مطلقہ اور بیوہ سے نکاح!!!

0
6
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ آج کا موضوع معاشرے کے ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہے جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس اہم مسئلے کو محترم رضوان صاحب نے اجاگر کیا ہے، اور یہاں کچھ مزید نکات زیر بحث لا کر اس موضوع کو سمیٹا گیا ہے تاکہ اس معاملے میں قلم کا حق ادا کرتے ہوئے عوام اور قارئین کو قائل کیا جا سکے۔
مرد کی طرح عورت کی زندگی بھی طلاق یا بیوہ ہونے کے بعد ختم نہیں ہو جاتی۔ مذہب نے اس بارے میں تاکید فرمائی ہے اور ہر فقہ اس پر متفق ہے کہ بیوہ اور مطلقہ عورت کے دوبارہ نکاح کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے تو اس عمل کو معاشرے میں رائج کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا بیوہ اور طلاق یافتہ عورت زندگی کی بازی ہار جائے یا خدانخواستہ برائی کے راستے پر نکل پڑے؟ ہمارے معاشرے کی عورت مرد کی دوسری شادی کے اسی وقت تک خلاف رہتی ہے جب تک کہ وہ خود بیوہ یا طلاق یافتہ نہ ہو جائے۔ بدقسمتی سے یہ طرز فکر اب عورت کی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کم عمری میں بیوہ ہونے والی یا طلاق پانے والی عورت کیا کرے؟ جس طرح مرد کو اپنی فطری اور معاشرتی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں، اسی طرح عورت کی بھی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ اس بات کو ہر عورت سمجھتی ہے لیکن صرف اپنی حد تک۔
اس معاشرے میں جب کوئی عورت طلاق یافتہ یا بیوہ ہوتی ہے، پھر چاہے اس کے بچے بھی ہوں، معاشرے کے بدقماش افراد بو سونگھتے نکل پڑتے ہیں کہ کب یہ عورت اپنی خواہش اور ضرورت پر قابو نہ پا کر کمزور ہو اور وہ اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا سکیں۔ آخر ہم اس عورت کو اس نہج پر پہنچنے ہی کیوں دیتے ہیں؟ اس صورتحال کے قصور وار مرد اور عورتیں دونوں ہی ہیں۔ مرد اس لیے قصور وار ہے کہ ہر دوسرا مرد ایک سے زائد شادیاں کرنے کی خواہش تو رکھتا ہے، لیکن ہمت اور حوصلہ کر کے دوسری بار حلال نکاح نہیں کر پاتا، جبکہ چھپ چھپ کر ناجائز تعلقات نبھا لیتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جو چند مرد دوسری شادی کرتے ہیں، وہ پہلی بیوی کو چھوڑ کر یا اسے دھتکار کر کرتے ہیں۔ دوسری طرف عورت اس لیے قصور وار ہے کہ اس کا شوہر باہر منہ مارتا رہے تو اسے خبر نہیں ہوتی، اور اگر خبر ہو بھی جائے تو معافی تلافی پر قصہ ختم ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ کہتی ہے کہ میں مر جاؤں گی لیکن دوسری شادی نہیں کرنے دوں گی کیونکہ شوہر پر صرف اسی کا حق ہے، گویا اس مرد کو اس نے اپنی مرضی پر پیدا کروایا ہو۔ اگر کوئی مرد ہمت کر کے دوسری شادی کر لے تو پہلی بیوی آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے، شوہر کا جینا دوبھر کر کے اور خود کو ذلیل کر کے اپنا مقدر تباہ کر لیتی ہے اور ماں باپ کے گھر بیٹھ جاتی ہے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ دوسری آنے والی عورت بھی خود کو منفرد مخلوق سمجھ کر شوہر پر مکمل قبضہ چاہتی ہے، حالانکہ اسے چاہیے کہ اطمینان رکھے اور صرف اپنا حق پائے۔
عورتوں کی یہ حالت دیکھ کر دوسری خواتین بھی خود کو اسی پر قیاس کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ حالانکہ جو مرد پہلی بیوی کو چھوڑے بغیر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، وہ دراصل اسے چھوڑنا ہی نہیں چاہتا۔ اگر ایسی عورت دوسری عورت کی جگہ خود کو رکھے اور احسان و صلہ رحمی والا رویہ اختیار کرے تو دنیا و آخرت بہتر ہو سکتی ہے، لیکن عورت ایسا نہیں کر رہی۔ وہ اس وقت تک اس بات کو نہیں سمجھتی جب تک خود بیوہ یا طلاق یافتہ نہ ہو جائے۔ جب وہ خود اس متبادل صورتحال کا شکار ہوتی ہے تو کسی مرد کی دوسری بیوی بننا بھی پسند کر لیتی ہے، یا پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی بال بچوں والے سے پوشیدہ تعلق قائم کر لیتی ہے۔ یہ سب معاشرے میں ہو رہا ہے، نظر آ رہا ہے اور سب دیکھ رہے ہیں، مگر لوگ صرف آپس میں تذکرے کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں۔
