ایران پر معاشی بمباری…!!!

0
8
ماجد جرال
ماجد جرال

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ جدید دنیا میں کبھی میزائلوں سے حملہ ہوتا ہے، کبھی بینکوں کے ذریعے، کبھی پابندیوں کے ذریعے اور کبھی تیل و تجارت کی سپلائی لائنوں کو نشانہ بنا کر۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بھی اب اسی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں بمباری کے بعد معیشت کو میدانِ جنگ بنایا جا رہا ہے۔ واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی اور وسیع معاشی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اس کے مالی، تجارتی، شپنگ اور تیل کے شعبوں کو مزید دباؤ میں لانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
اصل تشویش صرف ایران کی معیشت نہیں، بلکہ اس جنگ کے عالمی معیشت تک پھیلنے کی ہے۔ امریکہ اب ان ممالک اور کمپنیوں کو بھی دباؤ میں لانے کی دھمکی دے رہا ہے جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایران کی جنگ براہِ راست امریکہ اور ایران سے نکل کر عالمی تجارت کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔
سب سے بڑا سوال تیل کا ہے۔ ایران دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اگر جنگ یا پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہو سکتا ہے۔ تیل مہنگا ہوگا تو صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوگا، بلکہ ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت، خوراک اور تقریباً ہر چیز کی قیمت پر اثر پڑے گا۔ موجودہ بحران میں تیل کی قیمت پہلے ہی جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔
لیکن اس معاشی جنگ کا سب سے اہم اور خطرناک کردار چین کا ہے۔ چین ایران کا بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے دباؤ کے باوجود چین اور ایران کے درمیان تیل کی تجارت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی نئی پابندیاں دراصل صرف تہران کو نہیں بلکہ بیجنگ کو بھی ایک مشکل فیصلے کے سامنے لا رہی ہیں۔
یہاں سے معاملہ محض ایران بمقابلہ امریکہ نہیں رہتا بلکہ امریکہ اور چین کی معاشی طاقت کا مقابلہ بھی بن سکتا ہے۔ اگر چین نے امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران سے تجارت جاری رکھی اور واشنگٹن نے چینی بینکوں، کمپنیوں یا مالیاتی اداروں پر پابندیاں لگائیں تو عالمی تجارت میں ایک نیا معاشی محاذ کھل سکتا ہے۔
چین کوئی معمولی معاشی کھلاڑی نہیں۔ دنیا کی بڑی معیشت، صنعتی پیداوار، تجارت اور سپلائی چین میں اس کا کردار اتنا بڑا ہے کہ چین کے ساتھ وسیع معاشی محاذ آرائی کے اثرات امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ پہلے ہی امریکہ اور چین کے درمیان تجارت اور ٹیرف کے معاملات میں کشیدگی موجود ہے اور ایران کا بحران اس کشیدگی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
اگر چین، روس، ایران اور دیگر ممالک امریکی ڈالر کے بجائے اپنی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو عالمی مالیاتی نظام میں بھی تبدیلی کی بحث تیز ہو سکتی ہے۔ یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئے گی، مگر مسلسل پابندیوں اور معاشی جنگوں سے ممالک متبادل مالیاتی راستے تلاش کرنے پر مجبور ضرور ہو سکتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ بحران معمولی نہیں۔ تیل کی قیمت میں اضافہ، ڈالر کی مضبوطی، درآمدی بل میں اضافہ اور عالمی مہنگائی براہِ راست ہماری معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ عام آدمی کے لیے اس کا مطلب پٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید دباؤ ہو سکتا ہے۔
خطرناک بات یہ ہے کہ اگر جنگ کا اختتام مذاکرات سے نہ ہوا تو یہ معاشی جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔ آج ایران نشانہ ہے، کل اس کے تجارتی شراکت دار بھی دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ ایران کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس معاشی جنگ کی قیمت دنیا کتنی ادا کرے گی۔
جنگ میں میزائل گنے جا سکتے ہیں اور تباہ شدہ عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں، مگر عالمی معیشت کو پہنچنے والا نقصان اکثر بہت دیر سے نظر آتا ہے۔ شاید ایران جنگ کا اگلا باب میدانِ جنگ سے زیادہ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، بینکوں اور تجارت کی میز پر لکھا جائے گا، اور اگر چین بھی اس معاشی جنگ میں پوری طاقت سے اتر آیا تو پھر یہ صرف امریکہ اور ایران کی جنگ نہیں رہے گی بلکہ یہ عالمی معاشی نظام کی سمت طے کرنے والی جنگ بن سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here