گزشتہ چند برسوں کے عالمی حالات پر نظر ڈالیں تو یہ سوال شدت سے اُبھرتا ہے کہ کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے؟ یوکرین اور روس کی جنگ، پاکستان اور بھارت محاذ آرائی، گرین لینڈ تنازعہ، وینیزویلا کے صدر کا تحویل میں لینا، مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی، چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا اسٹریٹجک مقابلہ، اور ایشیا پیسفک میں طاقت کے توازن کی نئی صف بندیاں اس خدشے کو تقویت دیتی ہیں کہ عالمی امن ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں اکثر اچانک نہیں ہوتیں بلکہ سیاسی، معاشی اور عسکری عوامل کے بتدریج جمع ہونے سے جنم لیتی ہیں۔ آج بھی کچھ ایسے ہی عناصر دکھائی دیتے ہیں۔ بڑی طاقتیں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے نیٹو، برکس اور دیگر اتحادوں کو مضبوط کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ ایک بار پھر تیز ہو چکی ہے۔ جدید میزائل سسٹمز، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی عسکری صلاحیتیں جنگ کے انداز کو یکسر بدل رہی ہیں۔معاشی محاذ پر بھی دنیا دبا کا شکار ہے، افراطِ زر، توانائی بحران، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور تجارتی جنگیں ممالک کو اندرونی عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ معاشی بحران اکثر قوم پرستی اور جارحانہ خارجہ پالیسی کو ہوا دیتے ہیں۔ جب حکومتیں داخلی مسائل سے نمٹنے میں ناکام ہوتی ہیں تو بعض اوقات بیرونی دشمن کا بیانیہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ فلسطین-اسرائیل تنازعہ، ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی، اور خطے میں پراکسی جنگوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح بحیرہ جنوبی چین میں چین اور ہمسایہ ممالک کے تنازعات عالمی تجارت اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا نے بین الاقوامی اداروں کی شکل میں ایسے فورمز قائم کیے جو تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور مختلف علاقائی تنظیمیں اب بھی سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے بڑی طاقتوں کو براہِ راست جنگ سے کسی حد تک باز رکھا ہے، کیونکہ اس کے نتائج ناقابلِ تصور حد تک تباہ کن ہو سکتے ہیں۔عوامی سطح پر بھی جنگ کے خلاف شعور میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا کی بدولت جنگ کی تباہ کاریاں لمحوں میں دنیا بھر تک پہنچ جاتی ہیں، جس سے عوامی دبا حکومتوں کو محتاط فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ نوجوان نسل نسبتا زیادہ عالمی سوچ رکھتی ہے اور تعاون، ماحولیاتی تحفظ اور انسانی حقوق جیسے مسائل کو ترجیح دیتی ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ کا خطرہ موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عالمی قیادت اس خطرے کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے۔ اگر طاقت کی سیاست، اسلحے کی دوڑ اور معاشی مفادات کو انسانی جانوں پر ترجیح دی جاتی رہی تو دنیا ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر سفارتکاری، مکالمہ اور مشترکہ عالمی مفادات کو بنیاد بنایا جائے تو اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم تاریخ سے سبق سیکھ کر امن کی راہ اپناتے ہیں یا ایک بار پھر تباہی کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں۔ عالمی امن صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، میڈیا اور سول سوسائٹی کا مشترکہ فریضہ ہے کہ وہ نفرت کے بجائے مکالمے اور تعاون کو فروغ دے۔
٭٭٭
















