برصغیر کی عوامی دانش میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ” نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی”۔ یہی جملہ آج کی عالمی سیاست کے اسٹیج پر ایک عجیب سی بازگشت کے طور پر سنائی دیتا ہے جہاں کردار بدل گئے ہیں مگر کھیل وہی پرانا ہے۔ اگر تاریخ کے دریچے کھولے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہاوت محض ایک دیہاتی قصہ نہیں بلکہ انسانی رویوں کی نفسیات کا آئینہ ہے۔ جب مطالبات حقیقت سے بڑے ہو جائیں اور ضد عقل پر غالب آ جائے تو معاملات سلجھنے کے بجائے الجھتے چلے جاتے ہیں۔ یہی کیفیت آج دنیا کے دو اہم کرداروں کے بیچ بھی دیکھی جا سکتی ہے جہاں الفاظ بارود سے زیادہ گرم اور اعلانات میزائلوں سے زیادہ دور تک سفر کرتے ہیں۔
عالمی سیاست کا یہ منظر کسی تھیٹر سے کم نہیں۔ ایک جانب طاقت کا مظاہرہ ہے تو دوسری طرف مزاحمت کا بیانیہ، اور ان دونوں کے درمیان ایک ایسا مکالمہ جاری ہے جس میں الفاظ کی گونج زیادہ ہے اور معنی کی روشنی کم۔ ایسا لگتا ہے جیسے دو خطیب ایک ہی اسٹیج پر کھڑے ہوں مگر دونوں کے مائیک الگ الگ دنیاؤں میں جڑے ہوں۔ امریکہ کی پالیسیوں میں ایک استادانہ سختی جھلکتی ہے جیسے کوئی معلم نافرمان شاگرد کو راہ راست پر لانے کے لیے کوشاں ہو، جبکہ دوسری طرف ایران کی حکمت عملی میں ایک ایسی شعری ضد ہے جو اپنے موقف سے ایک لفظ بھی کم کرنے کو تیار نہیں۔ اس ٹکراؤ کا نتیجہ یہ ہے کہ بات چیت کا دریا بہنے کے بجائے جگہ جگہ رکاوٹوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔
اس ساری صورتحال کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دونوں طرف کے بیانیے اپنے اپنے عوام کے لیے الگ الگ حقیقت تخلیق کرتے ہیں۔ وہاں خبریں ایسے سنائی جاتی ہیں جیسے کامیابی کے جشن کی تیاری ہو رہی ہو اور یہاں ایسے بیان دیے جاتے ہیں جیسے مزاحمت کی نئی داستان لکھی جا رہی ہو۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں خاموش کھڑی مسکرا رہی ہوتی ہے۔ اگر اس منظر کو ذرا مزاحیہ زاویے سے دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دو ضدی بچے ایک کھلونے پر جھگڑ رہے ہوں اور آس پاس کھڑے بڑے لوگ انہیں سمجھانے کے بجائے خود ہی بحث میں کود پڑے ہوں۔ ہر کوئی اپنی آواز بلند کر رہا ہے مگر کوئی سننے کو تیار نہیں۔ اس شور میں سب سے زیادہ نقصان اس خاموشی کا ہوتا ہے جو کسی بھی پائیدار سمجھوتے کی بنیاد بن سکتی تھی۔
ادھر عالمی معیشت اس کشمکش کو ایسے دیکھتی ہے جیسے کوئی حساس دل والا شخص خوفناک فلم دیکھ رہا ہو جہاں ہر لمحہ یہ خدشہ رہتا ہے کہ اگلا منظر کیا لے کر آئے گا۔ تیل کی قیمتیں، تجارتی راستے اور علاقائی استحکام سب اس غیر یقینی کیفیت کے سائے میں لرزتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو اس وقت دانش کی ضرورت ہے، ضد کی نہیں۔ مکالمے کی ضرورت ہے، مقابلے کی نہیں۔ اگر اسٹیج پر موجود کردار اپنے اپنے اسکرپٹ سے تھوڑا سا ہٹ کر ایک دوسرے کی بات سن لیں تو شاید یہ ڈرامہ کسی مثبت انجام تک پہنچ جائے۔ ورنہ فی الحال تو عالمی اسٹیج پر پردہ اٹھا ہوا ہے، کردار اپنی اپنی جگہ موجود ہیں اور مکالمے جاری ہیں مگر کہانی آگے بڑھنے کے بجائے ایک ہی منظر میں پھنسی ہوئی ہے۔ ناظرین یعنی ہم سب اسی امید میں بیٹھے ہیں کہ شاید 2026 کا یہ سال کوئی نیا موڑ لے کر آئے۔
٭٭٭















