نیتن یاہو کی ہنگری آمد پر گرفتاری کا حکم

0
5

ہنگری (پاکستان نیوز)حالیہ عام انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا ہے جہاں نو منتخب وزیر اعظم پیٹر میگیار نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حوالے سے ایک انتہائی سخت اور دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ پیٹر میگیار نے اعلان کیا ہے کہ اگر بنجمن نیتن یاہو ہنگری کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ بیان ہنگری کی خارجہ پالیسی میں اس بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو 16 سالہ اقتدار کے بعد وکٹر اوربان کی رخصتی کے ساتھ ہی رونما ہوئی ہے۔ پیٹر میگیار کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے علیحدگی کے اس عمل کو روک دے گی جس کا آغاز سابقہ حکومت نے کیا تھا۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ ہنگری ایک ذمہ دار ملک کے طور پر عالمی عدالت کے تمام فیصلوں اور وارنٹ پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت آئی سی سی کی جانب سے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، اور پیٹر میگیار کے مطابق کسی بھی مطلوبہ شخص کو قانون کے کٹہرے میں لانا اب ہنگری کی قانونی ذمہ داری ہے۔ سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان، جو نیتن یاہو کے قریبی سیاسی حلیف سمجھے جاتے تھے، نے اسرائیلی قیادت کو قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی، تاہم 12 اپریل 2026 کو ہونے والے انتخابات میں پیٹر میگیار کی شاندار کامیابی نے ان تمام پالیسیوں کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ نئے وزیر اعظم نے واضح کر دیا ہے کہ اب ذاتی تعلقات پر بین الاقوامی قوانین کو ترجیح دی جائے گی اور ہنگری دوبارہ یورپی یونین اور عالمی برادری کے اصولوں کی پیروی کرے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here