ایران میں
خونی انقلاب !!!
دنیا بہت تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے ، زمینی جغرافیا ئی حالات کے ساتھ بہت سے ممالک میں سیاسی تبدیلیاں ڈرامائی انداز سے رونما ہو رہی ہیں ، سری لنکا، بنگلہ دیش، وینزویلا ، سمیت کئی ممالک ان ڈرامائی تبدیلیوں کا شکار ہوئے ہیں جوکہ انقلاب کی شکل میں یا حملوں کی شکل میں رونما ہوئی ہیں ، 2022 کی طرح ہی حالیہ مظاہروں کی جڑ بھی ایک ایسی مخصوص شکایت میں ہے جو نظام کی تبدیلی کے مطالبوں میں بدل چکی ہے۔ 2022 کی تحریک خواتین کے معاملے سے شروع ہوئی لیکن اس میں دیگر مسائل بھی اُجاگر ہوئے۔ 2025 دسمبر میں جو مسائل پہلے سامنے آئے وہ معاشی نوعیت کے تھے لیکن بہت جلد ان دونوں مظاہروں کے مرکزی پیغام میں مماثلت دیکھنے کو ملی۔دسمبر کے اختتام پر تہران میں تاجر اس وقت ہڑتال پر چلے گئے تھے جب امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت میں تیزی دے تبدیلی آئی پھر احتجاج ملک کے مغربی علاقوں میں پھیلا اور دسمبر میں ہی ہزاروں کی جگہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ان میں ملک کی وہ مڈل کلاس بھی شامل تھی جو افراط زر اور معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے تاہم مظاہروں کے دوران اب ایک نعرہ جو اکثر سننے کو ملتا ہے وہ ایرانی رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کو ہٹانے اور ان کی سربراہی میں چلنے والی حکومت کے خاتمے سے متعلق ہیں۔2022 میں ہونے والے مظاہروں میں کوئی قیادت نظر نہیں آئی اور یہ جلد ہی زور کھو بیٹھے تھے۔اس کے برخلاف موجودہ مظاہروں میں جلا وطن رضا پہلوی، جو سابق شاہ ایران کے بیٹے ہیں، اس کوشش میں نظر آئے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کو ملک سے باہر بیٹھ کر متاثر کر سکیں۔ شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ حالیہ مظاہرے زیادہ دیر تک جاری رہے ہیں۔ان مظاہروں میں پہلوی خاندان کی واپسی کا مطالبہ بھی پہلے سے زیادہ سنا گیا ہے۔ یاد رہے کہ رضا پہلوی نے خود کو جلا وطنی میں ہی شاہ ایران قرار دیا ہے۔ وہ امریکہ میں موجود ہیں۔ایران میں سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ان مظاہروں میں شرکت کریں۔ اور تہران جیسے بڑے شہروں میں ہونے والے مظاہروں کا حجم رضا پہلوی کی جانب سے سامنے آنے والے پیغامات کی افادیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔حالیہ مظاہروں کی سب سے اہم چیز امریکہ ہے۔ اس سال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کو امریکی حمایت حاصل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ حکومتی عہدیداران کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔دو ہفتے سے جاری پرتشدد مظاہروں کے تناظر میں امریکی صدر کی جانب سے ایران میں کارروائی کی دھمکی کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی قیادت نے بات چیت کے لیے امریکہ سے رابطہ کیا ہے لیکن امریکہ کو کسی ایسی ‘ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کن اقدامات پر غور کر رہا ہے، لیکن انھوں نے کہا کہ ہم کچھ نہایت سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔وال سٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے حکام کے مطابق دیگر ممکنہ اقدامات میں آن لائن حکومت مخالف ذرائع کو تقویت دینا، ایران کی فوج کے خلاف سائبر ہتھیاروں کا استعمال یا مزید پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی اور بحری مراکز بھی جائز اہداف بن جائیں گے۔ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہرے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جو ملک میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایسا پہلا موقع ہے۔ایسا نہیں کہ ایران میں اس سے پہلے حکومت مخالف مظاہرے نہیں ہوئے۔ 2009 میں الیکشن فراڈ کے خلاف احتجاج ہوا۔ تاہم یہ بڑے شہروں تک محدود رہا تھا۔ اس کے علاوہ 2017 اور 2019 میں ہونے والے مظاہرے ملک کے ایسے علاقوں تک محدود رہے جو غریب تصور کیے جاتے ہیں۔حالیہ مظاہروں کی مماثلت 2022 میں ہونے والے مظاہروں سے ہو سکتی ہے جب 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا۔2022 کی طرح ہی حالیہ مظاہروں کی جڑ بھی ایک ایسی مخصوص شکایت میں ہے جو نظام کی تبدیلی کے مطالبوں میں بدل چکی ہے۔حالیہ مظاہرے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ہوئے ہیں جب امریکہ نے بھی ایران پر حملہ کیا تھا۔اسرائیل سے جنگ کی وجہ سے پاسداران انقلاب کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچا جو ملک کی مرکزی عسکری طاقت سمجھی جاتی ہے۔ایران میں ملک گیر مظاہروں کے چودھویں دن، اسلامی جمہوریہ کی فوج نے ایک سخت الفاظ میں بیان جاری کیا جس میں اسرائیل اور ‘دہشت گرد گروہوں’ کی طرف سے ‘عوامی سلامتی کو متاثر کرنے’ کی ‘سازش’ سے خبردار کیا گیا ہے۔فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ‘دیگر مسلح افواج’ کے ساتھ ‘قومی مفادات، ملک کے سٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک’ کا تحفظ کرے گی۔فوج کے حالیہ بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ‘دیگر مسلح افواج’ کے ساتھ کس طرح تعاون کریگی۔
٭٭٭














