اوج پر ہے کمال بے ہنری!

0
11
جاوید رانا

اپنے گزشتہ کالم میں مسجد خدیجة الکبریٰ کے سانحے کے حوالے سے دہشتگردی و سیاسی عدم استحکام کی صورتحال پر نوحہ گری و ماتم گری کا اظہار کیا تھا، اب اس تناظر میں قوم کے محبوب ترین کھیل کرکٹ کو بھی شامل کر لیا جائے سچ تو یہ ہے کہ نا اہلی، غلط و مفاداتی پالیسیوں اور فیصلوں نے وطن عزیز کو ”اوج پر ہے کمال بے ہنری” کی واضح تصویر بنا دیا ہے بلکہ کُوڑا کرکٹ کر دیا ہے، ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں جو ذلت و رُسوائی ہوئی ہے اس نے نہ صرف پوری قوم کو شرمساری و شدید دُکھ سے دوچار کر دیا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی واضح کر دیا ہے کہ فیصلے و اقدامات کرنے والوں کے پاس اہداف صرف ذاتیات سے منسلک ہیں اور سیاست و ریاست سے کھیل تک یہی منفی رویہ روبہ عمل ہے۔ ورلڈکپ میں بنگلہ دیش کی حمایت کو وجہ بنا کر بھارتی ٹیم سے رائونڈ میچ نہ کھیلنے کی دھمکی، شرائط پر کھیلنے کی آمادگی اور پھر ٹاس سے لے کر محلے کی ٹیم سے بھی بد ترین کارکردگی و منصوبہ بندی کا جو نتیجہ سامنے آیا اس میں کپتان اور کھلاڑیوں کے ساتھ پی سی بی کے سربراہ، سلیکٹرز اور کوچ کو مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ فیس بک پر ”اللہ کرکٹ کو دامادوں سے بچا” اور شعیب اختر، شاہد آفریدی و اسپورٹس مبصرین کے تاثرات اس بات کے مظہر ہیں کہ موجودہ سربراہ محسن نقوی، کوچ اور بار بار آزمائے بڑے ناموں مگر ان فٹ پلیئرز سے جان چھڑائے بغیر بہتری نہیں آسکتی۔حقائق پر نظر ڈالیں تو موجودہ ورلڈکپ میں نیدر لینڈ و یو ایس اے سے بھی ٹیم جس مشکل سے جیتی وہ قارئین کے علم میں ہے، بھارت سے تو بڑے ایونٹس میں یہ چوتھی شکست ہے۔ کاغذ پر بڑے بڑے نام چھوٹی ٹیموں سے بڑے اسکور اور بڑی ٹیموں کی سیکنڈ لائن اپ سے جیت کر خود کو بڑی ٹیم گردانتے ہیں حالانکہ رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں جبکہ بھارت پہلے نمبر پر ہے۔ بات راجہ بھوج اور گنگو تیلی جیسی ہے، حالیہ میچ میں بھارتی ٹیم نے جو انداز اپنایا وہ ایساہی تھا گویا مقابلہ کسی بچہ ٹیم سے ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ نمیبیا سے کھیل کر کیا نتیجہ آتا ہے اور پاکستانی ٹیم ٹاپ 8 میں آتی ہے، ایسی صورت میں کیا ہماری ٹیم اس مرحلے میں بھارت کو شکست دینے کے قابل ہوتی ہے، قوم خون کے آنسو رو رہی ہے۔ خون کے آنسو تو قوم سیاسی، معاشی، روز مرہ کے ناطے سے بڑے عرصے سے رو رہی ہے۔ ظلم، بربریت، دشمنی اور غیر جمہوری، غیر آئینی و غیر انسانی روئیے ان حدوں تک پہنچ کے ہیں جہاں صحت و زندگی کے ایشوز پر بھی منافقت و مخالف ہتھکنڈوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ گزشتہ تمام ہفتہ کپتان کی بینائی کے ضائع ہونے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے احکامات کے باوجود حکومتی منافقانہ اور جھوٹے بیانات و توضیحات کیساتھ حزب اختلاف حتیٰ کہ پارلیمنٹیرینز اور ہمدردوں کیخلاف جبری اقدامات کیساتھ پارلیمان و کے پی ہائوس کی بندش اور گرفتاریوں کا تماشہ جاری رہا تو دوسری جانب پی ٹی آئی کا رد عمل احتجاج، دھرنے اور کے پی و دیگر صوبوں کے شہروں کو بند کئے جانے کے مظاہر سامنے آتے رہے۔ حکومتی رویوں اور منافقانہ استدلال کے رد عمل پر حزب اختلاف نے تو فطری طور پر ایک عمل کیا ہے لیکن ملک کے صدر کا عوام کے محبوب قائد کیخلاف تضحیکی و تمسخرانہ بیان اور عورتوں کی مثال دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر طبقۂ فکر نے زرداری کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے عورت کا طعنہ دینے کو خواتین کی توہین قرار دیا ہے۔ زرداری صاحب شاید اپنی ساس، اہلیہ اور بہن کی جدوجہد، استقلال و ہمت کو بھول گئے ہیں کہ عوام کے محبوب قائد و سابق وزیراعظم پر طعنہ دینے پر اُتر آئے یا پھر خان کی مقبولیت نے موصوف کو حواس باختہ کر دیا ہے۔ ہمارا مطمع نظر ہے کہ لاکھ ہائبرڈ رجیم کا دور دورہ ہو، عمران مخالف اقدامات ہوں اور اسے مائنس کرنے کی سازشیں ہوں، حق کی صبح ہو کر رہے گی اور مفاد و منافرت کی سیاہ رات اپنے انجام کو پہنچے گی۔ بقول شاعر!
لاکھ جکڑ و ہمیں زنجیر و سلاسل میں مگر
جاگ اُٹھے ہیں مرے دیس کے مظلوم عوام
اور اسی طرح وطن عزیز ہر شعبۂ زندگی میں ریاست، سیاست، معیشت سے لے کر کھیل تک تابناک مستقبل و کامیابی سے ہمکنار ہوگا کہ یہی 25 کروڑ عوام کا مشن ہے۔
٭٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here