اس خاموشی کا نتیجہ یہ ہے کہ کنواری لڑکیوں کی عمریں بڑھ رہی ہیں، جبکہ طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین ذہنی دباؤ کا شکار ہیں یا گمراہی میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک عورت دوسری عورت کی اس حالت پر رحم کھاتی، لیکن وہ تو ایسا سوچ کر ہی پریشان ہو جاتی ہے۔ اس موقف پر بہت سے طعنے اور طنز ملتے ہیں لیکن روزانہ ایسے بے شمار کیسز اور کہانیاں سامنے آتی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرہ تباہی کی طرف جا رہا ہے، اس لیے اس خاموشی کا حصہ نہیں بنا جا سکتا۔ اللہ تعالی ہر کنواری بہن بیٹی جس کی عمر بڑھ رہی ہے اس کا مستقبل روشن کرے، اور ہر طلاق یافتہ و بیوہ کے لیے راہیں آسان اور مستقبل عافیت والا بنائے۔ آمین۔
نکاح پہلا ہو یا دوسرا، ہم سب نے مل کر شادی کو بہت بڑا بوجھ بنا دیا ہے حالانکہ یہ عمل آسان سے آسان ہونا چاہیے تاکہ ہر کسی کو یہ فریضہ ادا کرنے میں سہولت ہو۔ ایک رشتہ کرانے والی خاتون کا کہنا ہے کہ جب طلاق یافتہ یا زائد عمر کی بچیوں کے لیے رشتہ مانگا جاتا ہے تو ان سے دو طبقے شادی کرنے کو فوراً تیار ہوتے ہیں، جن میں پہلے طلاق یافتہ مرد اور دوسرے صاحب حیثیت مرد شامل ہیں جو دوسری شادی کا آپشن رکھتے ہیں۔ اب ان دونوں طبقوں کے لیے خاندانوں کے غیر منطقی اعتراضات ملاحظہ کریں۔ اگر طلاق یافتہ بندے کی اولاد سابقہ بیوی کے پاس ہو تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں شادی نہیں کرنی کیونکہ اس کی اولاد کل کو جائیداد کی وارث بنے گی۔ اگر رشتہ کسی شادی شدہ اور صاحب حیثیت مرد کا ہو جو دوسری بیوی کو الگ اور خود مختار نظام دینے کی استطاعت رکھتا ہو، تو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دیتا تو ہم شادی کر لیتے کیونکہ ہم اس عورت کا گھر خراب نہیں کر سکتے۔ سبحان اللہ، کتنی عجیب فکر ہے کہ مرد پہلی بیوی کو طلاق دے دے تو شادی منظور ہے، لیکن اگر وہ پہلی بیوی کو چھوڑے بغیر استطاعت کے مطابق دوسری عورت کو اپنانا چاہے تو وہ غلط ہو جاتا ہے۔
لندن، یورپ اور امریکہ میں مقیم کئی خواتین نے شہریت حاصل کرنے کے چکر میں اپنے شوہروں کے رشتے پیش کیے ہیں، ایسے میں ان کی محبت کہاں چلی جاتی ہے؟ یہاں محبت کا راگ صرف مفادات کے لیے الاپا جاتا ہے اور شراکت برداشت نہ کرنے کی جنگ چل رہی ہوتی ہے۔ مسئلہ محبت کا نہیں بلکہ مفادات کا ہے۔ مرد سے زیادہ اس کی دولت کی فکر ہوتی ہے کہ اس جائیداد کی اکیلی وارث یا تو وہ خود بنے یا اس کے بچے۔ وہ چاہتی ہیں کہ نہ تو سابقہ بچے ہوں اور نہ ہی موجودہ بیوی بچے، ورنہ جو بندہ ایک سے زائد خاندان سنبھال سکتا ہو اس سے شادی کرنے میں کیا حرج ہے؟ اگر آپ صحیح معنوں میں اس عورت کی دشمنی نہیں چاہتیں تو یہ کہنے کے بجائے کہ اس کا شوہر طلاق یافتہ ہوتا تو شادی کر لیتے، آپ کو نکاح کر لینا چاہیے اور یہ کوشش کرنی چاہیے کہ آپ کا وجود اس خاندان کے لیے خطرہ نہ بنے۔ جو مرد آپ کو سہولت، چھت اور کفالت دے رہا ہے، تو آپ کا بھی حق بنتا ہے کہ اس کی فیملی کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور انہیں اپنے خاندان کی طرح سمجھیں۔
اس سلسلے میں ایک ایسی فیملی کی مثال موجود ہے جہاں چھوٹی سوکن بڑی کے بچوں کا خیال رکھتی ہے اور بڑی چھوٹی کے بچوں کا، اور وہ ایک دوسرے کے بچوں کو تحائف بھی دیتی ہیں۔ سارا معاملہ دل سے قبول کرنے کا ہوتا ہے، اگر بات قبول کر لی جائے تو زندگی بڑی آسان ہو جاتی ہے۔ ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جہاں سوکنوں نے بڑے اچھے تعلقات رکھے۔ وہ بھی ہمارے جیسے انسان ہیں لیکن مثبت سوچ رکھنے والے اور آسانیاں پیدا کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگیوں پر غیر مسلموں کے اصول رائج کریں گے تو مسلمان کیسے کہلوائیں گے؟
میری دعا ہے کہ ہر انسان آباد رہے اور اسے اپنے جیون ساتھی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا جائے، خواہ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو۔ دعا ہے کہ تمام انسان خوش اور آباد رہیں اور اتنے مضبوط ہوں کہ آنے والے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ آمین۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here