پردہ یا حجاب ایک طرف مذہبی فریضہ، حیا اور عفت کی علامت سمجھا جاتا ہے تو دوسری طرف اسے شخصی آزادی، خواتین کے حقوق، ثقافتی شناخت اور ریاستی قانون کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پردہ نہ صرف اسلام بلکہ یہودیت، عیسائیت اور قدیم تہذیبوں کی تاریخ میں بھی موجود رہا ہے۔ اختلاف صرف اس کی شکل، نوعیت اور قانونی حیثیت میں پایا جاتا ہے۔ بعض حلقے پردے کو صرف اسلام سے جوڑتے ہیں حالانکہ تاریخی شواہد اس تصور کی تائید نہیں کرتے۔ قدیم میسوپوٹیمیا، آشوری، ایرانی، یونانی اور رومی تہذیبوں میں معزز خواتین کا سر اور جسم ڈھانپنا عزت، وقار اور سماجی مرتبے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعض ادوار میں پردہ طبقاتی امتیاز کی علامت بھی بن گیا جہاں آزاد اور معزز خواتین مخصوص لباس پہنتی تھیں جبکہ غلام عورتوں کو اس کی اجازت نہیں تھی۔
یہودیت میں بھی حیا اور ستر پوشی کو مذہبی زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی آرتھوڈوکس یہودی خواتین شادی کے بعد اپنے بال اسکارف، ٹوپی یا وگ سے ڈھانپتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ صرف لباس نہیں بلکہ ازدواجی وفاداری، مذہبی اطاعت اور روحانی وقار کی علامت ہے۔ اسی طرح عیسائیت میں بھی پردے کی ایک مضبوط روایت موجود رہی ہے۔ کیتھولک مشنری ننز آج بھی مخصوص مذہبی لباس اور سر ڈھانپنے والی پوشاک پہنتی ہیں جو عاجزی، پاکدامنی اور خدا کی خدمت کے عہد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یورپ میں چند دہائیاں قبل تک گرجا گھروں میں خواتین کا سر ڈھانپ کر عبادت کرنا عام روایت تھی، اگرچہ جدید معاشرتی تبدیلیوں نے اس روایت کو کافی حد تک محدود کر دیا ہے۔
اسلام نے پردے کے تصور کو صرف لباس تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے حیا، کردار، اخلاق اور معاشرتی وقار سے جوڑا ہے۔ قرآن مجید مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، پاکدامنی اختیار کرنے اور اخلاقی حدود کی پاسداری کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سور? النور کی آیت نمبر 30 اور 31 میں پہلے مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے، پھر ایمان والی عورتوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔ اسی طرح سور? الاحزاب کی آیت نمبر 59 میں فرمایا گیا ہے، اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔
ان آیات میں حجاب، وقار اور ستر پوشی کا واضح حکم موجود ہے، تاہم یہ حقیقت بھی علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ قرآن مجید میں چہرہ لازماً ڈھانپنے کا حکم صریح الفاظ میں مذکور نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ میں اس مسئلے پر مختلف آرائ پائی جاتی ہیں۔ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حج اور عمرہ کے دوران جب غیر محرم مرد قریب آتے تو صحابیات اپنی چادریں چہرے پر ڈال لیا کرتی تھیں (سنن ابی داؤد)۔ حضرت اسمائ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے منسوب روایت میں بالغ عورت کے لیے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ جسم ڈھانپنے کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ محدثین نے اس روایت کی سند پر مختلف آرائ ظاہر کی ہیں۔ فقہائے اسلام میں اسی بنیاد پر اختلاف پیدا ہوا۔ احناف، مالکیہ اور شوافع کی بڑی تعداد کے نزدیک عام حالات میں چہرہ اور ہاتھ ستر میں شامل نہیں لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو چہرہ ڈھانپنا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف حنابلہ اور بعض دیگر اہل علم نقاب کو وجوب کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔ اس اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ پردے کی اہمیت کم ہو جاتی ہے بلکہ یہ فقہی اجتہاد کا ایک معروف باب ہے۔
