محترم قارئین کرام آپکی خدمت میں سید کاظم رضانقوی کا سلام پہنچے آج کا موضوع عجیب و غریب ہے ایک ایسی کہانی آپکی منتظر جہاں آپ کسی بھی شادی شدھ جوڑے کو جو علیحدگی یا طلاق کی نوبت تک پہنچ رہے ہیں، بسا سکتے ہیں، اُمید دلا سکتے ہیں اور اس جائز و حلال فعل سے باز رکھ سکتے ہیں یقین کریں اپنی خودی و انا کا بت توڑ کر ایک دفعہ کسی کے بن جائیں اس کو اپنا سب کچھ دے کر دیکھیں ،اس پر اعتبار کرکے دیکھیں ،سب کچھ بدل جائے گا، ان شا اللہ ! ہمارے یہاں عورت پر اعتبا ر کرنا یا عورت سے مسئلے کے بارے میں بات کرنا اسکی سننا ایسا کچھ نہ سکھایا جاتا ہے نہ عورت زات کا خیال کیا جاتا ہر چند اب دور بدل رہا ہے اور جہاں عورت کو شعور و آگاہی آرہی ہیں وہیں مرد بھی اپنا رویہ مثبت کررہے ہیں امید ہے یہ سب عملی باتیں ایک اچھا صحت مند معاشرہ بنانے میں کام آسکیں جہاں ہر انسان اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہو اور عزت کے ساتھ جی سکے ۔۔ اب آپ یہ کہانی پڑھیں جہاں ایک شوھر بیوی کو طلاق نامہ لکھ رہا تھا لیکن وہ کیسے بدلا اوور اس سے باز رہا طلاق نامہ لکھتے وقت قلم رک گیا، بیوی نے بتایا وہ راز جو سن کر شوہر نے اپنا سر پیٹ لیا، یہ رات گئے کی بات ہے۔ گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ بیوی سو چکی تھی اور میں میز پر بیٹھا طلاق نامہ لکھ رہا تھا۔ تین سال کی شادی، تین سال کی تلخیاں، تین سال کی بے اعتمادی۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آج یہ رشتہ ختم کر دوں گا۔ قلم اٹھایا، کاغذ سامنے رکھا اور لکھنا شروع کیا۔ لیکن جیسے ہی میں نے پہلا جملہ لکھا، قلم رک گیا۔ رات کے سناٹے میں میری اپنی ہی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔ میں نے سوچا، کیوں رکا قلم؟ کیا وجہ ہے کہ میں یہ طلاق نامہ مکمل نہیں کر پا رہا؟ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ بیوی سو رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر وہ خوبصورتی آج بھی برقرار تھی جس کے لیے میں نے اس سے شادی کی تھی۔ ہماری شادی لاہور کے ایک چھوٹے سے قصبے گڑھی شاہو میں ہوئی تھی۔ وہاں نزدیک ہی ایک پرانی مسجد تھی اور اس کے سامنے میاں بخش کا قہوہ خانہ۔ اسی قہوہ خانے میں میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ اپنی امی کے ساتھ قبرستان جا رہی تھی اور راستے میں قہوہ پینے رک گئی تھی۔ میں وہاں اپنے دوست عارف کے ساتھ بیٹھا تھا۔ عارف نے میرا ہاتھ دبا کر کہا تھا، دیکھ رہے ہو بھائی، یہ لڑکی کسی اور جہان کی ہے۔ اس دن سے میری نیندیں حرام ہو گئیں۔ میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ نام ثنا ہے اور وہ قصبے کے مشہور تاجر اللہ دتہ کی اکلوتی بیٹی ہے۔ میں نے اپنی امی سے بات کی۔ امی نے ثنا کی امی سے بات کی اور پھر رسم و راہ شروع ہو گئی۔ ثنا نے مجھے دیکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے کہا تھا، امی جو کریں گے، ٹھیک کریں گے۔ مجھے لڑکا دیکھنے کی کوئی عادت نہیں۔ یہ بات مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ میں نے سوچا، کتنی پاکیزہ لڑکی ہے جو لڑکا دیکھنے تک کو تیار نہیں۔ شادی کی رات جب وہ آئی تو میں نے دیکھا، وہ وہی لڑکی تھی جسے میں نے قہوہ خانے کے سامنے دیکھا تھا۔ میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ میں نے سوچا، خدا نے میری سن لی۔ لیکن شادی کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ ثنا مجھ سے دور دور رہنے لگی۔ میں اس سے باتیں کرنا چاہتا تو وہ ٹال دیتی۔ میں اسے چھونا چاہتا تو وہ کانپ جاتی۔ میں نے سوچا، شاید وقت لگے گا۔ شاید وہ شرمیلی ہے۔ شاید اسے عادت ڈالنی ہے۔ لیکن مہینے گزرتے گئے اور ثنا کا رویہ نہیں بدلا۔ پھر ایک دن میں نے اسے بازار میں دیکھا۔ وہ کسی لڑکے سے باتیں کر رہی تھی۔ میرے دل میں شک پیدا ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا تو وہ گھبرا گئی۔ اس نے کہا، وہ میرا کزن ہے۔ میں نے کہا، کزن ہو تو کیا ہوا، مجھے کیوں نہیں بتایا؟ وہ خاموش رہی۔
اس دن سے میرے شک بڑھنے لگے۔ میں نے اس کے موبائل فون چیک کرنے شروع کر دیے۔ اس کی ہر حرکت پر نظر رکھنے لگا۔ میں نے اسے گھر سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ وہ رہتی تھی، مگر اس کی خاموشی مجھے اور زیادہ مشتعل کر دیتی تھی۔ میں نے اس سے کہا، تم مجھ سے کیوں خاموش رہتی ہو؟ تمہیں کیا پریشانی ہے؟ وہ جواب نہ دیتی۔ تین سال گزر گئے۔ تین سال میں نے اسے جیل کی سلاخوں میں قید رکھا۔ تین سال میں نے اس پر ہر وقت شک کیا۔ تین سال میں نے اس سے محبت مانگی اور اس نے مجھے خاموشی دی۔ اور اب میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس رشتے کو ختم کر دوں گا۔ لیکن قلم رک گیا۔ میں نے میز پر رکھی تصویر کو دیکھا۔ وہ تصویر ہماری شادی کی تھی۔ اس تصویر میں ثنا مسکرا رہی تھی۔ وہ مسکراہٹ جعلی نہیں تھی۔ وہ مسکراہٹ سچی تھی۔ پھر کیوں وہ مجھ سے دور ہو گئی؟ کیوں وہ میری محبت کو قبول نہ کر سکی؟ میں نے سوچا، شاید میں نے اس سے کبھی پوچھا ہی نہیں۔ شاید میں نے اسے کبھی موقع ہی نہیں دیا۔ میں صرف شک کرتا رہا، الزام لگاتا رہا، اسے قید رکھتا رہا۔ لیکن کبھی اس کے دل میں اتر کر نہیں دیکھا۔ میں نے قلم رکھ دیا اور اٹھ کر اس کے پاس گیا۔ وہ سو رہی تھی، لیکن اس کی آنکھیں نم تھیں۔ وہ رو رہی تھی نیند میں۔ میں نے اس کے پیشانی کو چھوا تو وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا، ثنا، مجھے سچ بتا۔ تم مجھ سے کیوں خاموش رہتی ہو؟ تم میرے سے کیوں دور رہتی ہو؟ تم کس سے ڈرتی ہو؟ وہ خاموش رہی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ پھر اس نے کہا، تم سچ جاننا چاہتے ہو؟ تم تیار ہو سچ سننے کے لیے؟ میں نے کہا، ہاں۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور کہنا شروع کیا۔ میں نے تم سے شادی سے پہلے کبھی محبت نہیں کی تھی۔ میں نے تمہیں دیکھا تک نہیں تھا۔ میری امی نے کہا، تم اچھے لڑکے ہو، میں نے مان لیا۔ شادی کی رات جب تم نے میرا چہرہ دیکھا تو تمہاری آنکھوں میں چمک تھی۔ مجھے لگا، شاید یہ شخص مجھے خوش رکھے گا۔ لیکن اس رات جب تم میرے قریب آئے تو میں کانپ گئی۔ تم نے سوچا، شاید میں شرمیلی ہوں۔ شاید مجھے وقت لگے گا۔ لیکن سچ یہ تھا کہ میں ڈر گئی تھی۔ اس لیے نہیں کہ تم برے تھے، بلکہ اس لیے کہ میں نے اپنی زندگی میں مردوں کو صرف ظالم دیکھا تھا۔ میرے ابا نے میری امی کو کبھی عزت نہیں دی۔ وہ انہیں مارتے تھے، انہیں گالی دیتے تھے، انہیں قید رکھتے تھے۔ میں نے بچپن سے دیکھا کہ امی روتی رہتی ہیں اور ابا انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ جب میں بڑی ہوئی تو میں نے سوچا، شادی کیا ہے؟ یہ تو ایک قید ہے۔ ایک عذاب ہے۔ تم نے مجھ سے شادی کی تو میں ڈر گئی۔ مجھے ڈر تھا کہ تم بھی ایک دن ابا کی طرح بن جا گے۔ مجھے ڈر تھا کہ تم بھی مجھے ماریں گے، مجھے قید رکھو گے۔ اور جب تم نے شک کرنا شروع کیا، جب تم نے مجھے گھر سے باہر نکلنے سے روک دیا، جب تم نے میرے موبائل چیک کرنے شروع کر دیے، تو میرا ڈر اور بڑھ گیا۔
میں تم سے دور بھاگتی تھی، اس لیے نہیں کہ مجھے کوئی اور پسند تھا، بلکہ اس لیے کہ میں جانتی تھی کہ اگر میں تمہارے قریب آ گئی، تو تم مجھے اور زیادہ قید کر دو گے۔ اگر میں نے تم سے محبت کر لی، تو تم مجھ پر اور زیادہ شک کرو گے۔ اگر میں نے تمہیں اپنا دل دے دیا، تو تم اسے روند دو گے۔ میں نے خاموشی اختیار کی، کیونکہ خاموشی ہی میری ڈھال تھی۔ میں نے دوری بنائے رکھی، کیونکہ دوری ہی میری حفاظت تھی۔ میں تم سے محبت کرنا چاہتی تھی، لیکن ڈرتی تھی کہ کہیں تم وہ نہ بن جا جو میرے ابا تھے۔ اس نے بات ختم کی تو اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں سن بوجھ کر رہ گیا۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس کے خاموشی کے پیچھے اتنا بڑا دکھ ہے، اتنا بڑا ڈر ہے، اتنی بڑی تکلیف ہے۔ میں نے اس کے قریب جا کر اسے گلے لگا لیا۔ وہ پہلی بار نہیں کانپی۔ وہ پہلی بار مجھ سے نہیں بھاگی۔ وہ میرے سینے سے لگ کر بچوں کی طرح رو دی۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، ثنا، معاف کر دے مجھے۔ میں اندھا تھا۔ میں نے تجھے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے تجھ پر شک کیا، تجھے قید رکھا، تیرے ساتھ ظلم کیا۔ لیکن آج سے نہیں۔ آج سے میں تیرا سہارا بنوں گا، تیرا محافظ بنوں گا، تیرا شوہر بنوں گا۔ وہ رات بھر روتی رہی اور میں اسے تھپکتا رہا۔ صبح جب سورج نکلا تو میں نے طلاق نامہ پھاڑ دیا۔ میں نے اس کے ٹکڑے کھڑکی سے باہر پھینک دیے۔ میں نے ثنا کا ہاتھ تھاما اور کہا، چلو، آج سے نئی زندگی شروع کرتے ہیں۔ آج پانچ سال گزر گئے ہیں۔ آج ثنا مجھ سے ہنستی ہے، باتیں کرتی ہے، میرے قریب آتی ہے۔ آج وہ نہیں ڈرتی۔ آج میں نے اسے سکھایا ہے کہ ہر مرد ظالم نہیں ہوتا۔ آج میں نے اسے محبت کی تعریف سکھائی ہے۔ لیکن کبھی کبھی رات کو جب ثنا سو جاتی ہے، تو میں اس کے چہرے کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اگر اس رات قلم نہ رکتا، اگر میں نے طلاق نامہ مکمل کر لیا ہوتا، تو آج یہ چہرہ کہاں ہوتا؟ یہ مسکراہٹ کہاں ہوتی؟ یہ محبت کہاں ہوتی؟ اور پھر میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میرا قلم روک دیا۔ اس نے مجھے سوچنے کا موقع دیا۔ اس نے مجھے سمجھنے کا موقع دیا، اس نے مجھے ثنا کو کھونے سے بچا لیا، اللہ تعالیٰ تمام زوجین میں پیار و محبت عطا فرمائے، آمین!
٭٭٭









