”فیصلے کا وقت”

0
11
عامر بیگ

ایک انکار سے بات شروع ہوئی تھی ابسولیوٹلی ناٹ۔ ایک ایسا انکار جس نے ایوانوں میں لرزہ طاری کیا، سفارتی راہداریوں میں سرگوشیاں تیز کیں ، ملکی و غیر ملکی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا۔ بظاہر یہ قومی خودداری کا اعلان تھا، مگر جلد ہی یہ انکارخود ایک سیاسی ہتھیار بن گیا جسے کبھی بیانیہ بنایا گیا، کبھی دبا ئوکا آلہ، اور کبھی عالمی طاقتوں کو پیغام دینے کے لیے استعمال کیا گیا ،سوال یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں اصل مقصد کیا تھا؟ کیا واقعی یہ خارجہ پالیسی کا اصولی مقف تھا، یا پھر ایک داخلی و خارجی توازن قائم رکھنے کی حکمتِ عملی؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بیانیے کو اس انداز سے برتا گیا کہ ایک طرف واشنگٹن کو یہ باور کرایا جائے کہ اگر ہمارے مفادات کا خیال نہ رکھا گیا تو وہ شخص دوبارہ اُبھر سکتا ہے جس کی گونج آپ تک پہنچتی ہے اور دوسری طرف اندرونِ ملک اسی شخصیت کو محدود رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن سیاست جامد نہیں رہتی۔ حالات بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں، اور بیانیے بھی اپنی عمر پوری کرتے ہیں آج دنیا ایک نئے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر واقعی ایسے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں جو انسانیت کے لیے تباہ کن ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہئے؟ کیا ہم علامتی اقدامات سے آگے بڑھ سکتے ہیں؟ کیا ہماری عسکری یا سفارتی شمولیت زمینی حقائق کے مطابق ہوگی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہمارے قومی مفادات اس کی اجازت دیتے ہیں پاکستانی فوج کی بنیادی ذمہ داری ملک کی سرحدوں کا دفاع اور داخلی استحکام ہے۔ وہ قبلتین کی حفاظت دل و جان سے کر سکتی ہے مگر فلسطینیوں کی ہلاکت میں حصہ دار نہیں بنے گی۔ جذبات اپنی جگہ، مگر قومی پالیسی جذبات سے نہیں، صلاحیت اور مصلحت سے طے ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی فیصلہ عالمی دبائو، وقتی جوش یا داخلی سیاست کے زیرِ اثر کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف داخلی سطح پر بلکہ اُمتِ مسلمہ میں بھی سوالات کو جنم دے سکتے ہیں ،اسی پس منظر میں عمران خان کی سیاست کو بھی دیکھا جانا چاہئے۔ انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا گیا، سیاست سے کنارہ کشی کا اشارہ ملا، اندر یا باہر جانے کے راستے دکھائے گئے مگر انہوں نے جیل کو چنا۔ سیاسی طور پر یہ ایک بڑا جوا تھا، لیکن اس نے ان کے حامیوں کے بیانیے کو تقویت دی۔ جو لوگ کہتے تھے کہ وہ ایک رات بھی حوالات میں نہیں گزار سکتے، وہ بیانیہ کمزور پڑ گیا اب سوال یہ نہیں کہ کون درست تھا اور کون غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ آگے کا راستہ کیا ہے؟ کیا محاذ آرائی جاری رہے گی یا مفاہمت کی کوئی صورت نکلے گی؟ کیا ریاست اپنی ترجیحات واضح کرے گی؟ اور کیا سیاسی قوتوں کو ان کے عوامی مینڈیٹ کے مطابق کردار ادا کرنے دیا جائے گا اگر کسی بھی فریق کو دوسرے کو بطور دبائو کے آلے کے استعمال کرنے کی حکمتِ عملی ترک نہیں کی گئی تو نقصان سب کا ہوگا۔ عالمی طاقتیں وقتی مفادات دیکھتی ہیں، مگر قومیں اپنی طویل المدتی ساکھ سے جیتی ہیں شاید وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات درست کی جائیں۔ خارجہ پالیسی اور داخلی سیاست کو یرغمال نہ بنایا جائے، اور داخلی سیاست کو عالمی اشاروں کا محتاج نہ رکھا جائے۔ اگر واقعی شیر کو کھلا چھوڑنا ہے تو اس کا مطلب محض ایک فرد کی رہائی نہیں بلکہ سیاسی عمل کی بحالی، آئینی بالادستی اور قومی خود اعتمادی کی بحالی ہونی چاہئے، واشنگٹن تک دھاڑ پہنچانے سے زیادہ ضروری ہے کہ اسلام آباد میں اتفاقِ رائے کی آواز سنائی دے کیونکہ مضبوط قومیں نعروں سے نہیں، واضح پالیسی اور داخلی استحکام سے بنتی ہیں۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here