آج مسلم دنیا میں پردے کی قانونی حیثیت بھی یکساں نہیں۔ افغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کے لیے مکمل اسلامی حجاب اور چہرہ ڈھانپنے سے متعلق سخت ہدایات نافذ کر رکھی ہیں۔ اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے مسلسل بحث جاری ہے۔ ایران میں امام خمینی کے انقلاب کے بعد حجاب قانوناً لازمی قرار دیا گیا۔ حالیہ برسوں میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاج نے اس قانون کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ اگرچہ نفاذ کی شدت میں بعض اوقات کمی بیشی دیکھی گئی لیکن قانونی طور پر مانتو کی شکل میں حجاب اب بھی لازم قرار دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں کئی دہائیوں تک عبایہ اور قدامت پسند لباس پر سخت سماجی اور انتظامی عمل درآمد رہا لیکن حالیہ اصلاحات کے بعد خواتین کے لیے سیاہ عبایہ یا نقاب قانونی طور پر لازمی نہیں رہا۔ اس کے باوجود سعودی معاشرے کی بڑی تعداد مذہبی اور ثقافتی وابستگی کی بنیاد پر پردے کو ترجیح دیتی ہے۔ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان میں بھی باوقار لباس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن وہاں ایران یا افغانستان جیسی ملک گیر قانونی پابندیاں نافذ نہیں۔
پاکستان میں صورت حال سب سے زیادہ متنوع ہے۔ یہاں برقع، نقاب، عبایہ، دوپٹہ، چادر اور صرف باوقار لباس جیسے سبھی انداز موجود ہیں۔ کوئی خاتون مذہبی عقیدے کی بنا پر پردہ کرتی ہے، کوئی خاندانی روایت کی وجہ سے اور کوئی اپنی شخصی شناخت کے اظہار کے طور پر۔ پاکستانی قانون عمومی طور پر خواتین کو پردہ کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں ذاتی اختیار دیتا ہے۔
دوسری طرف یورپ اور امریکہ میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ وہاں مذہبی آزادی بنیادی حق ہے لیکن بعض ممالک نے عوامی مقامات پر چہرہ مکمل ڈھانپنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ فرانس اس کی نمایاں مثال ہے۔ سال 2004 میں سرکاری اسکولوں میں نمایاں مذہبی علامات پر پابندی عائد کی گئی جبکہ 2010 کے قانون کے تحت عوامی مقامات پر ایسا لباس ممنوع قرار دیا گیا جو پورا چہرہ چھپا دے خواہ وہ برقع ہو، نقاب ہو یا کوئی اور نقاب نما لباس۔ فرانسیسی حکومت اس اقدام کو عوامی سلامتی اور ریاستی سیکولرازم کا تقاضا قرار دیتی ہے جبکہ ناقدین اسے مذہبی آزادی پر قدغن سمجھتے ہیں۔ اسی نوعیت کی پابندیاں بیلجیم، ڈنمارک اور چند دیگر یورپی ممالک میں بھی مختلف درجوں میں موجود ہیں۔ امریکہ جہاں شخصی آزادی کا تصور عام ہے، وہاں کے دیہی علاقوں میں اب بھی روایتی اور قدامت پسند مسلم خواتین نقاب پہنتی ہیں۔
یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ دنیا کے بعض ممالک میں ریاست پردہ لازم قرار دیتی ہے جبکہ بعض ریاستیں پردے کی بعض صورتوں پر پابندی لگاتی ہیں۔ ایک طرف قانون مخصوص لباس پہننے پر مجبور کرتا ہے تو دوسری طرف قانون ہی اس سے روکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پردہ صرف مذہبی مسئلہ ہی نہیں بلکہ سیاست، قانون، ثقافت، انسانی حقوق اور شخصی آزادی کا بھی موضوع بن چکا ہے۔
تاہم اس پوری بحث میں ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام نے حیا کا حکم صرف خواتین کے لیے نہیں دیا۔ قرآن نے مردوں کو پہلے نگاہیں نیچی رکھنے، کردار کی حفاظت کرنے اور اخلاقی پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعد خواتین کے پردے کا ذکر کیا۔ گویا اسلامی معاشرے کی بنیاد صرف خواتین کے لباس پر نہیں بلکہ مرد و عورت دونوں کے کردار پر قائم ہے۔ پردے پر گفتگو کرتے ہوئے علمی دیانت یہی ہے کہ قرآن و سنت کی اصل تعلیمات، فقہی اختلافات، تاریخی حقائق اور موجودہ قانونی صورت حال کو الگ الگ سمجھا جائے۔ کسی ایک رائے کو پورے اسلام یا پوری دنیا کا واحد موقف قرار دینا علمی انصاف کے خلاف ہے۔
پردہ اگر ایمان کی بنیاد پر اختیار کیا جائے تو عبادت بن جاتا ہے، اگر تہذیب کی بنیاد پر ہو تو ثقافتی شناخت بن جاتا ہے اور اگر ذاتی انتخاب سے ہو تو شخصی آزادی کی علامت۔ اسی طرح اگر ریاست اسے قانون بنا دے یا اس پر پابندی لگا دے تو وہ سیاسی اور آئینی بحث کا حصہ بن جاتا ہے۔ آخرکار لباس سے زیادہ اہم وہ اقدار ہیں جن کے لیے لباس اختیار کیا جاتا ہے۔ حیا، احترام، وقار، پاکدامنی اور انسان کی آزادی وہ اصول ہیں جن پر ہر مہذب معاشرہ اپنی بنیاد استوار کرتا ہے۔ شاید اسی توازن میں اس حساس موضوع کا سب سے معتدل اور منصفانہ جواب پوشیدہ ہے۔















