پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ گھر میں ماں کا وجود بھی جنت سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ ماں کے ہونے سے انسان کے دل میں جو تحفظ اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے وہ نا قابلِ بیان ہے۔ اس نعمت کا حقیقی احساس اس وقت ہوتا ہے جب لوگ رزق کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں، یا جب کسی کی والدہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، اور یوں ہی شادی کے بعد جب بیٹیاں دوسرے گھروں میں منتقل ہو کر مختلف پابندیوں اور روک ٹوک کا سامنا کرتی ہیں۔
مکان چاہے کتنی ہی خوبصورت سجاوٹ سے مزین کیوں نہ ہو، گھر اصل میں تب ہی گھر لگتا ہے جب وہاں ماں نظر آئے۔ ماں کا کچن سب کے لیے کھلم کھلا ہوتا ہے جہاں دودھ کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی چائے کی پتی کا کوئی حساب رکھا جاتا ہے۔ ماں کے کچن میں جب چاہیں برتن واش بیسن میں رکھ دیں یا دیسی گھی کے پراٹھے کی فرمائش کر دیں۔ وہاں کسی قسم کی روک ٹوک نہیں ہوتی؛ چاہے چوکی پر بیٹھ کر لال ڈبے سے گْڑ چکھ لیا جائے یا آتے جاتے مونگ پھلی کھا لی جائے، ماں کبھی یہ نہیں پوچھتی کہ پنیر کہاں گیا یا پھل کس نے کھائے۔
ماں کا کچن اگر صرف دو چولہوں پر بھی مشتمل ہو تو وہ پورے کنبے کا سالن تیار کر لیتا ہے، اور اس کا تندور چھوٹا سا ہونے کے باوجود سب کے لیے روٹی کی فراہمی ممکن بنا دیتا ہے۔ ماں کے کچن کی موجودگی انسان کی حقیقی امیری کی علامت ہے، کیونکہ رات کے دو بجے بھی گھر لوٹنے پر گھڑے کا ٹھنڈا پانی، کپڑے میں لپٹی تازی روٹی اور لذیذ نمکین سالن دستک دئیے بغیر مل جاتا ہے۔ ہر ماں سونے سے پہلے اپنی مسافر اولاد کا کھانا سنبھال کر رکھ دیتی ہے، تاکہ جب بھی وہ نادان گھر لوٹے اور سیدھا کچن کا رخ کرے تو اسے پورا یقین ہو کہ ماں کبھی اپنی اولاد کو بھوکا نہیں سونے دیتی۔
جن لوگوں کی مائیں بقیدِ حیات ہیں انہیں اس عظیم نعمت کی قدر کرنی چاہیے، اور جن کی مائیں اس فانی دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت اور بخشش فرمائے، آمین۔
ماں تیرے بعد بتا کون لبوں سے اپنے
وقتِ رخصت میرے ماتھے پہ دعا لکھے گا
٭٭٭













