میں اسمبلی کی اٹھارہ سیٹیں جیتنے والی، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے لئے موجودہ صدی کی پہلی چوتھائی انتہائی بھیانک رہی۔ بھارت کی ہندوتوا اور بنگلہ دیش کی عوامی لیگ نے ظلم و جبر کی انتہاں کو چھوتے ہوئے، بے گناہوں کو پھانسیاں دیں، براہِ راست فائرنگ کرکے عام لوگوں کو قتل و زخمی کیا اور ہزاروں افراد کو جیل کی صعوبتوں سے گزارا۔ بنگلہ دیش کے عوام نے بالآخر اپنی جرآت مندانہ جدوجہد کے ذریعے انقلابِ جولائی برپا کیا جسے نوجوان قیادت نے جماعتِ اسلامی کی مدد سے کامیابی سے ہمکنار کیا اور عوامی لیگ کے ڈکٹیٹرز کو اپنے بھارتی آقائوں کے ہاں پناہ لے کر عوامی غیض و غضب سے بچنا پڑا۔ اقبال تو ظالموں کو بہت پہلے ہی بتا چکے تھے کہ!
اقبال کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
انقلابِ جولائی کے انقلابیوں کو عارضی حکومت کیلئے تو کچھ بہتر لوگ مل گئے لیکن مستقل حکومت کیلئے بھارتی ہندوتوا نے سابق وزیراعظم کے ہونہار بیٹے کو رام کرکے جنریشن زی (Gen-Z ) کے خوابوں و خواہشات پر پانی پھیر دیا۔ لندن میں طویل مدت گزارنے والا بنگلہ دیشی اشرافیہ کا شہزادہ، اب ڈھاکہ کا وزیرِ اعظم بن چکا ہے۔ کچھ لوگ اسے صوبائی وزیرِ اعلی سمجھتے ہیں کیونکہ وزیرِ اعظم کے اختیارات دہلی والوں کے پاس ہی رہیں گے۔ انقلابِ جولائی کے دوران، جانی اور مالی قربانیاں دینے والے عوام ایک مرتبہ پھر انگشت بدنداں ہیں کہ کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا۔ حالانکہ وسیم بریلوی کے الفاظ میں تو!
ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا
اک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاں گا
شکر ہے کہ انقلابی جدوجہد کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ عارضی حکومت کے زیرِنگرانی ہونے والی اصلاحات، اب ایک ریفرنڈم کے ذریعے آئین کا حصہ بن گئی ہیں۔ ان اصلاحات کے مندرجہ ذیل پانچ نکات بہت اہم ہیں۔ا۔ کسی بھی وزیراعظم کا عہدہ پانچ پانچ سال کی دو مدتوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔۔ متناسب نمائندگی کا استعمال کرکے ایوانِ بالا کی تشکیل کر دی گئی ہے۔۔ صدر اور عدلیہ کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔۔ خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔۔ ڈپٹی اسپیکر اور پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ اپوزیشن سے لئے جائیں گے۔ماضی کی مطلق العنانیت کو ختم کرنے کیلئے یہ اصلاحات یقینا بہت اچھی مددگار ثابت ہونگی۔ اس کے ساتھ ساتھ (Gen-Z ) اور ان کے ہاتھ میں موجود ہتھیار سوشل میڈیا بھی مستقبل کے حکمرانوں کی ریشہ دوانیاں اور کرپشن کو حدود کے اندر رکھنے میں موثر کردار ادا کرے گا۔بظاہر تو سے سیٹوں تک پہنچنا اور آئینی اصلاحات کا حصول بنگلہ دیش جماعت اسلامی کیلئے ان انتخابات کی بہت بڑی بڑی کامیابیاں ہیں لیکن شہدا اور انکے لواحقین کی قربانیوں کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مظلوموں اور مجبوروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی و ناانصافی ہو گئی ہے۔ اقبال اشہر کے بقول،
ہمارے دور کا فرعون ڈوبتا ہی نہیں
کہاں چلے گئے پانی پہ چلنے والے لوگ
٭٭٭








