”روزے کے آداب”

0
11
رعنا کوثر
رعنا کوثر

”روزے
کے آداب”

قارئین کرام ! رمضان کا مہینہ شروع ہوچکا ہے، ہم پہلے عشرے میں ہیں، روزے کے عظیم اجر اور عظیم فائدوں کو نگاہ میں رکھ کر پورے ذوق وشوق سے ہم سب کو روزے کا اہتمام کرنا چاہئے، یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا بدل کوئی نہیں ہے۔ روزہ ہر اُمت پر فرض کیاگیا ہے، روزہ کااہتمام صرف یہی نہیں ہے کے کھانا اور پینا چھوڑ دیا جائے اور نماز پڑھ لی جائے بلکہ روزہ رکھ کر جھوٹ نہ بولیں بلکہ جھوٹ پر عمل بھی نہ کریں۔ جھوٹ پر عمل کرنے کا مطلب یہی ہے کہ بے شک آپ زبان سے تو جھوٹ نہیں بول رہے ہیں مگر آپ کا کوئی کام ایسا ہے کہ وہ جھوٹ پر مبنی ہے۔
روزے میں ریاکاری اور دکھاوے سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو سست نہ ظاہر کریں، خاص طورپر امریکہ میں جہاں ہم جاب پر جاتے ہیں تو ہمارے غیر مسلم ساتھی یہ نہیں جانتے کہ ہم روزہ رکھ رہے ہیں اور اگر جانتے بھی ہیں تو ان کو اپنے روزے کی وجہ سے پریشان نہ کریں۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں معمول کے مطابق ہشاش بشاش اور چاق وچوبند رہیں۔ اپنے کاموں میں لگے رہیں اور اپنے انداز سے روزے کی کمزوری اور سستی کا اظہار نہ کیجئے۔ اس سے غیر مسلم بھی آپ کی عزت کریں گے اور آپ کے روزے رکھنے سے کسی بیزاری کا اظہار نہ کریں گے۔روزے میں بہت محبت اور اہتمام کے ساتھ برائی سے دور رہنے کی بھرپور کوشش کریں نبی ۖ کا ارشاد ہے ۔ روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اپنے آپ پر قابو رکھے،شوروہنگامہ نہ کرے، اسی لئے روزہ کی تکلیفوں کو ہنسی خوشی برداشت کیجئے۔ بھوک، پیاس کی شدت بیان کرکے روزے کی ناقدری نہ کیجئے۔ روزے میں غیبت اور دوسروں پر عیب نہ لگائیں، جاب پر خاص طور سے لوگ ایک دوسرے سے الجھتے رہتے ہیں، غیبت بھی کرتے ہیں اور لڑائی جھگڑے میں بھی الجھتے ہیں۔ اگر آپ نے روزہ رکھا ہے تو پہلے دن سے ہی یہ سوچ لیں کے اپنا کام تھوڑا علیحدہ کرنا ہے بلکہ کام میں ہی مشغول رہنا ہے تاکہ غیر ضروری بات چیت کا موقعہ ہی نہ ملے۔ میں جب جاب پر جاتی تھی تو اپنے وہ کام نکال لیتی تھی جو بہت دن سے یوں ہی پڑے ہیں۔ مثلاً پرانی فائلیں دیکھ لیں، غیر ضروری کاغذات دیکھ لئے یا پھینک دیئے یوں اپنا وقت دوسروں کے ساتھ کم سے کم گزرتا ہے۔اپنے اندر انرجی رکھنے کی کوشش کریں ،سحری ضرور کھائیں، حضور ۖ نے فرمایا سحری کھایا کرو، سحری میں برکت ہے ۔پانی کے چند گھونٹ اور کھجور ہی کھا لیا کرو۔ اللہ کے فرشتے سحری کھانے والوں پر سلام بھتیجے ہیں۔
آپۖ نے فرمایا کہ تھوڑا آرام بھی کیا کرو تاکہ رات کو عبادت بھی کر سکو اور سحری کھائو تاکہ دن میں روزے کے لئے قوت حاصل ہو، روزہ افطار کرانے کا بھی اہتمام کریں ،اس کا بڑا اجر ہے آپۖ نے فرمایاکہ جو شخص رمضان میں کسی کا روزہ کھلوائے تو اس کے بدلے میں خدا اس کے گناہ بخش دے گا اور اس کو جہنم کی آگ سے نجات دے گا اور افطار کرانے والے کو روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ اللہ ہم سب کو صحیح طریقے سے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں رمضان کی برکتوں اور رحمتوں سے فیضیاب فرما(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here