بسم اللہ الرحمن الرحیم کی برکات!!!

0
17

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بعض چھوٹی چیزوں اور مختصر نیکیوں سے بڑی برکت عطا کی ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی اسی میں شامل ہے۔ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد حاصل ہوتی ہے، اور اس چھوٹی سی آیت میں اس قدر طاقت ہے کہ کوئی عام مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہمارے پاس بسم اللہ الرحمن الرحیم جیسی قوت و طاقت ہونے کے باوجود اگر ہم مایوس ہوتے ہیں تو یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی فضیلت کے بارے میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاوہ کسی نبی پر ایسی آیت نہیں اتری، اور وہ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے، ہوا ئیں ساکن ہو گئیں، سمندر ٹھہر گیا، جانوروں نے کان لگا لیے اور شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے۔ پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہو گی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے 19 داروغوں سے جو بچنا چاہتا ہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے، اس کے بھی 19 حروف ہیں اور ہر حرف ہر فرشتے سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیگا۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ آنحضرت کی سواری پر آپ کے پیچھے جو صحابی سوار تھے، ان کا بیان ہے کہ حضور اکرم کی اونٹنی ذرا پھسلی تو میں نے کہا کہ شیطان کا ستیاناس ہو۔ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کیونکہ اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا ہے، بلکہ بسم اللہ شریف پڑھنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل وپست ہو جاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ہر اہم کام جو اللہ کی حمد و ثناء سے شروع نہ کیا جائے وہ ناقص اور بے برکت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنا دراصل اس کی اطاعت و فرماں برداری کا اعلان ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے، کیونکہ یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ سب کچھ دینے والا صرف ایک اللہ ہے۔ پھر اللہ کی نعمتوں پر زبان سے حمد و ثناء کرنا قولی شکر ہے اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا عملی شکر کہلاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ کام جسے بسم اللہ سے شروع نہ کیا گیا ہو وہ ناقص اور ادھورا رہتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مزید روایت ہے کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو ہریرہ جب تم وضو کرو تو بسم اللہ والحمد کہہ لیا کرو، کیونکہ جب تک تمہارا وضو باقی رہے گا اس وقت تک تمہارے فرشتے کراماً کاتبین تمہارے لیے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔ بسم اللہ کی برکت سے گناہ گار کی بخشش کا بھی واقعہ ملتا ہے، جہاں ایک گناہ گار کو مرنے کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا، تو اس نے جواب دیا کہ ایک دن میں ایک مدرسے کے پاس سے گزرا اور ایک پڑھنے والے بچے نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، جسے سن کر میرے دل میں اللہ تعالیٰ کے نام کی شیرینی نے اثر کیا۔ اسی وقت غیب سے ندا آئی کہ ہم دو چیزوں کو ایک ساتھ جمع نہیں کریں گے، یعنی ایک اللہ کے نام کی لذت اور دوسری موت کی تلخی۔ پھر مرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی بنا پر مجھے بخش دیا۔ اس واقعے سے یہ درس ملتا ہے کہ اگر ہم خیر و برکت چاہتے ہیں تو ہر نیک کام کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کریں، بصورت دیگر ہمارے کام میں شیطان لعین شریک ہو جائے گا۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مجوسیوں نے عرض کیا کہ آپ ہمیں کوئی ایسی نشانی بتائیں جس سے ہم پر اسلام کی حقانیت واضح ہو جائے، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے زہر قاتل منگوایا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسے کھا لیا۔ بسم اللہ شریف کی برکت سے اس زہر قاتل نے آپ پر کوئی اثر نہ کیا اور یہ ایمان افروز منظر دیکھ کر آتش پرست بے ساختہ پکار اٹھے کہ دین اسلام ہی برحق ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here