آخر ٹرمپ اور پال کا جھگڑا کیا ہے؟
ٹرمپ چاہتا ہے کہ فیڈرل ریزرو شرح سود کو کم کرے۔ مگر فیڈرل ریزرو مان نہیں رہا۔ پوری صورت حال کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم فیڈرل ریزرو سسٹم کو سمجھیں، کہ اس کا کیا کام ہے اور یہ کس طرح ملک ( امریکہ) کی اکانومی کو کنٹرول کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر امریکہ کو چھینک آجائے تو پوری دنیا کو زکام ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پوری دنیا کی معیشت کی نہ کسی طرح امیکہ معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکی ڈالر پوری دنیا کی ریزرو کرنسی ہے اور تیل، گولڈ ، چاندی اور دوسری قیمتی اشی کی قیمتیں ڈالر میں طے ہوتی ہیں۔ اس لئے امریکہ معیشت کی صحت پوری دنیا کے لئے اہم ہے۔دنیا کے باقی ملکوں میں ایک سنٹرل بینک ہوتا ہے۔ جیسے پاکستان میں سٹیٹ بینک آف پاکستان ہے۔ انگلینڈ میں بینک آف انگلینڈ ہے۔ یہ بینک نہ صرف نوٹ پرنٹ کرتے ہیں بلکہ شرح سود بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ کمرشل بینکوں کو قرض بھی دیتے ہیں۔ سینٹرل بینک ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس بینک کے پاس کتنا ریزرو ہونا چاہئے۔ اسی طرح کتنے نوٹ پرنٹ کرنے ہیں یہ فیصلہ بھی سینٹرل بینک کرتا ہے۔ اسطرح اپنی Monetary Policy سے سنٹرل بنک پیسے کی سپلائی کو بڑھا سکتا ہے( نئے نوٹ پرنٹ کرکے، یا قرض دے کر) یا پھر شرح سود کو کم یا زیادہ کرکے پیسے کی سپلائی کو کم یا زیادہ کر سکتاہے۔جب آپ نئے نوٹ پرنٹ کرتے ہیں تو زیادہ پیسہ ہونے سے ملک میں افراط زر بڑھ جاتا ہے اور چیزوں کی قیمتیں اوپر جانے لگتی ہیں۔ جب آپ نئے نوٹ پرنٹ کرنا یہ بینکوں کو قرضہ دینا کم کردیتے ہیں تو پیسے کی سرکولیشن کم ہوجاتی ہے اور نتیجاتا افراط زر بھی کم ہو جاتا ہے اور معاشی نمو بھی کم ہو جاتی ہے۔ جب شرح سود اوپر جاتی ہے تو لوگوں کی بچت بڑھ جاتی ہے، بزنس لون مہنگے ہو جاتے ہیں اور اس سے اکانومک ایکٹیویٹی کم ہو جاتی ہے کیونکہ اب بزنس لون مہنگے ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے۔ کریڈیٹ کارڈ کی ماہانہ قسطیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور لوگ لوگ اپنے خرچ کم کردیتے ہیں۔ جب شرح سود کم ہوتی ہے تو معاشی نمو بڑھ جاتی ہے، لوگ بچانے کی بجائے خرچ زیادہ کرنے لگتے ہیں اور سرمایہ کاری بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح پیسے کی سپلائی کو پڑھا یا گھٹا کر اور شرح سود کو کم یا زیادہ کرکے سینٹرل بینک ملک کی اکانومی کو ایک صحتمند لیول پر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ زیادہ نوٹ پرنٹ کرنے کا ایک اور بھی نقصان ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں آپ کی کرنسی کی قیمت گر جاتی ہے، درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں اور یہ چیز بھی ملک میں افراط ذر کو بڑھاوا دیتی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کے ملک کا انحصار درآمدات پر زیادہ ہو۔
*امریکن فیڈرل ریزرو سسٹم*
امریکہ باقی ملکوں سے ذرا مختلف ہے۔ امریکہ میں کوئی سینٹرل بنک نہیں۔ امریکہ میں 12 ریجنل ریزرو بنکس ہیں۔ ہر بینک اپنے نوٹ پرنٹ کرتا ہے، مگر یہ پورے ملک میں لیگل ٹینڈر ہوتے ہیں۔ بارہ ریجنل ریزرو بینکس کی لسٹ درج ذیل ہے۔
٭ بوسٹن ریزرو بینک (A1)
٭ نیو یارک ریزرو بینک (B2)
٭ فیلاڈلفیا ریزرو بنک (C3)
٭ کلیولینڈ ریزرو بینک (D4)
٭ رچمنڈ ریزرور بینک (E5)
٭ اٹلانٹا ریزرو بینک (F6)
٭ شکاگو ریزرو بینک (G7)
٭ سینٹ لوئیس ریزرو بینک (H8)
٭ مینی ایپولس ریزرو بینک (I9)
٭ کینساس سٹی ریزرو بینک (J10)
٭ ڈیلاس ریزرو بینک (K11)
٭ سان فرانسسکو ریزرو بینک۔ ( L12)
