عید قرباں!!!

0
8
ماجد جرال
ماجد جرال

بڑوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ عیدِ قربان کا سب سے بڑا سبق اپنی انا کی قربانی ہے کیونکہ یہ مبارک دن محض جانور ذبح کرنے یا ایک مذہبی رسم ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ ایثار، محبت، اطاعت اور قربانی کے عظیم جذبے کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال فرمانبرداری کی یاد دلاتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کے حکم پر باپ اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور بیٹا بھی رضا و تسلیم کا پیکر بن گیا۔ اس عظیم واقعے میں انسانیت کے لیے بے شمار اسباق پوشیدہ ہیں، مگر ان میں سب سے بڑا سبق اپنی انا، غرور اور خود پسندی کی قربانی ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو آج کا انسان مادی ترقی، دولت اور شہرت کے باوجود شدید اندرونی بے سکونی کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور انا کا غلام بنتا جا رہا ہے۔ معاشرے کا ہر شخص خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کی اندھی دوڑ میں شامل ہے، جس کے نتیجے میں گھروں میں رشتے ٹوٹ رہے ہیں، دوستیاں ختم ہو رہی ہیں اور معاشرتی نفرتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ لوگ معافی مانگنے اور دوسروں کی بات برداشت کرنے کے بجائے اپنی انا کو ترجیح دیتے ہیں۔ عیدِ قربان ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی ضد، تکبر اور انا کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دے تو زندگی میں سکون اور معاشرے میں محبت پیدا ہو سکتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف ایک جانور قربان نہیں کیا تھا بلکہ اپنی سب سے عزیز خواہش کو اللہ کے حکم کے سامنے قربان کر دیا تھا اور یہی قربانی کی اصل روح ہے۔ قربانی کا مقصد صرف خون بہانا نہیں بلکہ اپنے اندر موجود برائیوں، حسد، نفرت، لالچ اور خود غرضی کو ختم کرنا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص مہنگا جانور خرید کر قربانی تو کر دے مگر اس کے دل میں غرور، تکبر اور دوسروں کے لیے نفرت باقی رہے تو قربانی کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں ہمارے معاشرے کے اکثر اختلافات کی بنیاد انا بنتی جا رہی ہے، جہاں معمولی باتوں پر رشتے ختم ہو جاتے ہیں اور خاندانوں میں برسوں تک ناراضگیاں قائم رہتی ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے بھی انسان کی انا کو مزید بڑھا دیا ہے جہاں ہر شخص اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ ایسے بگڑتے ہوئے حالات میں عیدِ قربان کا پیغام نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ انسان عاجزی، برداشت اور محبت کو اپنائے کیونکہ اگر ہم اپنی انا کو قربان کر کے دوسروں کو معاف کرنا سیکھ لیں تو معاشرہ نفرت کے بجائے اخوت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی دولت یا ظاہری نمود و نمائش نہیں بلکہ نیت اور تقویٰ اہم ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ تک نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس لیے قربانی کا اصل مقصد دل کی اصلاح اور کردار کی بہتری ہے اور جب انسان اپنی انا کو اللہ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے تو اس کے اندر عاجزی، صبر اور انسان دوستی پیدا ہوتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عیدِ قربان کو صرف ایک روایتی تہوار کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رویوں کا روزمرہ کی بنیاد پر جائزہ لیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، معاف کرنا سیکھیں اور اپنی انا کو ختم کر کے محبت، برداشت اور ایثار کو فروغ دیں کیونکہ یہی وہ قربانی ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور معاشرے کو امن و سکون عطا کرتی ہے۔ بلاشبہ عیدِ قربان کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان اپنی انا کی قربانی دے، کیونکہ جب انسان اپنی خواہشات اور غرور کو اللہ کے حکم اور انسانیت کی بھلائی کے لیے قربان کرنا سیکھ لیتا ہے تو اس کی اپنی زندگی بھی سنور جاتی ہے اور معاشرہ بھی امن، محبت اور بھائی چارے کی روشن مثال بن جاتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here