جب آپ کا دل کڑوے بادام کھانے سے بھر جائے تو آپ ڈر سے بادام کو نہیں چھوتے اور پچھلے کئی سالوں سے پہلے پاکستان میں اور اب امریکہ میں سیاست کے بادام اس قدر کڑوے ہوتے جارہے ہیں کہ چکھنے کو دل نہیں کرتا۔ امریکہ ایک بے حد خوبصورت آزاد ملک تھا، جہاں آپ سیاست دانوں پر بھروسہ کرسکتے تھے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں۔ قوم کے مفاد میں کر رہے ہیں، لیکن آج ایسا نہیں ہے کہ دن دیہاڑے ٹی وی پر آکر الٹی سیدھی سیاست کرتے ہیں اور کہتے ہیں امریکہ اور امریکنز کے مفاد میں ہو رہا ہے۔ ایسا پچھلے ٥٠ سال میں نہیں ہوا کہ امریکن یہ کچھ خرافات دیکھیں جس کا فائدہ قوم کو نہیں چند لیٹروں کو ہو جو ملک کی آبادی کا ایک فیصد ہیں۔ کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا کہ امریکی صدر دوسرے ملک کی حکومت پر کوئی بھی الزام لگا دے اور راتوں رات اُسے اٹھا کر لے آئے اور کہے اب یہ ملک ہم چلائینگے اور اس کے وسائل پر بھی ہمارا قبضہ ہے اور رہے گا پھر دوسرے چھوٹے ملکوں کو بھی دھمکیاں دے کہ یا تو خود کو ہمارے حوالے کرو ورنہ ہم زبردستی قبضہ کرلینگے مزے کی بات یہ کہ جو خود اپنے ملک کو صحیح طریقے سے نہ چلا سکیں، افراتفری پھیلاتے رہیں وہ کس منہ سے یہ بات کرتے ہیں جو دوسرے ملک میں جاکر ایک دشمن سے مل کر دوسرے اسلامی ملک میں انتشار پھیلائے وہاں سڑکوں پر جدانی پھیلائے اور بتائے کہ ہم اس ملک کو تیا پانجہ کردینگے یہ تیسری بار ہو رہا ہے پہلے اپنے چہیتے کو کسی بات پر ملک بدر کروایا اور خمینی کو لاکر بٹھایا کہ کوئی اسلامی ملک اتنا مضبوط نہ بن جائے پھر اسی حکومت کو دھمکیاں دے کر دوبارہ شاہ کے بچے کو بٹھا رہے ہیں۔ عوام میں اسرائیل کے بھیجے ملک دشمن عناصر شامل ہیں اور یہ بات ایرانیوں کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور ہم یہ دیکھ دیکھ کر کڑواہٹ محسوس کر رہے ہیں کہ اسے تھوکنے کو دل چاہتا ہے اب یہ سب کچھ نہیں دیکھا جاتا۔ آئیں اب باتیں کریں مشہور فنکار، اداکارہ اور گانے والی نور جہاں کی آپ کو اچنبھا تو ہوگا کہ سیاسی گند سے نکل کر گانوں اور فلموں کی باتیں انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی دی ہر چیز سے خوشیاں نچوڑے تو آئیں کانوں اور آنکھوں کا مزہ بدلنے کے لئے ہم اس تفریح کی باتیں کر لیں جو کسی وقت میں ہر پاکستانی اور ہندوستانی کے لئے ضروری تھی۔ ہندوستان میں تو شکر میں مرچ مصالحہ ملا کر پیش کر رہے ہیں حال ہی میں ایک فلم ”دھریندر” میں اکشے کھنہ پر فلمائے بحرین کے سنگر فلپریچی کے گانے FA9LAکو ہر جگہ دھوم ہے پاکستانی اور ہندوستانی بلاگر اس کی نقل کرکے سوشل میڈیا پر پیسے بنا رہے ہیں یہ ان کی تفریح ہے۔ وہ پاکستان کے نئے فنکاروں کو نہیں دیکھ پا رہے سوشل میڈیا پر دس سال کے بعد بڑے شاندار طریقہ سے ججیز راحت فتح علی خان، جلال مقصود، زیب بنگش اور فواد خان کی نگرانی میں پاکستان بھر کے نئے سنگرز کو روشناس کرا رہا ہے۔ اگر ہندوستان سے مقابلہ کیا جائے تو یہ ہی کہنا پڑتا ہے کہ فنکاروں کے علاوہ، ہر لحاظ سے ہم ہندوستان سے آگے نکل چکے ہیں اور یہ شو پاکستان میں دیکھنے والوں کی سوچ بدلے گا۔ کہ ہم کسی سے کم نہیں۔ اور موسیقی کے میدان میں فطری استعداد رکھنے والے کم نہیں اور یہ جوان سنگرز میڈیا پر آآکر ہمیں خوشیاں اور ذہنی سکون پہنچا رہے ہیں اس کا اندازہ دیکھنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ کس طرح فریال امبر نے فلم چن وے( اے چاند) پنجابی کے ایک گانے ! چنددیا ٹوٹیا، دلاں دیا کھوٹیا، گاکر ہمیں 1954 کے لاہور میں پہنچا دیا۔ اس وقت چھوٹے تھے یاد نہ رہا لیکن فریال امبر نے یہ گا کر نور جہاں کو بھی امر بنا دیا یہ ہی کہنا پڑتا ہے کہ فنکار اپنے فن سے دوسروں کو خوشیاں دینے میں سب سے آگے ہیں۔ اس گانے کو مشہور سنگر نور جہاں پر فلمایا گیا تھا۔ وہ یہ گانا فلم کے ہیرو کے سامنے ٹھمک ٹھمک کر گا رہی تھیں کہ آج دوبارہ دیکھا تو لگا اس سے زیادہ خوبصورتی سے کوئی دوسرا فنکار یہ گانا نہ تو گا سکتا ہے اور نہ فطری اداکاری بھی نہیں کرسکتا۔ نور جہاں کا کریڈٹ یہ بھی ہے کہ پہلی بار فلم جگنو میں دلیپ کمار ہیرو کے رول میں آئے تھے۔ یہ 1947 میں ریلیز ہوئی تھی جہاں سے دلیپ کمار کا سفر شروع ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے پیچھے ٹر کر نہیں دیکھا نور جہاں کی فلم چن ولے سپرہٹ ثابت ہوئی یہ فلم 1951 میں لاہور کے ریجنٹ سینما میں چچا کے ساتھ دیکھنے گئے تھے اور اس کے دو گاتے چند دیا ٹوٹیا اور منڈیا سیالکوٹیا ابھی تک یاد تھے۔ موسیقار فیروز نظامی تھے اور اب فریال امبر کے سنے گانے نے یاد تازہ کردی کہ بار بار نور جہاں کا گانا سنتے رہے واہ کیا خوب گایا کہ بار بار سننا پڑا۔ اس سے زیادہ خوشی کیا ہوگی۔
”چند دیا ٹوٹیا۔ دلاں دیا کھوٹیاں
مطلب چاند کے ٹکڑے اور دل کے کھوٹے جس طرح نور جہاں نے اس گانے پر اداکاری کی تھی وہ لاجواب تھی جب کہ مقابل میں نستوش کمار نہیں ایک بے سرا سائڈ ہیرو تھا لوگ بار بار فلم دیکھنے گئے ہونگے۔ ہم1951 کی بات کر رہے ہیں ہم لاہور میں کرشن نگر میں رہے تھے اور ریجنٹ سینما میں یہ فلم اپنے چچا کے ساتھ دیکھنے گئے تھے بہت دنوں تک نور جہاں کو دیکھتے رہے گاتے ہوئے ، ایک اور گانا تھا اس فلم میں ”منڈیا سیالکوٹیا، تیرے مکھڑے دے کالا کالا تل وے” لیکن یہ گانا ”چند دیا ٹوٹیا ذہن میں اور وڈیو دل میں رہا اور کل اس گانے کو اسٹیج پر کھڑے ہو کر گانے والی اس لڑکی نے صرف آواز سے وہ جادو کیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نور جہاں آج زندہ ہوتیں تو وہ اس لڑکی کی مزید تربیت کرتیں جیسے اس کی ضرورت نہیں اور اس کا نام فریال امبر ہے،15 سال کی اس لڑکی نے پاکستان آئیڈیل میں اپنا نام اوپر کرلیا ہے۔ فریال امبر نے اپنی پہچان تو بنالی ہے ساتھ ہی نور جہاں کی روح کو بھی خوش کیا ہے اپنی سادگی اور بھرپور جذبات کے ساتھ ساتھ گاتے ہوئے اس نے ہمیں تو چونکا دیا اور بچپن کی یادیں تازہ کردیں لیکن فیصلہ کرنے والے میزبانوں کو گانے کے دوران چونکا دیا۔ سب حیران تھے عرصہ بعد کوئی ایسا پروگرام دیکھنے کو ملا جس نے دماغ سے پاکستان اور امریکہ کی گندی اور کیچڑ میں لتھڑی سیاست کو کچھ عرصہ کے لئے نکال دیا۔ پچھلے کئی دنوں سے ہم نور جہاں اور پھر فریال امبر کا گایا یہ گیت سن رہے ہیں یہ بھی کہہ سکتے ہیں اگر آپ ڈیپریشن کا شکار ہیں تو کسی سائیکولوجسٹ کے پاس نہ جائیں بس یہ سنتے رہیں افاقہ ہوگا اور بھول جائینگے کہ عاصم منیر اور ٹرمپ معاشرے میں جو گند پھیلا رہے ہیں اس گند سے دور رہنے کا یہ ہی نسخہ ہے۔!
٭٭٭٭٭٭













