فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
6

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہی قربت کا خاص درجہ حاصل کرتے ہیں اور یہی ولایت کا اعلیٰ مقام اور درجہ ہے۔ یہ برگزیدہ ہستیاں نماز، روزہ، حج اور زکوٰ? کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد یعنی والدین، زوجین، ہمسایوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھتی ہیں۔ بلکہ یہ نفوسِ قدسیہ نماز کے آداب کا بھی پورا حق ادا کرتے ہیں، جبکہ عام لوگ ان چیزوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور محض نماز پڑھ لینے ہی کو بڑی بات سمجھ کر اسی روش پر جمے رہتے ہیں۔نماز کے آداب تو بہت زیادہ ہیں، یہاں ان میں سے چند اہم آداب کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ نماز کے لیے طہارت اور پاکیزگی کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔ جب وضو کریں تو مسواک کا اہتمام بھی کرنا چاہیے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کی بہت پیاری سنت مبارکہ ہے۔ اس کے بارے میں جانِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما رکھا ہے کہ اگر میں اسے اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا تو تمام نمازوں کے لیے مسواک کو فرض قرار دے دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا کہ قیامت میں میری امت کی علامت یہ ہوگی کہ ان کی پیشانی اور اعضائے وضو نور سے چمک رہے ہوں گے، پس جو شخص اپنے اس نور کو بڑھانا چاہے تو وہ اسے بڑھائے۔
اسی طرح صاف ستھرے، سنجیدہ، مہذب اور سلیقے کے کپڑے پہن کر نماز ادا کرنی چاہیے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو کر جایا کرو۔ اس کے ساتھ ساتھ وقت کی پابندی سے نماز ادا کرنی چاہیے کیونکہ فرمانِ الہیٰ ہے کہ مومنوں پر وقت کی پابندی سے نماز فرض کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے اہل اسلام پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جس شخص نے ان نمازوں کو ان کے مقررہ وقت پر اچھی طرح وضو کرکے اور خشوع و خضوع سے ادا کیا تو اللہ پر اس کا یہ حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے، اور جس نے ان نمازوں کو کوتاہی سے گزار دیا تو اللہ پر اس کی مغفرت و نجات کی کوئی ذمہ داری نہیں، چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو بخش دے۔
نماز ہمیشہ جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔ اگر کبھی جماعت نہ مل سکے تو تب بھی فرض نماز مسجد میں ہی ادا کرنی چاہیے، البتہ سنتیں گھر میں پڑھنا بھی سنت اور بہتر ہے جبکہ مسجد میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص چالیس دن تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز باجماعت پڑھے وہ دوزخ اور نفاق دونوں سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر لوگوں کو نماز باجماعت کا اجر و ثواب معلوم ہو جائے تو وہ ہزار مجبوریوں کے باوجود بھی جماعت کے لیے دوڑ دوڑ کر آئیں۔ جماعت کی پہلی صف ایسے ہے جیسے فرشتوں کی صف ہوتی ہے۔ اکیلے نماز پڑھنے سے دو آدمیوں کی جماعت بہتر ہے، پھر جتنے آدمی زیادہ ہوں اتنی ہی یہ جماعت اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوتی ہے۔
نماز بالکل سکون کے ساتھ پڑھنی چاہیے اور رکوع و سجود اطمینان کے ساتھ ادا کرنے چاہئیں۔ رکوع سے اٹھنے کے بعد اطمینان کے ساتھ سیدھے کھڑا ہونا چاہیے اور پھر سجدے میں جانا چاہیے۔ اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان بھی مناسب وقفہ کرنا چاہیے، جبکہ اکثر لوگ رکوع و سجود بہت تیزی سے ادا کرتے ہیں اور اس پر ذرہ بھر توجہ نہیں دیتے۔ وہ ایسے نماز پڑھتے ہیں کہ جیسے تیز پڑھنے کی شرط لگا رکھی ہو، العیاذ باللہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی قدر ہے کہ جو شخص نماز کو اچھی طرح ادا کرتا ہے تو نماز اس کو دعائیں دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح تیری بھی حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بدترین چوری نماز کی چوری ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کوئی نماز کیسے چرا سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے رکوع اور سجدے ادھورے ادھورے کرکے۔
اذان کی آواز سنتے ہی نماز کی تیاری شروع کر دینی چاہیے اور وضو کرکے پہلے ہی مسجد میں پہنچ جانا چاہیے، پھر وہاں خاموشی کے ساتھ صف میں بیٹھ کر جماعت کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ اذان سننے کے بعد سستی و تاخیر کرنا اور تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ نماز کے لیے جانا منافقوں کی علامت ہے۔ اذان بھی ذوق و شوق سے دینی چاہیے اور اسے غور سے سننا چاہیے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا کام بتا دیجیے جو مجھے جنت میں لے جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کے لیے اذان دیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اور جو بھی اس کی اذان سنتا ہے، وہ قیامت کے دن مؤذن کے حق میں گواہی دے گا۔ جو شخص جنگل میں اپنی بکریاں چراتا ہے اور اذان کا وقت آنے پر اونچی آواز سے اذان کہتا ہے، تو جہاں تک اس کی آواز جائے گی، قیامت کے دن وہ ساری چیزیں اس کے حق میں گواہی دیں گی۔
بہر حال دین کا ہر کام خوشی خوشی، سعادت اور عبادت سمجھ کر کیا جائے تو اس میں نفع ہی نفع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی پابندی بھی مکمل طور پر رکھی جائے تاکہ ایک اچھے اور متوازن معاشرے کی تشکیل ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقائق کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here