ترکیہ واسرائیل آمنے سامنے
طاقت کے نئے توازن پرامریکہ بہادر پریشان!!!
مشرقِ وسطیٰ کا خطہ دہائیوں سے کشیدگی، جنگوں اور سیاسی عدم استحکام کا شکار چلا آ رہا ہے، لیکن شام کے حالیہ حالات نے اس خطے میں ایک بالکل نئی اور انتہا درجے کی معرکہ آرائی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ترکیہ اور اسرائیل گہرے اسٹریٹجک اور عسکری اتحادی سمجھے جاتے تھے، جہاں مشترکہ مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استخباراتی معلومات کا تبادلہ روز مرہ کا معمول تھا، لیکن آج یہی دونوں ممالک شام کی سر زمین پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ دمشق کی پرانی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی اور عسکری خلا اب ایک ایسے طاقتور مقابلے کی میدانِ جنگ بن چکا ہے جس کا ایک طرف انقرہ ہے اور دوسری طرف تل ابیب۔ اسرائیل نے حال ہی میں ترکیہ کی سرحد سے صرف ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک اہم شامی ہوائی اڈے کو اپنے شدید ترین فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اگرچہ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں اور اسرائیلی فوج نے بھی حسبِ معمول اس پر کوئی کھلم کھلا بیان نہیں دیا، لیکن ان کارروائیوں کا حقیقی پیغام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ فضائی حملے محض ایک رن وے یا بارود کے ذخائر کو تباہ کرنے کے لیے نہیں تھے، بلکہ یہ انقرہ کی شام کے اندر بڑھتی ہوئی اسکری قوت اور اثر و رسوخ کو روکنے کی ایک کھلی کوشش کا حصہ لگتے ہیں۔ ترکیہ اس وقت نئی شامی فوج کو جدید تربیت دے رہا ہے، ریاستی اداروں کی بحالی کا بیڑا اٹھا چکا ہے اور نئی شامی قیادت کو سفارتی اور عسکری بنیاد فراہم کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل ترکیہ کی اس پیش قدمی کو اپنی شمالی سرحدوں پر ایک سنگین خطرے سے تعبیر کر رہا ہے۔
اسرائیل کی پالیسی اب صرف اپنی دفاعی حدود کی پاسبانی تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا ایک ایسا یکطرفہ توازن قائم کرنا چاہتا ہے جہاں کوئی دوسرا ملک اس کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہ رکھے۔ ماضی میں اگر اسرائیل شام میں ایرانی ٹھکانوں اور حزب اللہ کے مواصلاتی نظام کو نشانہ بناتا تھا تو اب منظر نامہ بالکل تبدیل ہو چکا ہے۔ ایران کا اثر و رسوخ شام کے اندر خاصا محدود ہو چکا ہے، مگر اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کمی کے بجائے شدت دیکھی جا رہی ہے کیونکہ اب اس کا اصل خدشہ ترکیہ کا بڑھتا ہوا وجود ہے۔ دوسری طرف گولان کی پہاڑیوں کا کلاسک تنازعہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور خاص طور پر امریکی سفارت کاری کے مرکز میں آ گیا ہے۔ سن 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل نے شام سے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا اور سن 1981 میں اسے یکطرفہ طور پر اپنے ملک میں ضم کر لیا، جسے اقوامِ متحدہ اور دنیا کی اکثریت نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ سن 2019 میں امریکی صدارتی انتظامیہ نے کئی دہائیوں پر محیط سفارتی روایات کو توڑتے ہوئے گولان پر اسرائیلی سیادت کو تسلیم تو کر لیا، لیکن حالیہ دنوں میں امریکی سفارت کاروں کے متضاد بیانات نے واشنگٹن کی اپنی پالیسی کے اندر موجود خلیج کو واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادیں گولان کو ایک مقبوضہ علاقہ قرار دیتی ہیں، وہاں امریکی پالیسی کا تضاد اس تنازعے کو مزید الجھا رہا ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی کے لیے اس وقت سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ ترکیہ ناتو کا دوسرا بڑا فوجی اتحاد رکھنے والا رکن ملک ہے جس کے پاس لاکھوں کی تعداد میں تربیت یافتہ فوج، جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی، اور تباہ کن طاقت موجود ہے، جبکہ اسرائیل امریکہ کا سب سے اہم اور قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہے۔ واشنگٹن کی بھرپور کوشش ہے کہ شام کے اندر ان دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان کوئی تصادم نہ ہو اور اسی لیے ایک خصوصی ملٹری میکانزم کے قیام پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی کو روکا جا سکے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی سفارت کاری اپنے دو اہم ترین اتحادیوں کو ایک دوسرے کے خلاف قوت کے استعمال سے روک پائے گی یا نہیں۔ اگر شام کی سرزمین پر ترکیہ اور اسرائیل کی افواج کے درمیان معمولی سی بھی جھڑپ ہوتی ہے تو یہ صرف دو علاقائی ممالک کی جنگ نہیں رہے گی بلکہ ناتو اور امریکہ کے پورے دفاعی ڈھانچے کے لیے ایک عظیم ترین امتحان بن جائے گی۔ اسرائیل کی حکمتِ عملی واضح طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تھانیدار کے طور پر خود کو منوانے کی ہے، لیکن عسکری برتری حاصل کر لینا اور خطے کے ممالک سے سیاسی قبولیت حاصل کرنا دو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ جب تک خطے کی بڑی طاقتیں اور عوام اس یکطرفہ غلبے کو تسلیم نہیں کرتے، پائیدار امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔ شام کی سر زمین پر آج جو نیا کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ مستقبل قریب میں مشرقِ وسطیٰ کا نیا نقشہ مرتب کرے گا، جس میں طاقت، سیاست اور تاریخ کا یہ تصادم پورے خطے کو تباہی کے ایک نئے دہانے پر لا سکتا ہے۔












