آزاد کشمیر کے سلگتے حالات اور ٹھیکیداروں کی خاموشی!!!

0
5
کوثر جاوید
کوثر جاوید

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور ناگفتہ بہ صورتحال کسی طور پر قابو میں آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ مقامی انتظامیہ اور حکومت ہر صورت میں اپنی رٹ قائم کرنے کے درپے ہے جبکہ دوسری طرف وہاں کی سیاسی جماعتیں، عوامی نمائندے اور سرگرم کارکن اپنے حقوق کی خاطر جان کی بازی لگانے پر تلے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر جاری ان خونی مظاہروں، احتجاج اور ہڑتالوں نے خطے کے معمولات زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں سب کچھ داؤ پر لگا چکے ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں اس امر کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ان احتجاجی لہروں میں ہمارے ازلی دشمن ،پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ مداخلت اور شرانگیزی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جو اس مخدوش صورتحال سے فائدہ اٹھا کر خطے میں مزید اِنتشار پھیلانا چاہتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود حکومت پاکستان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے انتہائی تدبر، فہم و فراست اور پرامن مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرے۔ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ وہ مظاہرین کے اڑتیس سے زائد بڑے مطالبات تسلیم کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود احتجاجی قیادت امن کی طرف لوٹنے اور دھرنے ختم کرنے پر راضی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی جس سے دوریوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
جہاں ایک طرف کشمیر کی دھرتی پر یہ اِحتجاجی آگ لگی ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف سمندر پار خصوصاً امریکہ میں مقیم نام نہاد کشمیری رہنماؤں اور خود ساختہ ٹھیکیداروں کا کردار شدید سوالات کی زد میں ہے۔ حیرت انگیز طور پر دارالحکومت واشنگٹن میں حقوقِ کشمیر کے علمبردار اچانک منظرنامے سے غائب ہو چکے ہیں۔ واشنگٹن میں کشمیریوں کے حقوق اور اس حالیہ بحران کیخلاف ہونیوالے احتجاجی مظاہروں میں عام کشمیری تارکین وطن اور کشمیر سے دلی ہمدردی رکھنے والے مخلص لوگ تو بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے لیکن وہ رہنما جو ہر وقت کشمیر کے نام پر چندہ اکٹھا کرتے ہیں یا واشنگٹن کے ایوانوں میں لابنگ کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ سرے سے غائب تھے۔ اس کے برعکس ان مظاہروں میں پاکستانی مقتدرہ اور ریاستی اداروں سے فکری و نظریاتی وابستگی رکھنے والے کشمیری کمیونٹی کے بااثر افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ان کا بنیادی مقصد ان احتجاجی لہروں کی شدت کو کم کرنا اور مظاہروں کو حکومت مخالف رنگ اختیار کرنے سے روکنا تھا تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا منفی تاثر ابھرنے نہ پائے۔
امریکہ کے دیگر بڑے شہروں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔ واشنگٹن کے ساتھ ساتھ نیویارک، شکاگو اور ہیوسٹن جیسے گنجان آباد شہروں میں بھی کشمیری تارکین وطن نے حالیہ دنوں میں بڑے احتجاجی مظاہرے منظم کیے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے سامنے مقیم کشمیریوں نے اپنے آبائی وطن میں ہونیوالے ریاستی جبر اور معاشی ناہمواریوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کی، مگر وہاں بھی روایتی سیاسی قیادت مصلحت پسندی کا شکار نظر آئی۔ شکاگو کی سرد سڑکوں پر بھی عام شہریوں نے مظاہرے کر کے وطن میں اپنے بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور حکومت سے پْرامن حل کا مطالبہ کیا جبکہ ہیوسٹن میں جہاں کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، وہاں بھی مظاہروں کے ذریعے پاکستانی مقتدرہ تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی کہ کشمیر کے سنگین معاشی و سیاسی مسائل کو گولی یا ڈنڈے کے زور پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام بڑے امریکی شہروں کے مظاہروں میں ایک قدر مشترک تھی کہ عام عوام مخلصانہ طور پر اپنے وطن کی مخدوش حالت پر تڑپ رہے تھے جبکہ مفاد پرست اشرافیہ اور نام نہاد کشمیری لیڈر اپنے ذاتی اور مالیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے گوشہ نشینی اختیار کیے ہوئے تھے۔
اس مہم کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کشمیر کی موجودہ تحریک جہاں جائز معاشی اور سیاسی مطالبات پر مبنی ہے، وہیں مقتدر حلقوں کی عدم توجہی اور غیر لچکدار رویے نے اس آگ کو مزید ہوا دی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مظاہرین کو محض بیرونی ایجنٹ قرار دے کر ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر بھارت یا کوئی اور دشمن قوت اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ وہ اندرونی خلا ہے جو حکومت کی نااہلی اور عوامی شکایات کو بروقت دور نہ کرنے کے باعث پیدا ہوا۔ امریکہ کے مختلف شہروں بالخصوص واشنگٹن اور نیویارک میں ہونے والے ان حالیہ مظاہروں نے تارکینِ وطن کے دلوں میں موجود بے چینی کو تو آشکار کر دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ان چہروں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جو کشمیر کاز کو محض اپنی دکان چمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان روایتی ہتھکنڈوں کو چھوڑ کر سنجیدگی سے کشمیری قیادت کے ساتھ بیٹھے اور خطے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے، ورنہ یہ چنگاری پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here