انسٹالڈ حکمران!!!

0
11
سردار محمد نصراللہ

قارئین اور عزیزانِ وطن!سچی بات تو یہ ہے کہ میرا کالم لکھنے کا دل نہیں چاہتا اگر کوئی شخص اپنا مافی الضمیر بیان نہیں کر سکتا تو لکھنے کا فائدہ لیکن دل پھر یہ کہتا ہے کہ رئیس شہر قمر بشیر صاحب کی بات پر عمل کر اور لکھنا اور پڑھنا نہیں چھوڑ نا، میں یہ بات کئی بار لکھ چکا ہوں کہ میں اول اور آخر ایک سیاسی ورکر ہوں ، میری گھٹی میں میری نشو نما میں سیاست کا رس گھلا ہوا ہے، خیر امریکہ آ کر بھی اپنی سوچ اور فکر کو زندہ رکھنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے نئے نئے نو دولتیوں کے سامنے اپنے فکر کو پروان نہیں چڑھا سکا اور خاص طور پر جب سے وطن عزیز میں انسٹالڈ حکمران ہم پر مسلط کئے گئے ۔ اب تو سیاست پر سنجیدہ گفتگو کرنے کا من بھی نہیں کرتا میرے قرب و جوار میں کچھ دوست ایسے ہیں جو کئی سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں لیکن جب ان سے سیاست پر بات کریں تو الٹی کر دیتے ہیں جس کی بو مارنے کے لئے مشروب فقیری کا سہارا لینا پڑتا ہے ویسے بھی سہی بات تو یہ ہے کہ سیاست پر کیا بات کی جائے کہ وطن عزیز کی 25 کروڑ عوام جبر کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے جس کی جھنکار دنیا تو سن رہی ہے خود ان کو زنجیروں کی آواز نہیں آ رہی ۔ قارئین اور عزیزان وطن ! آجکل فیس بک پر کسی نہ کسی دوست کی یا دوستوں کے دوست کی جہان فانی کے کوچ کی خبریں ملتی ہیں اب پتا نہیں کس کا داغ مفارقت دے جانے کا نمبر آوے مجھے پرانے دوستوں کی محفل اچھی لگتی ہے کئی سالوں بعد رانا اشفاق صاحب ایک زمانے میں پاکستان مسلم لیگ کا حصہ ہوا کرتے تھے میرے دفتر مشروب فقیری شہد نثاری کی بوتل میں لے کر تشریف لائے پھر ہمارے دوست نواب زادہ میاں ذاکر نسیم صاحب اور میاں ثمر جیلانی صاحب اور ملک سجاد ایمن آبادی اور حنیف چوہان صاحب بھی تشریف فرما تھے رانا صاحب کے انقلابی خیالات سن کر بڑا مزا آیا اور ان کے پاکستان اور یہاں کمیونٹی کی خدمت کے جزبہ کو دیکھ کر بڑا دل خوش ہوا نواب زادہ صاحب کی سیاست کا محور چوہدری شجاہت کے گرد ہی رہا جب بھی ان سے چوہدری کی سیاسی کمزوری کی بات کی جائے تو ایک دم بھڑک جاتے ہیں اور طعنہ مارتے ہیں کہ تم بھی تو ان کے دستر خوان سے دانہ جگتے رہے ہو قسم خدا کی آج تک کبھی ایک دانہ بھی نہیں چکھا چونک ان کا سیاسی دائرہ بہت چھوٹا ہے ہمیں ان کی باتیں بری نہیں لگتیں ۔ خیر مجھے تو سیاست سے زیادہ دوستوں کی محفل کا لطف زیادہ آتا ہے کوئی اچھے اچھے کھانے لا رہا ہے تو کوئی مشروب فقیری بغل میں دبائے چلا آرہا ہے اب تو آفاق خیالی صاحب بھی واپس نیو یارک تشریف لے آئے ہیں وہ بھی گاہ بگاہ اپنا گیان دینے کے لئے تشریف لائیں گے ہماری گزارش پر ۔ وطن میں سیاست جو ہو رہی ہے سوشل میڈیا کی نوازشوں کی وجہ سے سب کے علم میں ہے خاکسار کیا اضافہ کر سکتا ہے ۔قارئین اور عزیزان وطن ! اپنی سیاست کا حال یہ ہے کہ آج بھی قوم میں وہی لطف اندوزی اور بے بسی دیکھنے میں آئی جو 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنتے وقت نظر آئی آج بلوچستان اور خیبر پختونستان میں ہونے والی علیدگی پسند لوگوں کی سرگرمیوں پر بھی وہی برانڈ لوگ خوشیاں منا رہے ہیں اور جو کچھ آج کے سب سے بڑے سیاسی رہنما کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے کہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم کرنے کی جرنیلی کھلواڑ کیا جا رہا ہے کیا یہ سیاست ہو رہی ہے یہ سیاست دان ہے نہی بھئی نہی یہ انسٹالڈ طبقہ سیاست ہیں ان سے نجات عمران خان جیسا مرد قلندر دلوا سکتا ہے بس امید کو زندہ رکھیں ۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here