نیوجرسی اسٹیٹ کی خاتون گورنر مایکی شریل نے تو کمال کردیا ، وہ کمر باندھ کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے کھڑی ہوگئیں ، شاید اُنہیں پتا نہ تھا کہ ٹرمپ تو خاتون اور لڑکیوں سے کشتی لڑنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں یا ترجیح دیتے ہیں، بہرکیف شریل نے ایک ایگزیکٹو آرڈرپر گزشتہ بدھ کے دِن دستخط کر دیئے جس کے تحت نیوجرسی اسٹیٹ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اختیارات محدود یا چھین لئے گئے، مذکورہ آرڈر کے تحت آئس فیڈرل امیگریش انفورسمنٹ آپریشنز نیو جرسی اسٹیٹ کی ملکیت جو ایگزیکٹو برانچ کی زیر ماتحت ہے اُسکے بغیر کسی عدالتی حکم کے استعمال کر نے کی مجاز نہیں ہوگی۔ اِس سے قبل کیلیفورنیا اور نیویارک کی ریاستوں نے بھی اِس طرح کا قانون نافذ کرچکے ہیں،نیو جرسی کے حکام نے کہا ہے کہ وہ آئس کے اہلکاروں کو پبلک مقامات پر مثلا”ریلوے اسٹیشن یا ہائی ویز پر آپریشن یا اُس کی تیاری کرنے سے روک نہیں سکتے ہیں، مزید برآں نیوجرسی کی گورنر مایکی شریل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی جگہ اگر وہ آئس یا نیشنل گارڈز کے اہلکاروں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھیں تو وہ حکام کو مطلع کریں ، نیو جرسی کی حکومت نے اِس ضمن میں ایک پورٹل قائم کیا ہے جہاں عوام آئس یا نیشنل گارڈز کے بارے میں خبریں ، تصویریں یا ویڈیوز اپ لوڈ کرسکتے ہیں جس سے نیو جرسی کی حکومت کو یہ آگاہی ہوسکتی ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، کسے گرفتار کر رہے ہیں اور گرفتار ہونے والا شخص کیا واقعی میں اِس کا مستحق ہے،کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز پارٹی کے اراکین اِس مقصد کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں کہ امریکا میں امیگریشن کے قانون کا کس طرح نفاذ کیا جائے، ڈیموکریٹس نے ایک فہرست ( گارڈ ریلز ) مرتب کی ہے جس پر عمل کرنے پر وہ زور دے رہی ہے،ڈیموکریٹس کا یہ اصرار ہے کہ آئس یا نیشنل گارڈز اسکول ، کالجز ، اسپتال، چائلڈ کیئر کا ادارہ ، چرچ اور پولنگ اسٹیشن پر کوئی کاروائی نہ کرے جیسا کہ ماضی میں بائیڈن کی حکومت میں رو بعمل تھا۔ڈیموکریٹس لوگوں کو سر راہ اٹھانے کو فوری طور پر روکنا چاہتے ہیں جس کے خوف سے بہت ساری فیملی گھر سے نکلنا بند کر دی ہے، وہ اُسی طریقہ کار پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں جب امیگریشن آفیسر کسی مخصوص فرد کو اُس وقت گرفتار کرتا تھا جب وہ حتمی ڈیپورٹیشن آرڈر کی خلاف ورزی کرتا تھا یا کسی سنگین جرم کا مرتکب ہوتا تھا۔ ڈیموکریٹس یہ بھی چاہتے ہیں کسی شخص کو اُس کی ملازمت کے دوران گرفتار نہ کیا جائے یا کسی شخص کو اُس کی زبان ، رنگ و نسل کی بنیاد پر روکا جائے، ماہرین درس و تدریس نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ امیگریشن آفیسرز کو سکول اور چرچ پر چھاپہ مارنے پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔ایک اہم متنازع مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ آیا امیگریشن آفیسر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی غیر قانونی تارکین وطن کو جج سے وارنٹ حاصل کئے بغیر گرفتار کرے،فیڈرل قانون مشروط طور پر اِس کی اجازت دیتا ہے، جب قانون نافذ کرنے والے اہلکار کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص وارنٹ حاصل کرنے کے دوران فرار ہوسکتا ہے یااہلکار کو یہ یقین ہو کہ وہ شخص ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہو، یہ بھی ایک متنازع بحث ہے کہ آئس یا نیشنل گارڈز کو کسی کے ذاتی گھر میں داخل ہونے کے کیا قانونی جواز موجود ہیں، آئس کا یہ موقف ہے کہ اُنہیں ایک جوڈیشل وارنٹ جس پر کسی جج نے دستخط کئے ہوں کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ٹرمپ کا یہ موقف ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک وارنٹ کا اجراء کافی ہے لیکن ڈیموکریٹس اول الذکر بحث سے اتفاق نہیں کرتے ہیں اور اُن کا یہ ٹھوس موقف ہے کہ آئس یا نیشنل گارڈز کے اہلکاروں کو کسی بھی قیمت پر کسی کے ذاتی مکان یا بزنس میں داخل نہیں ہونا چاہئے جب تک کے اُن کے پاس اُس کے خلاف کورٹ سے جاری کردہ وارنٹ نہ ہو، تازہ ترین صورتحال میں ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی ہوا میں معلق ہوچکا ہے ، جیسا کہ قانون سازوں کے مابین محکمہ اور اِس کے دولاکھ ساٹھ ہزار ملازمین کی فنڈنگ کا مسئلہ کٹھائی میں پڑگیا اور وہ ایک ہفتے کی چھٹی پر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ مینیاپولس میں دو امریکی شہریوں کا امیگریشن آفیسرز کے ہاتھوں قتل اُنہیں اِ س نکتہ پر مجبور کردیا ہے کہ ڈی ایچ ایس کی فنڈنگ سے قبل اِس کی ٹھوس بنیاد پر ریفارم کی جائے، یہ بندش چند ماہ میں تیسری مرتبہ ہے اور یہ قیاس آرائی کرنا دشوار ہے کہ یہ کب تک جاری رہے گی، ڈیموکریٹس یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ امیگریشن آفیسرز
ڈیوٹی کے اوقات باڈی کیمرہ پہنا کریں لیکن ریپبلیکنز کا یہ موقف ہے کہ ایسا کرنے سے اُن کی شناخت ممکن بن جائیگی اور اُن کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائیگا۔توقع ہے کہ ڈی ایچ ایس کی فنڈنگ رُک جانے کی وجہ کر اُن کے فرائض میں کوئی کمی نہیں آئیگی، کیونکہ گذشتہ سال مذکورہ ادارے کو 70 بلین ڈالر کی فنڈنگ سے نوازا گیا تھا۔ ڈی ایچ ایس کے بعض ملازمین جو ماضی میں اسکریننگ کے فرائض انجام دیا کرتے تھے اِس مرتبہ دس ہزار ڈالر بونس کی لالچ میں کچھ زیادہ ہی گرمجوشی کا مظاہرہ کرینگے۔ کوسٹ گارڈ اور فیما کے پاس بھی اپنے ادارے کی فنڈنگ کیلئے کافی رقم موجود ہے ، اور اُن کے کام کے رُکنے کا بھی کوئی امکان موجود نہیں ہے۔












