فلم دیکھنے گئے اور پردے پر بلیک اینڈ وائٹ میں فلم شروع ہوئی۔ اس کا نام ہنٹر والی تھا جس کی ہیروئن نادیا اور ان کے شوہر جان کاؤس تھے۔ وہ تیز رفتار ٹرین پر کھڑی ہو کر دشمنوں کا اپنے ہنٹر سے مقابلہ کرتی تھیں۔
اس کے بعد 1954 میں حیدرآباد میں فلم بادل دیکھی جس میں مدھوبالا اور پریم ناتھ شامل تھے۔ وہ ایک انگریزی فلم کی نقل تھی لیکن امید چکرورتی نے خوبصورتی سے اسے ہندوستانی قالب میں ڈھالا تھا۔ اس دور کی معروف فلموں میں انداز، آن، شاہجہاں اور آر پار دیکھنے کا موقع ملا۔
بعد میں متعدد پاکستانی فلمیں بھی دیکھیں۔ محمد علی اور شمیم آرا کی شاندار فلم آگ کا دریا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی فلم مجھے جینے دو کی نقل تھی، جبکہ مجھے جینے دو خود برطانوی فلم کی کاپی تھی۔ نہ سنیل دت کو اس کا علم تھا اور نہ ہی ہمایوں مرزا کو۔ جب ہم نے محمد علی کو اس حقیقت سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور یوں سینما بورڈ پر یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد فلم پاس ہوئی۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہمارے ادبی و ثقافتی سفر کا حصہ ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here