قارئین اور عزیزانِ وطن! یومِ پاکستان کے حوالے سے وطنِ عزیز سے لے کر جہاں جہاں عزیزانِ وطن آباد ہیں، سب نے یومِ پاکستان کے جشن میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ نیویارک کے ہر گلی محلے میں مقامی رہنماؤں نے جشن منایا، جبکہ سب سے بڑا شو رئیسِ شہر قمر بشیر صاحب کی پاکولی نے سجایا۔ قمر بشیر نے اپنی نحیف صحت کے باوجود اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بڑے بڑے نام نہاد رہنماؤں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے نامور فنکاروں کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کیا، اور ایک عینی شاہد کے مطابق مشہور میلے ٹھیلوں کی رقاصہ بالی جٹی کے بیٹے بالا ڈگڈْڈگڈْ نے اپنے فن سے ہزاروں کے ہجوم کے دل گرمائے اور خوب داد حاصل کی۔ اتنے بڑے پروگرام کا انعقاد کرنے پر قمر بشیر صاحب تحسین کے مستحق ہیں۔ بالآخر بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے یہ تمام تقاریب اور میلے اپنے اختتام کو پہنچے۔ پاکستان زندہ باد۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! اب بات کرتے ہیں ملکی سیاست کی، جہاں موجودہ حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی علالت کے معاملے پر ایک بڑا بلنڈر کیا۔ اس ناہل حکمرانی اور معاشی بدحالی نے کروڑوں عوام کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم کر رکھا ہے، حالانکہ آج ملک کو امن اور استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ مزید برآں، نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بھی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ جو لوگ مقتدر حلقوں کے اشاروں پر چلتے ہیں، وہ بھی صوبے بنانے میں تاخیر کا شکار ہیں، حالانکہ ملک کا انتظام بڑی حد تک غیر سیاسی اور مقتدر حلقوں کی رہنمائی میں چل رہا ہے۔ نام نہاد حکمران ایوانوں میں بیٹھ کر جمہوریت کا رونا روتے ہیں اور صوبے نہ بننے کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں، جبکہ یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظامی اختیارات رکھنے والے ادارے چاہیں تو ملک کی بہتری کے لیے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ موجودہ سیاسی حکمرانوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ایسے کسی فیصلے کی مخالفت کر سکیں، جبکہ عوام جو موجودہ اتحادی حکومتوں کی کارکردگی سے ناامید ہیں، اس قسم کے اقدامات کا خیرمقدم کریں گے۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! مقتدر حلقوں کی قیادت ایک بار پھر اہم خارجہ دوروں اور سفارتی امور میں متحرک نظر آتی ہے۔ دعا ہے کہ ان کی کوششیں بارآور ثابت ہوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم ہو سکے۔ عالمی اور علاقائی کشیدگی کے باعث معاشی ہیجان قائم ہے اور مہنگائی نے نہ صرف پاکستان کے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان اہم نوعیت کے دوروں اور فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی حکومت کی حیثیت کتنی محدود ہے۔ آج ملک کو ایک واقعی مستحکم حکومت کی ضرورت ہے، اور یہ مقصد صرف شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تمام سیاسی فریقین پر عائد بے جا پابندیاں ختم ہونی چاہئیں تاکہ عوام ایک بار پھر آزادانہ طور پر اپنے رائے دہی کے حق کا استعمال کر سکیں۔ انتخابات سے قبل صوبائی ازسرِ نو تنظیم کا اعلان بھی اہم ہے تاکہ وسائل پر قابض مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ یہ اقدامات پاکستان کے استحکام کے لیے لازمی ہیں اور اس سلسلے میں عوام کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان زندہ باد۔











