عالمی سیاست کا پنڈولم ایک بار پھر ایک ایسی خوفناک تباہی کی طرف جھول رہا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ تاریخ ہمیشہ اس بات کی شاہد رہی ہے کہ جب جب بھی کسی عالمی طاقت نے اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کے لیے جبر و استبداد کا سہارا لیا، تب تب اس کے نتائج پورے سیارے کو بھگتنے پڑے۔ واشنگٹن کی موجودہ انتظامیہ نے تہران کے خلاف جس جدید معاشی محاصرے کا ڈھول پیٹا ہے اور جسے انتہائی فخر کے ساتھ معاشی حملہ یا ڈی ڈے کا نام دیا جا رہا ہے، وہ دراصل ایک ایسا فتنہ ہے جو عالمگیر جنگ کے شعلوں کو ہوا دے رہا ہے۔ تہران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے، اس کے تیل کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے اور اس کی معیشت کا سانس گھوٹنے کا یہ غیر انسانی منصوبہ محض ایک ریاست کو دباؤ میں لانے کی کوشش نہیں بلکہ ایک کھلم کھلا اعلانِ جنگ ہے۔ تاہم اس بار خلیج فارس کا یہ قدیم ملک چپ چاپ تباہی کا نظارہ کرنے کے بجائے ایک ایسی خوفناک جوابی حکمتِ عملی کے ساتھ سامنے آیا ہے جس نے عالمی رہنماؤں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
امریکی پالیسی ساز اس خام خیالی میں مبتلا تھے کہ گزشتہ دہائیوں کی طرح اس بار بھی محض مالیااتی قدغنوں، جہاز رانی پر پابندیوں اور ثانوی معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو گھٹنوں کے بل لایا جا سکے گا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کو دیوار سے لگا دیا جائے تو اس کے پاس مقابلے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ تہران کا جواب اس بار پہلے سے کہیں زیادہ سخت، واضح اور ناقابلِ برداشت ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کی معیشت کا گلا گھوٹا گیا اور اسے بین الاقوامی تجارت سے محروم کیا گیا تو پھر دنیا کے کسی دوسرے ملک کا تیل بھی آبرائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے نہیں گزر سکے گا۔ یہ محض ایک جذباتی دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسی زمینی حقیقت ہے جو پوری دنیا کو توانائی کے شدید ترین بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ کرہ ارض کی بیس فیصد سے زائد تیل کی ترسیل جس تنگ سمندری راستے پر منحصر ہے، وہاں اگر تناؤ بڑھتا ہے تو اس کا نتیجہ تیل کی قیمتوں میں ایسے ہوشربا اضافے کی صورت میں نکلے گا جس کا خمیازہ نہ صرف مغربی دنیا بلکہ تمام درمیانے اور غریب ممالک کو بھگتنا پڑے گا۔
اس معاشی کشمکش کا سب سے خطرناک پہلو وہ عسکری تبدیلی ہے جو تہران کے دفاعی ایوانوں میں وقوع پذیر ہو چکی ہے۔ ماضی کے برعکس، جہاں ایران کا دفاعی فلسفہ حملے کے بعد جوابی کارروائی پر مبنی تھا، اب اس نے پیشگی حملے کا باقاعدہ اصول اختیار کر لیا ہے۔ یعنی اب دشمن کے کسی بھی ممکنہ یا متوقع حملے کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی ضرب لگانے کی حکمتِ عملی وضع کر لی گئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات تہران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے سے الگ ہونے کا باضابطہ اشارہ ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور عالمی معاہدوں کی موجودگی کے باوجود جب کسی ملک پر مسلسل فوجی اور معاشی حملوں کی تلوار لٹکائی جائے گی تو وہ اپنے بقا کے لیے آخری حد تک جانے پر مجبور ہو جائے گا۔ ایران کے پاس پہلے سے ہی انتہائی درجے تک غنی شدہ یورینیم کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور عالمی ماہرین کا متفقہ جائزہ ہے کہ اگر وہ بین الاقوامی نگرانی کو خیرباد کہتا ہے تو محض چند ہفتوں کے اندر ایک باقاعدہ ایٹمی قوت بن کر ابھر سکتا ہے۔ یوں واشنگٹن کی جس پالیسی کا مقصد ایران کو ایٹمی بم سے روکنا تھا، وہی پالیسی اسے بم بنانے کے لیے مجبور کر رہی ہے۔
اس تمام تر ڈرامائی صورتحال میں اگر امریکی معیشت کا اپنا جائزہ لیا جائے تو واشنگٹن کا یہ معاشی ڈی ڈے خود اس کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف نظر آتا ہے۔ چوبیس اگست ٦٢٠٢ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے اپنے ہنگامی تیل کے ذخائر چوتھائی صدی کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر خلیج فارس سے تیل کی فراہمی ذرا سی بھی متاثر ہوتی ہے تو امریکہ کے پاس محض چند ہفتوں کی توانائی باقی رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ چالیس ٹریلین ڈالر سے زائد کے ملکی قرضے تلے دبے ہوئے امریکہ کے لیے سود کی بلند شرحیں اور بڑھتی ہوئی افراطِ زر ایک ایسا داخلی بم بن چکی ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ امریکی ٹریڑری بانڈز پر مسلسل بڑھتی ہوئی شرحِ سود اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کار بھی اب امریکہ کے اس جنون کو انتہائی خطرناک سمجھ رہے ہیں۔ امریکہ کی اس طاقتور مہم کے سامنے چین جیسی دوسری بڑی عالمی طاقت کا ڈٹ جانا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب یک قطبی تسلط سے نکل چکی ہے۔ چین نے یکطرفہ پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے اس عالمی معاشی جنگ کا دائرہ کار مزید پھیل رہا ہے۔
خارجہ امور کے غیر جانبدار تجزیہ کار اب کھلم کھلا خبردار کر رہے ہیں کہ جب ڈپلومیسی کے تمام راستے مسدود کر دیے جائیں اور کسی ملک کو مکمل تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا جائے تو معاشی ناکہ بندی کا نتیجہ بالآخر ایک خونریز جنگ کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود اس کے فوجی اڈے اور اس کے اتحاد یوں کی معیشتیں اس آگ سے محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔ طاقت کے زعم میں کیے گئے معاشی فیصلوں نے ہمیشہ دنیا کو بڑی تباہیوں کی طرف دھکیلا ہے اور آج بھی اگر عقل و دانش سے کام نہ لیا گیا تو معاشی ڈی ڈے کے نام پر شروع کی جانے والی یہ مہم پوری دنیا کو ایک ایسی عالمی اور ایٹمی ہولناکی میں جھونک دے گی جہاں نہ کوئی فاتح ہوگا اور نہ ہی کوئی مفتوح۔
٭٭٭











