کبھی تو پلٹے گا پانسہ تو کس گمان میں ہے !!!

0
7

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی بہنوں کی ایک حالیہ پریس بریفنگ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بہتر نہیں ہو سکے۔ مقتدرہ اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے بجائے بظاہر مزید کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اپنی پسند کی عدالت بنانے کے باوجود، عدالتی احکام کو تسلیم کرنا اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اور سیاسی قیدیوں میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ تحریکِ انصاف کی سیاسی قوت کو بزورِ شمشیر منتشر اور اس کے تنظیمی ڈھانچے کو تہس نہس تو کر دیا گیا، لیکن عوام کے دلوں میں نفرتوں اور کدورتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بغضِ عمران کے حامل اور مقتدرہ سے فوائد حاصل کرنیوالے عناصر، عمران خان کی قیدِ تنہائی اور ان کی بگڑتی صحت کو مکافاتِ عمل قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس دلیل کو تسلیم کر لیا جائے تو تاریخ کے تمام مظلومین پر ہونیوالے مظالم بھی مکافاتِ عمل کے زمرے میں آ جائیں گے، اور جابر و قابض حکمرانوں کے خلاف مزاحمت اور آزادی کی تحریکیں اپنا جواز کھو بیٹھیں گی۔ حسرت دیوبندی نے دریں حالات کیا خوب کہا ہے کہ
یہ اقتدار کا پنچھی ابھی اڑان میں ہے
مزاج اس لیے ظالم کا آسمان میں ہے
ظلم کے اسی مزاج کا شاخسانہ ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے زیادہ تر لوگوں کے ساتھ ساتھ کشمیر اور گلگت بلتستان کے رہنے والے بھی اب بے چین ہیں۔ معیشت کی بدحالی کے باعث سندھ اور پنجاب کی مڈل کلاس بھی شدید پریشان ہے۔ پورے ملک کی صنعت و تجارت کسی انہونی کی منتظر دکھائی دیتی ہے۔ حکومتِ وقت کی اہلیت پر تو ہمیشہ ہی سوالیہ نشان رہے ہیں، لیکن اس وقت عدلیہ پر اعتماد کا فقدان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ سرمائے کی منتقلی اور سرمایہ کاری رک چکی ہے جبکہ بے روزگاری اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ بقول شاعر،
تھم گئی ہے زندگی، رک گیا ہے کارواں
اب نہ کوئی راستے ہیں، نہ کوئی ہم سفر یہاں
پاکستان میں جمود کی اس کیفیت کا آغاز اپریل 2022ء میں ہوا تھا اور اب ساڑھے چار سال گزرنے کے باوجود بھی اس میں روانی کی بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ آئین شکنی تو پہلے بھی ہوتی رہی ہے، لیکن اس مرتبہ بڑی ترامیم کے ذریعے 1973ء کے آئین کا حلیہ ہی مکمل طور پر بگاڑ دیا گیا ہے۔ فارم 45 سے فارم 47 تک کا سفر اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ اس موضوع پر کسی سنجیدہ محفل میں شائستہ گفتگو کرنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا التوا پورے معاشرے کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ اقتدار کی منتقلی کا کوئی نہ کوئی مہذب طریقہ اپنانا ہوگا، ورنہ حبیب جالب کے الفاظ یاد آتے ہیں،
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
حالیہ واقعات انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ مقتدرہ اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھوں کی پستیوں میں گرتے گرتے ایسی گہرائیوں تک پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی شاید اب اس کے بس میں نہیں رہی۔ الطاف حسین کا معاملہ مقتدرہ کا اپنا پیدا کردہ مصنوعی مسئلہ تھا، جسے ایک وقت میں نمٹانا آسان تھا، اگرچہ ان سے وابستگی رکھنے والے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ اس کے برعکس عمران خان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1996ء سے ایک طویل عرصے تک تحریکِ انصاف پورے وفاق کی سیاست کرتی رہی۔ 2011ء میں جب مقتدرہ کے کچھ عناصر کی حمایت حاصل ہوئی تو اس سے فائدہ ضرور اٹھایا گیا، لیکن اقتدار میں آ کر حقیقی آزادی کا ایسا نعرہ لگایا گیا جس نے مقتدرہ کی بنیادیں ہلا دیں۔ 2018ء کے انتخابات کے وقت عمران خان کی مقبولیت چالیس سے پینتالیس فیصد کے قریب تھی، جو آج نوے فیصد کے ارد گرد دکھائی دیتی ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ مقتدرہ اس سیاسی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہے اور مسلسل غلطیاں کر رہی ہے۔ اب شدید خطرہ یہ ہے کہ پرامن سیاست تشدد کے راستے پر نہ نکل جائے، کیونکہ اگر عام لوگ ہتھیار اٹھا لیں گے تو خانہ جنگی ہی خطے کا مقدر بن جائے گی۔ احمد فراز نے اس کیفیت کا ذکر یوں کیا ہے کہ
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فراز
رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
مقتدرہ کے لیے اپنی پالیسیوں پر بازپرس کرنے اور قوم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا یہی مناسب وقت ہے۔ اپنی قوم کے فیصلے قبول کرنا کسی غیر کی غلامی سے یقیناً بہتر ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ مقتدرہ، کسی فردِ واحد کے بجائے جماعت اسلامی جیسے منظم اور آئینی ادارے کے سامنے ضوابط کے تحت اقتدار مکمل طور پر منتقل کرے۔ یہ انتقالِ اقتدار مکمل ہونا چاہیے، ضیاء الحق کے دور کی طرح جزوی نہیں، اور نہ ہی 1988ء کی اسلامی جمہوری اتحاد والی صورتِ حال ہونی چاہیے جہاں سیاسی امور میں مداخلت جاری رہے۔ اسی طرح یہ متحدہ مجلسِ عمل جیسا تجربہ بھی نہیں ہونا چاہیے جہاں انتظامی ناکامیوں کا بوجھ سیاسی جماعتوں پر ڈال دیا جاتا تھا۔ مقتدرہ کے لیے یہ ادراک ضروری ہے کہ خفیہ اداروں اور مصنوعی عہدوں کے ذریعے حکمرانی کا زمانہ بیت چکا ہے۔ اس نئے دور کی کڑوی حقیقت یہی ہے کہ جبر کا فارمولا اب مزید نہیں چل سکتا۔
آئیے، احمد ندیم قاسمی کی اس دعا میں شرکت کریں،
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here