یہ سب بینک اپنے اپنے ڈالر پرنٹ کرتے ہیں۔ آپ اوپر دیے گئے نمبرز سے دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کا ڈالر کا نوٹ کس ریزرو بینک نے ایشو کیا تھا۔ ایک ڈالر کے نوٹ پر یہ نمبر نوٹ کے سیریل نمبر کر اوپر بائیں طرف ہوتا ہے۔ پانچ سے لیکر سو ڈالر کے نوٹ پر یہ نمبر بائیں طرف سیریل نمبر کے نیچے ہوتا ہے۔ان سب ریزرو بینکوں کا ایک ایک بورڈ آف ڈائریکٹر ہوتا ہے جس کے نو ممبر ہوتے ہیں۔ جن میں سے چھ منتخب ہوتے ہیں اور باقی تین کو Feds Board of Governers سیلیکٹ کرتا ہے۔ ان سب کی ٹرم 14 سال ہوتی ہے۔ ان کو صرف بہت ہی خاص حالات میں برخاست کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی ڈائریکٹر کے اوپر بہت ہی سنگین الزامات ثابت ہو جائیں۔ یہ سیفٹی اس لئے رکھی گئی ہے تاکہ کوئی صدر بھی فیڈرل ریزرو پر پولیٹیکل پریشر نہ ڈال سکے اور وہ آزادہ فیصلے کر سکیں۔ان بارہ ریزرو بینکوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کے لئے ایک بورڈ آف گورنرز ہوتا ہے جس کے سات ممبرز ہوتے ہیں۔ ان کو صدر منتخب کرتا ہے اور سینٹ ان کو کنفرم کرتی ہے۔ اس اس بورڈ آف گورنرز کا ایک چیرمین ہوتا ہے جوکہ میٹنگ کو پریذائیڈ کرتا ہے اور فیڈرل ریزرو سٹم میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ ساتوں ممبرز اور چیرمین آف فیڈرل ریزرو کو صدر اپنی مرضی سے فارغ نہیں کرسکتا جب تک کہ ان پر کوئی بہت ہی سنگین الزام نہ ہو۔ اس سارے سسٹم کو The Fed بھی کہا جاتا ہے۔ امریکہ کے مالیاتی نظام میں دے فیڈ کی بڑی اہمیت ہے۔جیروم پال فیڈرل ریزرو سسٹم کے چیرمین ہیں۔ ٹرمپ انہیں مجبور کر رہا ہے کہ وہ شرح سود کو کم کریں۔ مگر وہ اپنی آزادی برقرار رکھتے ہوئے بضد ہے کہ شرح سود کی قمی ملکی معیشت کے لئے تباہ کن ہوگی۔ زیادہ تر ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ ملکی معیشت کے لئے تباہ کن ہوگا۔ اس لئے جیرول پال ٹرمپ کے پریشر میں نہیں آرہا۔ اس نے شرح سود کو کچھ کم ضرور کیا ہے مگر اتنا نہیں جتنا ٹرمپ چاہتا ہے۔اب مصیبت یہ ہے کہ ٹرمپ اسے فائر کر نہیں سکتا۔ اب اس نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ اس کے خلاف تحقیقات شروع کروا دی ہیں۔ [ہر بندے کے اوپر اگر آپ خورد بین لے کر برائیاں یا غلطیاں ڈھونڈنے نکلیں تو کچھ نہ کچھ خود مل ہی جائے گا۔ ٹرمپ خود کونسا آب زمزم سے دھلا ہوا ہے۔ وہ خود سزا یافتہ مجرم ہے۔ ]۔ اب اس نے جسٹس ڈیپارٹمینٹ کو اس کے گند ڈھونڈنے کی ڈمہ داری دے دی ہے کہ مجھے اس کے گند ڈھونڈ کر دیں تاکہ وہ ان الزامات کو بنیاد بنا کر اسے فارغ کرے اور اپنی مرضی کا بندہ لے کر آئے جو کہ اس کی انگلیوں پر ناچے۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس کا نتیجہ ملکی معیشت کے لئے اچھا نکلتا ہے یا برا۔ اسے صرف شرح سود میں کمی چاہئے تاکہ بزنس لونز کی قیمت کم ہو جائے اور کمپنیوں کے لئے قرض لے کر سرمایہ کاری کرنا آسان اور سستا ہو جائے۔ مگر ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ افراط ذر کی صورت میں نکلے گا اور ڈالر عالمی منڈی میں کمزور ہو گا۔ ڈالر پہلے ہی عالمی منڈی میں پریشر کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گولڈ اور سلور کی مارکیٹ میں آگ لگی ہوئی ہے اور ان دو قیمتی دھاتوں کی قیمت بڑھ رہی ہے۔مگر ڈیکٹیٹرز اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت کے بغیر پیدا ہوتے ہیں چاہئے وہ امریکہ کے ہوں، یا نارتھ کوریا، یا روس، یا ایران یا لاطینی امریکہ یا افریقہ کے ہوں۔ اب دیکھیں ٹرمپ اور جیروم پال کی جنگ کیا کروٹ لیتی ہے۔ ٹرمپ جو کہتا ہے کرکے چھوڑتا ہے چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ یہ اکانومی سے زیادہ اب اس کی ایگو کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اللہ رحم کرے۔آپ لوگوں کی Input مجھے پوسٹس کو بہتر بنانے میں مددگار ہو گی۔ اگر کوئی بات کلیر نہ ہوئی ہو تو پوچھ لیں، پوری کوشش کروں گا کہ جواب ڈھونڈ سکوں۔ آپ کے اخبار کے لئے ایک اور مضمون۔
اگر چھاپنے کے لئے پسند آئے تو اخبار کی کاپی ارسال کردیں۔ شکریہ










