سری لنکا اور بھارت میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں کھیلے جانے والے اہم میچ میں گزشتہ تین میچز ہارنے والی کارکردگی حسب توقع دہرائی گئی۔ بھارت سے شکستوں کا جمود ٹوٹ نہ سکا اہم میچ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست۔ میچ کے دوران ٹیم مینجمنٹ، ٹیم سلیکشن اور کپتان کی کارکردگی سمیت سینئر ترین کھلاڑی جن میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان کی ٹیم سلیکشن اور کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔ پاکستانی ٹیم سلیکشن اور کپتان نے میچ ہارنے کے باوجود ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ایک ہم ریکارڈ بنا ڈالا جو شاید کبھی ٹوٹ سکے اور وہ تھا 6 سپنر کھلانے اور ان سے بائولنگ کروانے کا، جبکہ فہیم اشرف بائولنگ آلرائونڈر کے طور پر کھلانے والے کھلاڑی کو ایک بھی اوور نہیں کروایا گیا جبکہ شاداب خان کا ایک اوور میچ کا پانسہ پلٹ گیا جس میں انہوں نے17 رنز دیئے، جبکہ ہمارے ٹرمپ کارڈ یا امیدوں کا دارومدار پوری ٹیم، عوام اور ٹیم سلیکشن کرتی ہے اور وہ ہے شاہین شاہ آفریدی جو تقریباً دو سال سے چھوٹی ٹیموں اور ہوم گرائونڈ پر تو اچھی کارکردگی دکھاتے رہتے ہیں لیکن جب بات ہوتی ہے بھارت کی یا ایک اچھی ٹیم کیساتھ مقابلے کی تو وہ بجائے اپنی ٹیم کو سہارا دینے کے سونے پہ سہاگہ ان کی کارکردگی ہی پاکستان ٹیم کی شکست کی اہم وجہ قرار بن جاتی ہے، جی ہاں پچھلے ایشیاء کپ میں بدترین تین بھارت سے تین شکستوں کے بعد بھی ہماری ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹر اور سینئر کھلاڑیوں سمیت کپتان سلمان علی آغا کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کپتان جو پوری ٹیم کو لیڈ کرتا ہے اگر اس کی کارکردگی گرائونڈ میں ٹیم کے حق میں ہونے کی بجائے ٹیم کیخلاف ہو تو پھر وہ ٹیم دعائوں اور معجزوں سے ہی جیت سکتی ہے جبکہ کارکردگی کی بناء پر نہیں جیت سکتی جبکہ مقابلے میں بھارت جیسی مضبوط ٹیم ہو تو پھر تو کبھی بھی آپ نہیں جیت سکتے چاہے آپ پہلے بیٹنگ کرو یا پہلے بائولنگ کرائو نتیجہ ایک ہی نکلے گا اور وہ ہوگا شکست کا خمیازہ۔ جی ہاں ایشیاء کپ میں بدترین شکست کے بعد سوال اُٹھائے گئے ٹیم کے آپریشن کلین اپ کے ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹر کے آپریشن کلین اپ کے مگر حسب توقع گزشتہ سے پیوستہ کے ہی مصداق نتیجہ نکلہ۔ سب سے بڑی حیرانگی والی بات یہ ہے کہ بھارت سے میچ سے قبل جن دو ٹرمپ کے کارڈ کا واویلا اور تشہیر کی جا رہی تھی کہ جی ہمارے پاس عثمان طارق کی شکل میں بائولر اور ون ہینڈ میچ کا نتیجہ بدلنے والا بیٹسمین فخر زمان موجود ہے جو اکیلا ہی میچ کا پانسہ پلٹنے کا ہنر رکھتا ہے، جبکہ دوسری جانب میچ کی ٹیم سلیکشن سے ہی عوام اور سوشل میڈیا اور کرکٹ کے پنڈتوں کو میچ شروع ہونے سے پہلے ہی میچ کے رزلٹ کا پتہ چل چکا تھا جو میچ کے اختتام پر سو فیصد درست ثابت ہوا۔ دوسری جانب کپتان کا ٹاس جیت کر بائولنگ کا فیصلہ کارکردگی کے برعکس ہے کیونکہ جب آپ اپنی بائولنگ سٹرینتھ کو طاقتور بنا کر میدان میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی کمزوری یعنی بیٹنگ کو چانس دیا جاتا اور بورڈ پر ایک اچھا ٹوٹل لگایا جاتا تو شاید میچ کا نتیجہ کچھ اور ہی ہوتا۔ مگر وہی ”ڈھاک کے تین پاٹ ” کے مترادف ہے۔ اس طرح جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے اہم میچ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کے 176 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ٹیم 18اوورز میں 114رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ بھارتی ٹیم سپر 8 میں پہنچ گئی، پاکستان کو اگلے مرحلے میں رسائی کیلئے نمیبیا کو ہرانا ہو گا۔