حقیقی زندگی اور مقصد حیات…!!!

0
8

یہ بات سچ ہے، لیکن افسوس کہ آج کے لوگ دنیا میں اتنے مشغول ہو گئے ہیں کہ اصل مقصدِ زندگی کو بھول بیٹھے ہیں۔ خرچ بڑھ گیا یا کم ہو گیا، کوئی ٹیم جیت گئی یا ہار گئی، فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر سمیت تمام ذرائع ابلاغ و تفریح چل رہے ہیں۔ لیکن انسان اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھول گیا کہ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے، اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ہم یہ بھی بھول گئے کہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے۔ ہم یہ بھی بھول گئے کہ زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے، اور صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی، جو بزرگی اور عزت والی ہے۔ نیز ہم یہ بھی بھول گئے کہ موت کی سختی حق کے ساتھ آ پہنچے گی، اور یہی وہ چیز ہے جس سے انسان بچتا پھر رہا تھا۔
انسان کو چاہیے کہ اپنی عقل سے کام لے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دنیا کی زندگی اسے دھوکے میں نہ ڈالے۔ میچ صرف 90 منٹ کا، ڈرامہ 60 منٹ کا، فلم 130 منٹ کی اور نماز صرف 5 منٹ کی ہے، لیکن جنت اور جہنم ہمیشہ کے لیے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو واٹس ایپ پر 300 دوست، فون میں 80 دوست اور محلے میں 50 دوست ہوتے ہیں، مگر مشکل وقت میں صرف 1، جنازے میں صرف اہلِ خانہ اور قبر میں انسان اکیلا ہوتا ہے۔ یہی زندگی کی حقیقت ہے، اور آخرکار صرف نماز اور نیک اعمال ہی کام آئیں گے۔ اگر قرآن پر گرد جمی ہوئی نظر آئے تو اپنے حال پر افسوس کرنا چاہیے، کیونکہ قرآن کو چھوڑ دینا بہت بڑی محرومی ہے۔
روزانہ جنازے اٹھتے ہیں اور ایک کے بعد دوسری موت کی خبر آتی ہے۔ کوئی حادثے میں، کوئی بیماری میں اور کوئی اچانک دنیا سے چلا جاتا ہے، اور سب دنیا کو پیچھے چھوڑ کر مٹی کے نیچے جا چکے ہیں۔ ایک دن سب کا وقت آئے گا، لہٰذا اس سفر کی تیاری کر لینی چاہیے جس سے واپسی ممکن نہیں۔
جو شخص یہ کہہ کر توبہ مؤخر کرتا ہے کہ وہ ابھی جوان ہے، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ قبروں پر یہ نہیں لکھا ہوتا کہ یہ صرف بڑوں کے لیے ہیں۔ دنیا صرف تین دنوں کا نام ہے: کل گزر گیا اور وہ واپس نہیں آئے گا، آج کا دن میسر ہے اور یہ بھی باقی نہیں رہے گا، جبکہ کل کا علم نہیں کہ انسان کہاں ہوگا۔ لہٰذا لوگوں کو معاف کرنا، صلہ رحمی کرنا، صدقہ دینا اور نیکی کے کام کرنا ضروری ہے، کیونکہ سب کو ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ اے اللہ، ہمیں حسنِ خاتمہ عطا فرما، جنت میں کامیابی نصیب فرما اور جہنم سے نجات عطا فرما، آمین۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص جس چیز پر زندگی گزارتا ہے، اسی پر اس کی موت آتی ہے، اور جس حالت میں وہ مرتا ہے، اسی حالت میں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ سڑکیں، بازار، بینک، جامعات، کافی شاپس، ریستوران اور اسٹیڈیم بھرے ہوئے ہیں، لیکن اکثر مساجد خالی نظر آتی ہیں۔ صدقہ جاریہ کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ موبائل اور سماجی رابطوں کے ذرائع سے صحیح اور مستند دینی باتیں پھیلائی جائیں، کیونکہ جو شخص کسی کی وجہ سے نیکی کرے گا، اسے بھی اس کا اجر ملے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت، نیک عمل اور حسنِ خاتمہ عطا فرمائے، آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here