پاکستان گذشتہ کئی سال سے سیاسی افرتفری کا شکار ہے۔ اس بگاڑ کی ذمہ دار اسٹبلشمنٹ ہے۔ جو بار بار ناکام تجربات کرتی ہے۔ نہ سیاسی کلچر کو پروان چڑھنے دیا جاتا ہے اور نہ جمہوری پودے کو پھلنے پھولنے کا موقع ۔2011ء میں تبدیلی کے نام پر ایک پارٹی کو لانچ کیا جاتا ہے۔ جس نے دھرنوں احتجاج ،ماڑدھاڑ ، گالم گلوچ اور بدتہذیبی کے کلچر کا آغاز کیا۔ سیاست میں بداخلاقی کو رواج دیا۔ ریاست مخالف نظریات کو فروغ دیا۔ جس نے نوجوان نسل میں وطن پرستی کی جگہ فاشزم ، اعتدال کی جگہ بیہودگی، تہذیب کی جگہ جلا گیرا اور شخصی کلٹ کو پیدا کیا۔ ہم ماضی میں پیپلز پارٹی کی شکل میں الذاولفقار کو بھگت چکے ہیں۔ اے این پی کی شکل میں بم دھماکوں کو بھگت چکے ہیں۔ ایم کیو ایم کی شکل میں قتل و غارت گیری اور بھارتی را کے فاشسٹ نظریات ۔ کراچی میں تباہی کی شکل میں بھگت چکیہیں۔ ملک دو لخت ہوا نہ اسٹبلشمنٹ کو شرم آئی ۔اور نہ ہی ان سیاسی گماشتوں کو جنہوں نے نظریاتی مملکت کے اسلامی تشخص، نظریاتی امیج اور تہذیب وتمدن کو نقصان پہنچایا۔گذشتہ پانچ سال میں ریاست سے سیاسی اور صحافتی کلچر کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اخلاقی قدروں کا جنازہ نکل چکا۔ اسٹبلشمنٹ کی چھتڑی تلے یہ عمل جاری ہے۔ نہ کہیں آئین نظر آتا ہے اور نہ قانون ۔ نہ انصاف نظر آتا ہے۔ مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کو جنرل عاصم منیر جیسا طاقت کا بھوکا جرنیل نہیں مل سکتا اور نہ عاصم منیر کو ن لیگ جیسی تابعدار جماعت مل سکتی ہے۔ جب تک بے غیرتی کو بے غیرتوں کا سہارا ہے۔ یہ حکومت کہیں نہیں جارہی۔ اسی اسی سال کے بدکار ،رنگیلے ، لٹیرے ، فاشسٹ اور سکیورٹی رسک بار بار مسلط کئے جاتے رہیں گے۔ کبھی انہیں غدار قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی معاشی دہشتگرد ۔ کبھی ملک فروش اور کبھی مودی کے یار ۔ اور جو بار بار آئین توڑے ہوں ۔ آئین کو ردی کا ٹکڑا سمجھتے ہوں ۔ چوروں ڈاکوئوں کو مسلط کرتے ہوں ۔ کیا یہ واقعی قوم و ملت کے وفادار ہیں۔ مملکت خداداد کے پاسبان ہیں۔؟ ۔ نعروں کے پیچھے بھاگتی عوام بار بار انہی کے طوائف الملوکی کا شکار ہوتی ہے۔ جنہوں نے ملک کا ستیاناس کردیا ہے۔ قوم کی اکثریت ذہنی معذورہو چکی ہے۔ جو ان بدمعاشوں کو سپورٹ تیہیں۔ حالانکہ صاف ستھرے کردار کے حامل لوگ بھی موجود ہیں۔ ایسی جماعت بھی موجود ہے۔ جو ملک و ملت کی حقیقی پاسبان ہے۔ نظریہ پاکستان کی مخافظ ہے۔ قرآن و سنت کی داعی ہے۔ خدمت خلق جس کا شعار ہے۔ اخلاق و کردار جس کا زیور ہے۔ میری مراد جماعت اسلامی پاکستان ہے۔ جس کا کردار قوم کے سامنے ہے۔ سوئی ہوئی ، گونگی، بہری اور اندھی قوم عقل و شعور سے عاری ہے۔ اسٹبلشمنٹ جنہیں دہشتگرد، ڈاکو اور سیکورٹی رسک قرار دیتی ہے ہر چند سال بعد انہی گندے انڈوں کو نئی ٹوکری میں ڈالکر پیش کرتی ہے جس پر قوم بے شرمی سے مہر سبب کرتی ہے۔ اور یہ جانور ہم پر مسلط کردئیے جاتے ہیں۔ ملک چند جرنیلوں کے چراہ گاہ ہے۔ جہاں قوم کو جانوروں کیطرح ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ ریٹارمنٹ کے بعد یہ جرنیل ملک سے یورپ اور امریکہ بھاگ جاتے ہیں۔ اسی لئے یہ یورپ اور امریکہ کے پپی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ریاست کو انہوں نے جانوروں کا باڑہ سمجھ رکھا ہے۔ اسی طرز حکمرانی کیخواہاں عمران خان یہ بھول گئے کہ یہ ملک قربانیوں کا صلہ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ 1970 تک وینزویلا جنوبی امریکہ کا سب سے امیر ملک تھا اور دنیا کے بیس امیر ترین ممالک میں سے ایک تھا؟ وہاں کی عوام کو بڑے پیمانے پر مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات حاصل تھیں اور انفراسٹرکچر پڑوسی ممالک میں سب سے بہترین تھا۔ پھر وہاں کچھ “انقلابی” نمودار ہوئے۔۔۔ انہوں نے عوام کو ورغلایا کہ یہ تو سونے کا پنجرہ ہے۔۔۔ وینزویلا تو دراصل امریکہ کے زیر اثر غلام ہے۔۔۔ آ ہم تمہیں حقیقی آزادی دلائیں۔۔۔ بس پھر اگلے چار پانچ عشروں میں وینزویلا میں کام کی جگہ نعروں اور دعوں نے لے لی۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک نعرے مارنے والے اور دعوے کرنے والے آتے رہے اور وینزویلا کی عوام انکی پوجا کرتی رہی۔۔۔ ان کی تصاویر اپنی گاڑیوں پر لگاتی اور ان کے نعرے بار بار دہرا کر خوش ہوتی رہی۔۔۔ لیکن وینزویلا ڈوبتا چلا گیا۔۔۔ آج وینزویلا جنوبی امریکہ کا افغانستان ہے۔۔۔ جس کے صدر کو امریکہ آرام سے اٹھا کر لے گیا اور کوئی کچھ نہیں کر پایا۔ اسی طرح یوکرین بھی وسطی ایشیا کا سب سے خوشحال ملک تھا۔۔۔ وہاں ایک اداکار بڑا مقبول ہوا جو ڈرامے میں ایک انقلابی لیڈر بنا ہوا تھا۔۔۔ لوگوں کے اصرار پر وہ سچ میں سیاست میں اترا اور وہی انقلابی ڈائیلاگ دہرانے لگا۔۔۔ اور یوکرین کے عوام کو کہا کہ یہ ترقی وغیرہ کچھ نہیں، کیونکہ یوکرین تو روس کے زیر اثر غلام ہے۔۔۔ میں تم لوگوں کو حقیقی آزادی دلاتا ہوں۔۔۔ جذباتی نعروں پر الیکشن جیت گیا تو یورپ کو دعوت دے دی کہ روس کے خلاف اپنے میزائل لاکر ہمارے ملک میں لگا دو۔۔۔ جواباً روس نے حملہ کر دیا۔۔۔ اس حملے میں اب تک ایک تہائی ملک گنوا چکا ہے۔۔۔ یوکرین کے زیر زمین سارے خزانے امریکہ کو سونپ چکا ہے۔۔۔ زمین کے اوپر کوئی چیز سلامت نہیں بچی ہے اور لاکھوں یوکرینی ہلاک ہوچکے ہیں۔۔۔ اتنا قرضہ چڑھ چکا ہے جو ملک بیچ کر بھی ادا نہیں ہوسکے گا۔۔۔ حقیقی آزادی کی جنگ ابھی جاری ہے اس اداکار کا نام زیلنیسکی ہے۔ ایسے ہی ایران میں اسرائیل اور امریکہ کے ایجنٹس متحرک ہوئے ۔ جنہوں نے پورے ایران می پرتشدد مظاہرے کروائے تاکہ موجودہ حکومت تبدیل ہوسکے ۔ لیکن آیت اللہ کی ایک تقریر نے بازی پلٹ دی ۔آیت اللہ کے حامی بھی پورے ایران میں سڑکوں پرنکل آئے جنہوں نے بازی پلٹ دی۔ رجیم چینج کے نام پر جو بدمعاشی شروع کی گئی تھی۔ آسے بلآخر منہ کی کھانا پڑی ۔اسرائیلی اور بھارتی جاسوس نیٹ ورک نے ایران کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان جو لوگ صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لئے مرے جارہے تھے انہیں یاد رہنا چاہئے امریکہ کبھی کسی کا دوست نہیں ہوا کرتا۔ پی ٹی آئی بھی عمران خان کی رہائی کے لئے ٹرمپ کو ابا بنا بیٹھی تھی۔ بے شرم لوگ انہیں کیسے ووٹ کرتے ہیں جو کبھی جھوٹا سائفر لہراتے ہیں۔ کبھی امریکہ کو ابا بناتے ہیں اور پھر ہتھ نہ آئے تھو کوڑی کے مصداق صدر ٹرمپ کو گالیاں دیتے ہیں۔ کبھی یہ آرمی چیف کو ابا کہتے تھے۔ ”حقیقی آزادی” کے نام پر انقلاب کی باتیں کررہے ہیں۔ ابا جی کو گالیاں دے کر ایسا ہی ”انقلاب” پاکستان میں بھی لانے کی کوشش کی گئی۔۔۔ لیکن ہمارے والا مسخرہ اتنا نالائق، نااھل اور کرپٹ تھا کہ اسکو لانے والے بھی صرف تین سال میں کانوں کو ہاتھ لگا گئے۔۔۔ سینیئر سیاستدانوں موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدم اعتماد کے ذریعے کھوتا نکال باھر کیا۔۔۔ چناچہ ہم مکمل تباہی سے بچ گئے۔ تاہم پاکستان کے ایک صوبے میں 13 سال سے یہ انقلاب جاری ہے۔۔۔ اور وہاں آج بھی کام کی جگہ نعرے بیچے جاتے ہیں۔۔۔سندھ میں تو بھٹو کڑوڑوں دفعہ مرکر زندہ ہوچکا ہے۔ جن کو چند دماغی معذور ”شعور” کا نام دیتے ہیں۔ جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔ چند سال پہلے پٹواریوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا ۔ عوام کو سڑکوں پر لائے ۔ لیکن پھر وہی پرانا منظر نامہ اور پرانا سکرپٹ ۔ اداکار بدل گئے ۔ مگر وہی اسٹوری وہی رائٹر ، ہر چند عوام بیووقوف ۔ وہی نظرئیے ، وہی سوچ۔ قارئین کرام! وقت آچکا ہے کہ بحثیت قوم ہم اپنا اپنا کردار ادا کریں ۔ ان گندوں انڈوں اور متعفن لاش کو دفنا کر ملک کو بدبو سے پاک کیا جائے۔ جسے عمران خان سندھ کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا رہا۔ کراچی کی میئر شپ کے لئے وہاب مرتضی کو ووٹ ۔ وزیراعلی خیبر پختونخواہ کا کراچی میں ایک جلسی کیلئے پیپلز پارٹی کی تعریفیں اور جمہوری پارٹی قرار۔ اور پھر لترول کے بعد جمہوری پارٹی پر گالیوں کی بوچھاڑ۔ پارٹی کے پاس سینکڑوں لیڈر ۔ جنہیں ایک کلٹ کے گرد طوائف کے علاوہ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ نہ یہ اپنے صوبہ میں دھیان دیتے ہیں اور نہ کوئی کام۔ یہی کچھ تیس سال ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کیا ۔ سندھ کو محکوم رکھا۔ کرچی کو تباہ و برباد کیا ۔ ایک دوسرے پر الزام لگائے ۔ اور آج سبھی گندے انڈے ایک ٹوکی میں جمع ہیں۔ ایم کیو ایم کے دہشتگرد اورگندے انڈے کراچی کے امن کو خراب کرنے کیلئے ایک بار پھر گندی ٹوکری میں ڈالے جارہے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کو یہی دہشتگرد، ڈاکو اور غیر نظریاتی ، فاشسٹ سوٹ کرتے ہیں۔ چونکہ یہی قومی درندے ایک دوسرے کے مفادات کا تخفظ کرتے ہیں۔ کرپٹ جرنیلوں ، کرپٹ ججوں کو سیف راستہ فراہم کرتے ہیں۔ اور کرپٹ جرنیل ان لٹیرے حکمرانوں کو این آر او فراہم کرتے ہیں۔ بلی چوہے کے اس کھیل میں نقصان وطن عزیز کا ۔ ملک و ملت کا۔ اور عوام کا ہی ہوتا ہے۔ قوم کو ان ظالموں سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے۔ درندوں کے اس گھنائونے کھیل کا خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان میں جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ جو اسلامی تشخص کی پاسبان ہے۔ نظریہ پاکستان کی پشتیبان ہے۔ قائداعظم کے افکار و نظریات کی ترجمان ہے۔ عوام الناس کو تمام جماعتوں کا ماضی اور حال دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ ملک کیلئے کون بہتر ہے۔
٭٭٭