قومی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 18 اوورز میں 114 رنز پر ڈھیر ہو گئی، ٹاپ 4بیٹر ز بد ترین ناکامی کا شکار ہوئے، صاحبزادہ فرحان کو تو کھاتہ کھولنے کا موقع بھی نہ مل سکا، صائم ایوب نے ایک چھکا لگانے کو ہی کافی سمجھا، سلمان علی آغا ایک بار پھر تیسری پوزیشن سے انصاف نہ کر پائے، بابر اعظم بھی ٹیم کو بیچ منجھدار میں چھوڑ کر چلتے بنے، 34 رنز پر 4 وکٹیں گرنے کے بعد ٹیم سنبھل نہ سکی، عثمان خان 44رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے، قبل ازیں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت نے مقررہ اور ز میں 7 وکٹ پر 175 رنز بنائے، اوپنر ایشان کشن نے 77رنز کی اننگز کھیلی، صائم ایوب نے 25 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں، ورلڈ کپ کا مسلسل 11 واں میچ جیتنے والی بھارتی ٹیم سپر 8میں پہنچ گئی ، اس سے قبل پاکستانی ٹیم کو ایشیا کپ کے دوران بھارتی ٹیم کے ہاتھوں مسلسل تین میچز میں ناکامی کا سامنا کر نا پڑا تھے، اسے اگلے مرحلے میں رسائی کیلئے اب اپنے آخری میچ میں نمیبیا کو ہرانا ہو گا ۔ بابر اعظم ایک مرتبہ پھر توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور صرف 5 رنز بناکر پٹیل کی گیند پر بولڈ ہو گئے ، ابتدائی دونوں میچز میں صفر پر آئوٹ ہونے والے عثمان خان نے اس بار بہتر بیٹنگ کی تاہم 44رنز پر پٹیل کی گیند پر ایشان کشن کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہو گئے ، عثمان طارق صفر پر پانڈیا کی گیند پر بولڈ ہو گئے ، بھارتی بولرز نے شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا اور مسلسل وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا، ہر دیک پانڈیا، جسپریت بمرا، اکثر پٹیل اور ورون چکرورتی نے 2،2 وکٹیں لیں۔ اسی طرح حسب توقع میچ سے قبل ٹاس پر پاک بھارت کپتان پھر ‘اجنبی’ بن گئے، میچ سے قبل ایک دوسرے مصافحہ نہیں کیا، بھارتی الیون میں 2 تبدیلیاں کی گئیں، سوریا کمار یادیو کا کہنا تھا کہ سکہ ہمارے رخ پر گرتا تب بھی ہم پہلے بیٹنگ کو ترجیح دیتے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ میچ میں مصافحہ نہ کرنے کی اپنی نفرت پر مبنی پالیسی جاری رکھی، ایک روز قبل جب بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو سے ہینڈ شیک کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے تک انتظار کرلیں اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ زیادہ اہم ہے، میچ سے قبل ٹاس کے موقع پر دونوں کپتانوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کیا اور ایک دوسرے سے مکمل طور پر اجنبی بنے رہے، بھارت نے مصافحہ نہ کرنے کی پالیسی کا آغاز ایشیا کپ کے دوران کیا تھا جب پاکستان سے اپنے پہلے میچ میں سوریا کمار یادیو نے پہلے سے آگاہ کیے بغیر آخری لمحات میں پاکستانی قائد سلمان علی آغا کے ساتھ مصافحہ سے انکار کردیا، جس پر پاکستان نے خوب احتجاج بھی کیا تھا، اس کے بعد اسی ایشیا کپ میں دونوں ٹیمیں مزید 2 مرتبہ مدمقابل آئیں مگر سوریاکمار نے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا، اس کا اثر بعد میں ہونے والے خواتین ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ پر بھی پڑا جب بھارتی ویمن کپتان نے بھی پاکستانی قائد کے ساتھ مصافحہ سے گریز کیا اور اس پالیسی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت نے پاکستان کیخلاف مینز ٹی 20 انٹرنیشنل میں 7 وکٹ پر 175 رنز جوڑ کر نیا ریکارڈ قائم کردیا، گرین شرٹس کیخلاف اس فارمیٹ میں یہ ان کا بہترین ٹوٹل بن گیا، دونوں ملکوں کے درمیان اب تک 17 ٹوئنٹی 20 میچز ہوئے ہیں، اس سے قبل باہمی مقابلوں میں 6 وکٹ پر 165 رنز بھارت کا بہترین ٹوٹل تھا، جو بلو شرٹس نے 2016 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بنایا تھا، بھارت نے اس بار بھی پاکستان ٹیم کے خلاف میچ میں آسان فتح کو اپنا مقدر بنایا۔ کپتان سلمان علی آغا شرمناک ناکامی پر تاویلیں پیش کرنے لگے، ان کا کہنا ہے کہ ہم نے 4 اسپنرز کھلائے مگر ان کا دن اچھا نہیں تھا، بیٹ کے ساتھ بھی اچھا نہیں کھیل پائے۔ یہی تاویلیں دے سکتے ہیں جب تک ٹیم اور سلیکٹر اور سینئر کھلاڑی جو ٹیم پر بوجھ بن گئے ہیں ان کا آپریشن کلین اپ نہیں کیا جاتا۔
٭٭٭










