عہدِ نبوی میں خواتین ہمارے پیارے نبی ۖ کے دستِ مبارک پر بیعت کیا کرتی تھیں،قرآن کریم اس کا تذکرہ یوں کرتا ہے، اے پیغمبر! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زناکاری نہ کریں گی، اپنی اولاد کونہ مارڈالیں گی اورکوئی ایسابہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑلیں اورکسی نیک کام میں تیری نافرمانی نہ کریں گی، توآپ ان سے بیعت کرلیا کریں اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے اورمعاف کرنے والاہے۔پیغمبرِ آخرالزمان ۖ کی بعثت سے صنفِ نازک کو جتنا فائدہ پہنچا شاید ہی کسی اور طبقے کو اتنا نفع ہوا ہو جنہیں معاشرتی دبا ئوکے تحت زندہ درگور کر دیا جاتا تھا انہیں حقِ رائے دہی مل گیا۔ بلا شبہ ریاست مدینہ کے امور مملکت میں ان کا کردار محض علامتی نہیں بلکہ عملی اور کلیدی تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام جب دیگر تہذیبوں کے علاقوں میں پہنچا تو خواتین کے ساتھ برتا بھی مقامی روایات کے مطابق ہونے لگا۔ انہی تہذیبی روایات کا شاخسانہ ہے کہ آج امریکہ کی مساجد اور دیگر اسلامی تنظیموں کے کرتا دھرتا، خواتین کو حق رائے دینے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں ۔ حالانکہ اقبال تو صنف نازک کی فکری بصیرت اور تخلیقی قوت کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ!
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
عرب اور ترک ممالک سے آکر، امریکہ میں بس جانے والے مسلمان تو مرد و زن کے درمیان اس حد تک تفریق نہیں برتتے لیکن برِصغیر پاک و ہند سے آنے والے، اپنی قدیمی روایات کی پاسداری کرتے کرتے صنفِ نازک کے ساتھ بڑی بڑی زیادتیاں کر جاتے ہیں۔ خواتین کو عزت و احترام دینے میں تو وہ دوسروں سے چند قدم آگے ہی ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر انہیں رائے دہی کا بنیادی حق دینے کیلئے تیار نہیں۔ شاید اس سے ان کی انتظامی اجارہ داری کو خطرہ لاحق ہوتا ہو۔ بہرحال اقبال تو صنفِ نازک کے بارے میں یہ دعا کر چکے ہیں کہ!
الہی پھولوں میں وہ انتخاب مجھ کو کرے
کلی سے رشک گل انتخاب مجھ کو کرے
تجھے وہ شاخ سے توڑیں! زہے نصیب ترے
تڑپتے رہ گئے گلزار میں رقیب ترے
عہدِ نبویۖ کی ریاستِ مدینہ سے بہتر مثال ہمارے لئے کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ سنت نبوی سے یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم ۖ خواتین سے بیعت لیتے تھے۔ ان کے اس عمل نے خواتین کے حقِ رائے دہی کو وہ قانونی بنیاد فراہم کی جس کی بنیاد پر خلفائے راشدین نے بھی خواتین کو یہ حق دیا۔ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر فاروق نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے چھ رکنی شوری قائم کی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف کو اس عمل کا نگران مقرر کیا گیا۔ انہوں نے مسلسل تین دن تک گھروں میں جا کر مسلمانوں سے مشاورت کی، جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی آرا بھی شامل تھیں۔ اس استصوابِ عام کے نتیجے میں اکثریت نے حضرت عثمان غنی کے حق میں فیصلہ دیا۔ سیاسی معاملات میں خواتین کی اس سطح کی شمولیت تو نام نہاد جدید ریاستیں بھی صدیوں تک فراہم نہ کر سکیں۔ افسوس کہ آج کل کے کچھ مسلمان اپنی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کو ان کا حقِ رائے دہی لوٹانے سے اس قدر خائف نظر آتے ہیں کہ قرآن وحدیث کی بعید از قیاس تاویلیں گھڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اقبال نے صنفِ نارک کے حوالے سے کچھ اسی قسم کے دکھ کا اظہار کیا تھا کہ!
شگفتہ کر نہ سکے گی کبھی بہار اسے
فسردہ رکھتا ہے گلچیں کا انتظار اسے
حوالہ جات: :1بخاری، الصحیح، کتاب الاحکام، باب کیف یبایع، 6 : 2634، 2635، رقم : 6781۔ :2بیہقی، السنن الکبری، 8 : 147 :3طبری، تاریخ الامم و الملوک، 3 : 35. 37
:4ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، 5 : 226، 227
٭٭٭












