فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
10

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! اللہ تعالیٰ جلّ مجدہ الکریم کے پیارے نبی حضرت محمد رسولۖ کی پیاری بیٹی اور چوتھی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہراہ سلام اللہ علیھا کا مقام ومرتبہ بہت زیادہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنھا جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں اور جنت کے نوجوانوں کے سرداروں حسنین کریمین رضی اللہ عنھما کی والدہ ہیں۔ قرآن واحادیث میں آپ کی عظموں کا بیان بہت زیادہ ہے آیت مباہلہ میں خلاّق عالم جلّ جلالہ نے فرمایا ہے: ترجمہ: پھر اے محبوب جو تم سے عیٰسی علیہ السلام کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آئو ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں(پ3 ) اس آیت کریمہ کے شان نزول کے بارے میں علماء مفسرین رضی اللہ عنھم نے فرمایا ہے کہ حضور سرور کائنات ۖ کے پیغام اسلام پر اہل نجران کے چودہ افراد پر مشتمل عیسائی آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور حضرت عیٰسی علیہ السّلام کو خدا کا بیٹا ہونے کے متعلق بحث کرنے لگے مگر حضورۖ حضرت عیٰسی علیہ السّلام کے خدا کا بندہ اور نبی ہونے کے دلائل دے رہے تھے لیکن جب انہوں نے آپ کی کوئی بات بھی نہ سنی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السّلام کو بھیجا اور فرمایا کہ اے محبوب انہیں فرما دیجئے کہ اگر تم نہیں مانتے تو آئو آپس میں مباہلہ کرلیں تاکہ حق وباطل میں فرق ہو جائے۔ چنانچہ تفسر نسفی میں ہے کہ حضور سید دو عالمۖ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھایا اور امام حسن رضی اللہ عنہ کی انگلی پکڑی۔ حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمتہ الزہراء اسلام اللہ علیھا آپ ۖ کے پیچھے اور آپ رضی اللہ عنھا کے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور حضورۖ نے فرمایا کہ جب میں دعا مانگو تو تم آمین کہہ دینا(صاوی علی الجلالین) بس پھر کیا تھا کہ جب یہ اہل بیت کا مقدس مطھر قافلہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل بن کر جارہا تھا تو عیسائیوں کے بڑے پادری اسقف کی نظر ان حسین وجمیل چہروں پر پڑی تو پکار اُٹھا ، اے انصاریٰ کی جماعت بے شک میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ پہاڑ اپنی جگہ سے جدا ہوجائے وہ جدا ہوجائیگا۔ پس ان سے مباہلہ نہ کرو اگر انہوں نے ہمارے حق میں بددعا کردی تو روئے زمین پر کوئی عیسائی نہیں رہے گا اس آیت کریمہ کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ تمام اہل بیت کرام اور خصوصاً سیدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہراء اسلام اللہ علیھا کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عظمت اور شان سے نوازا ہے۔ تین رمضان المبارک 11ھ کو سیدہ رضی اللہ عنھا کا وصال باکمال ہوا۔ آپ کی قبر شریف جنت البقیع میں زیارت گاہ خاص وعام ہے۔ حضرت سیدہ فاطمتہ الزہراء سلام اللہ علیھا ایک مرتبہ چکی پیس رہی تھیں کیا بات ہے سادگی کی رسول اللہ ۖ کی شہزادی اور کام اپنے ہاتھ سے آپ رضی اللہ عنھا کے کانوں میں پڑوسی عورت کی درد ناک آواز سنائی دی۔ آپ نے آواز سنتے ہی بے قرار ہو کر اپنی خادمہ حضرت فضہ رضی اللہ عنھا کو آواز دی اسے ساتھ لیا اور پڑوسن کے گھر چلی گئیں۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ عورت درد زہ میں مبتلا ہے اور اس کی حالت نہایت خراب ہے آپ رضی اللہ عنھا نے گھر والوں کو تسلی دی اور اس عورت کی اچھے طریقہ سے خدمت کی۔ جس کی وجہ سے اس کا بچہ صحیح سلامت پیدا ہوگیا اور اس عورت کی جان بھی بچ گئی جب آپ گھر لوٹیں تو آپ رضی اللہ عنھا کے چہرہ پر ایسی سرشاری طارق تھی جیسے جہاں کی نعمتیں مل گئی ہوں۔ الحمد للہ! خدمت خلق کا جذبہ بھی کیا خوب تھا یہ سب اللہ تعالیٰ کی خاص عطائوں سے ہوتا ہے کاش آج ہماری بہنیں اور بیٹیاں بھی اس جذبہ کو عملی تصویر بن جائیں تو نوے فیصد جھگڑے ختم ہوجائیں۔ اکثر طلاقیں گھر کے کام کاج پورے طریقہ سے نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ باقی اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی اپنے حقوق صحیح طریقہ سے نبھانے کی توفیق دے نشہ آور چیزوں کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے جس نے اخلاقیات تباہ کرکے رکھ دی ہیں۔ اور لوگوں کی جوانیاں اجاڑ دی ہیں۔ سب اپنے اپنے حقوق پہچان لیں تو نوے فیصد مسئلے حل ہوجائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمۖ نے فرمایا: اے فاطمہ! کیا تو اس پر راضی نہیں کہ تو سارے جہان اور جنت کی عورتوں کی سردار ہے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورۖ نے فرمایا کہ اے میری پیاری بیٹی ! کیا تو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ تو سارے جہان کی عورتوں کی سردار ہے؟ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا کہ حضرت مریم رضی اللہ عنھا بنت عمران بھی تو ہیں۔ حضورت نبی کریمۖ نے فرمایا وہ اپنے زمانہ کی عورتوں کی سردار تھیں اور تم اپنے زمانہ کی عورتوں کی سردار ہو اور علی رضی اللہ عنہ دنیا وآخرت کے سردار ہیں۔ حضرت بن عباس رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل امّ المئومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت سیدہ فاطمہ الزہرائ، حضرت سیدہ مریم بنت عمران اور حضرت آسیہ رضی اللہ عنھنّ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سیدہ خاتون جنت فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنھا کے درجے بلند فرمائے آپ یک زہدوتقویٰ وعبادت وریاضت سے ہمیں وافر حصہ عطا فرمائے(آمین ثمہّ آمین)۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here