منامہ کی مسعودہ عراق سے سونے کے مشہور یہودی تاجر شاول ابو مزیا کا خاندان بحرین منتقل ہوگیا۔ یہ لوگ دارالحکومت منامہ کے علاقے الحورہ میں آباد ہوئے۔ اس خاندان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مسعودہ تھا۔ وہ اپنے حسن و جمال، ذہانت وفطانت اور اعلیٰ تہذیب وثقافت کی وجہ سے مشہور تھی، اس نے بغداد کے معیاری اداروں میں، جو برطانوی انتظام کے تحت تھے، تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کا والد سونے کا کاروبار کرتا، جبکہ والدہ اور بیٹی سلائی اور کڑھائی کا کام کرتی تھیں، خصوصا النشل تیار کرتی تھیں، جو ایک روایتی لباس ہے جسے سونے اور چاندی کے دھاگوں سے سجایا جاتا ہے اور دلہن اپنی شادی کی رات پہنتی ہے۔ اس کام کے ذریعے مسعودہ بحرینی خاندانوں سے متعارف ہوئیں اور ان کی بیٹیوں کے ساتھ گھل مل گئیں، یہاں تک کہ حکمران خاندان کی بیٹیوں سے بھی ان کے تعلقات قائم ہو گئے۔ جب وہ سترہ برس کی ہوئیں تو ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا: مسعودہ نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ خبر ان کے مذہبی والدین کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی۔ پہلے انہوں نے بات چیت سے اسے روکنے کی کوشش کی، پھر تشدد، محرومی اور طویل قید کے ذریعے دبا ڈالا، مگر وہ صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے فیصلے پر قائم رہیں۔ ان کے والد نے برطانوی مشیر چارلس بیلگریو سے مدد لی، جس نے اسے دوبارہ یہودیت اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور کہا: تم اپنے آبا اجداد کا دین چھوڑ کر ان پسماندہ بدوں کا دین کیسے اختیار کر سکتی ہو؟ مگر مسعودہ نے پرعزم انداز میں جواب دیا: میں اللہ پر ایمان لا چکی ہوں، قرآن کی پیروی اختیار کر لی ہے اور گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ۖ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور میں ہرگز واپس نہیں جاں گی چاہے مجھے ٹکڑے ٹکڑے ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔ یوں چارلس بیگریو بھی مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔ آہستہ آہستہ مسعودہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر بحرین بھر میں پھیل گئی، یہاں تک کہ حاکم بحرین شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ تک پہنچی۔ انہوں نے مسعودہ کے والد کو طلب کیا اور کہا کہ مسعودہ شاہی محل میں عزت و احترام کے ساتھ رہیں گی۔ تم ان پر کوئی زور زبردستی نہیں کرسکتے۔ بالآخر والد نے رضامندی ظاہر کی۔ شیخ حمد نے مسعودہ کی شادی بحرینی تاجر محمد علی امین العوضی سے کرا دی اور وہ الحورہ میں اپنے گھر میں رہنے لگیں۔ مسعودہ اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے معروف ہوئیں۔ وہ بچوں کو مٹھائیاں دیتی تھیں اور ان سے نماز اور قرآن حفظ کرنے کے بارے میں پوچھتی تھیں۔ جو بچے کوتاہی کرتے، انہیں مٹھائی نہ دیتیں اور کہتیں: میں اپنے شوہر محمد سے کہوں گی کہ وہ مسجد میں تمہاری نگرانی کریں۔ شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی دولت کا ایک حصہ قرآن کی تعلیم اور یتیموں کی کفالت کے لیے وقف کر دیا۔ جب 1948 میں اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا تو مسعود رو پڑیں اور کہا: میں ان یہودیوں کی فطرت اچھی طرح جانتی ہوں، یہ فلسطین میں قتلِ عام کریں گے۔ چند ہی ہفتوں بعد دیر یاسین کا قتلِ عام پیش آیا، جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور ان کے خدشات کو درست ثابت کیا۔ مسعودہ نے اسلام قبول کرنے کے دن سے لے کر اپنی وفات تک پردے کا سختی سے اہتمام کرتی رہیں۔ آخری وقت انہوں نے تین وصیتیں کیں: 1….. قرآنِ کریم سے وابستگی قائم رکھنا۔ 2….. اولاد کی دینی تربیت کرنا۔ 3….. انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ یوں مسعودہ کی زندگی کا اختتام ہوا۔ ایک یہودی لڑکی جسے اللہ نے اسلام کی ہدایت دی۔ وہ تشدد اور دبا کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں اور بحرینیوں کے دلوں میں ایک روشن یاد چھوڑ گئیں۔ رحمھا اللہ تعالیٰ۔
٭٭٭











