پاکستان کی سیاست بھی عجیب تماشہ ہے۔ کردار بدل جاتے ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، نعرے بدل جاتے ہیں، مگر سڑک وہی رہتی ہے اور لانگ مارچ بھی وہی۔ کبھی اسلام آباد کی طرف قدم بڑھتے ہیں، کبھی کنٹینر کھڑے ہوتے ہیں، کبھی راستے بند ہوتے ہیں اور کبھی مذاکرات کے دروازے کھولنے کی بات شروع ہو جاتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر احتجاج کی راہ پر ہے۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ اور احتجاج کی کال نے ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست کو سڑکوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق اس احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ دوسری طرف حکومت احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات کر رہی ہے۔ مگر اس بار کہانی میں ایک اہم کردار ڈاکٹر طاہرالقادری غائب ہیں۔ وہی طاہرالقادری جن کے کارکن کبھی تحریک انصاف کے احتجاجی منظرنامے میں نمایاں دکھائی دیتے تھے۔
2014 کا زمانہ یاد کیجیے، جب تحریک انصاف اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھی تھی اور پاکستان عوامی تحریک بھی احتجاجی میدان میں موجود تھی۔ سیاسی راستے الگ تھے، جماعتیں الگ تھیں، مگر اس وقت سڑک ایک تھی۔ سڑک کی سیاست میں تعداد صرف ایک عدد نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک بڑا سیاسی پیغام بھی ہوتی ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ طاہرالقادری کے کارکن بھی میدان میں نظر آتے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ احتجاج صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی غصے کا اظہار ہے۔ مگر آج منظر بدل چکا ہے۔ طاہرالقادری عملی سیاست سے دور ہیں اور پاکستان عوامی تحریک بھی ماضی کی طرح تحریک انصاف کے ساتھ سڑکوں پر موجود نہیں۔ وہ سیاسی سہارا، جو کبھی احتجاجی منظرنامے میں ایک اضافی وزن پیدا کرتا تھا، اب نظر نہیں آتا۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بار تحریک انصاف کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ لانگ مارچ صرف کارکنوں کی تعداد کا امتحان نہیں ہوتا بلکہ یہ قیادت، تنظیم، سیاسی حکمت عملی اور مذاکرات کی صلاحیت کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ایک بڑا ہجوم اسلام آباد پہنچ سکتا ہے، مگر کیا وہ سیاسی نتیجہ بھی پیدا کر سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کسی کنٹینر پر کھڑے ہو کر نہیں بلکہ وقت دے گا۔
ماضی میں پاکستان کی سیاست نے کئی لانگ مارچ دیکھے؛ کچھ نے حکومتوں کو مذاکرات پر مجبور کیا، کچھ راستے میں بکھر گئے، کچھ نے سیاسی بیانیے کو مضبوط کیا اور کچھ تاریخ کی کتابوں میں صرف ایک واقعے کے طور پر رہ گئے۔ اس لیے اس بار بھی اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ نکلتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ آخر تک کھڑے رہتے ہیں اور احتجاج کے بعد سیاسی حکمت عملی کیا ہوتی ہے؟ تحریک انصاف کے لیے یہ امتحان اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ پارٹی کو آج ماضی کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ سیاسی اور انتظامی ماحول کا سامنا ہے۔ قیادت کے مختلف دھڑے، قانونی مقدمات، گرفتاریاں، انتظامی رکاوٹیں اور حکومت کے ساتھ شدید سیاسی کشیدگی، یہ سب عوامل احتجاج کے راستے میں موجود ہیں۔ دوسری طرف حکومت کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ اگر احتجاج بڑا ہوتا ہے تو اسے سیاسی طور پر جواب دینا ہوگا، اور اگر اسے انتظامی طاقت سے روکا جاتا ہے تو اس کے سیاسی اثرات پر بحث ہوگی، جبکہ مذاکرات کی صورت میں یہ سوال اٹھے گا کہ مذاکرات کی میز پر کیا پیش کیا جائے گا۔ دونوں طرف سوال ہی سوال ہیں، اور پاکستانی سیاست کی سب سے دلچسپ بات بھی یہی ہے کہ یہاں احتجاج ختم ہونے کے بعد اصل مذاکرات شروع ہوتے ہیں۔ سڑک پر نعرہ بلند کرنا نسبتاً آسان ہے اور مذاکرات کی میز پر سمجھوتہ کرنا مشکل، جبکہ سڑک پر ہجوم جمع کرنا ایک مرحلہ ہے اور اسے سیاسی قوت میں تبدیل کرنا دوسرا مرحلہ۔ تحریک انصاف کے سامنے اب یہی امتحان ہے۔ ماضی میں ایک سیاسی ساتھی ساتھ تھا لیکن آج نہیں ہے، جبکہ ماضی میں ایسے سیاسی کردار بھی موجود تھے جو مشکل وقت میں راستہ نکالنے کی کوشش کرتے تھے، مگر آج سیاسی میدان کا نقشہ بالکل مختلف ہے۔ اس بار تحریک انصاف کو اپنے کارکنوں اور اپنی تنظیم کے بل بوتے پر میدان میں اترنا ہے، یعنی اس بار نہ طاہرالقادری کا کنٹینر ہے، نہ ان کے کارکنوں کا وہ ہجوم اور نہ ہی وہ پرانا سیاسی بندوبست۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنی ذاتی طاقت سے کتنا بڑا سیاسی دباؤ پیدا کر پاتی ہے۔ شاید 27 ستمبر کے بعد پاکستان کی سیاست کا سب سے دلچسپ سوال یہی ہوگا کہ کیا یہ لانگ مارچ صرف اسلام آباد تک پہنچے گا یا سیاست کو بھی کسی نئے موڑ تک لے جائے گا، کیونکہ لانگ مارچ کا اصل سفر سڑک پر نہیں بلکہ سیاسی نتیجے تک ہوتا ہے۔















