الحمد للہ خلیج میں قیامت ٹل گئی۔ صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس سے ایران اور خلیجی ریاستوں میں تباہی کاخوف بڑھ گیاتھا۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کے آج کی رات ایرانی تہذیب ختم کردیا جائے گی۔ امریکی صدر کی طرف سے ایرانی پلوں ، جوہری تنصیبات اور بچے کچھے انفراسٹرکچر کو مکمل تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ٹرمپ پریس کے میں غصہ میں دیکھائی دئیے۔خدا خیر کرے۔ آنے والے دن انتہائی خوفناک دکھائی دیتے ہیں۔ مشرق وسطی کے حالات مزید تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ جنگ نے خلیج میں قیامت برپا کررکھی ہے۔ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد پوری دنیا کی سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی ہے۔ ٹریلینز آف ڈالرز وائپ آوٹ ہوگئے ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے اب کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔اگر ہم نے بچے تو پورے خطے کو جلا کربھسم کردینگے۔ ایران نے اپنے خطرناک میزائیل سے ٹارگٹ لاک کرلئے بیں ۔ اصفہان کے پہاڑی علاقوں میں ناکام آپریشن سیامریکی انتظامیہ شدید غصہ میں ہے۔ اس آپریشن میں امریکہ کے کئی جدید طیارے تباہ ہوئے۔ کئی کمانڈوز مارے گئے۔ اس آپریشن کا مقصد جوہری تنصیبات اور میزائل انڈسٹری کی تباہی تھا۔ جو کامیاب نہیں ہوسکا۔ امریکہ اسے اپنی ہزیمت سمجھتا ہے۔ اسی لئے بدلہ کے لئے ایران کے پلوں اور انسٹرافریکچر کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایک ایرانی جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے ہر صوبہ کے زیر زمین پہاڑوں میں میزائیل فیکٹریز کام کر رہی ھیں جن میں میزائیلوں کے ذخیرے موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ اس لئے فرسٹریٹ ھیں کہ اتنی بڑی تباہی کے باوجود نہ رجیم تبدیل ہوئی۔ نہ یورینم حاصل ہوسکا۔ نہ آبنائے ہرمز کو کھلوایا جاسکا۔اسی فرسٹریشن میں ،دھمکیاں ،گالیاں اور بیہودہ زبان استعمال کی۔ یہ جنگ اسرائیل کی ہے۔ ٹرمپ اسکا مہرہ ہے۔ جس کی قیمت عرب ادا کررہے ہیں۔ عربوں کو دونوں طرف سے مشکل کا سامناہے۔ جنگ کے اخرجات بھی انہیں اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ھیں کہ ایران اور عرب ممالک آپس میں لڑیں اور یہ دونوں تماشہ دیکھیں۔ ٹرمپ کا پاگل پن جاری ہے۔ یورپ اور نیٹو نے ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونے سے انکار کردیا ہے۔ عربوں کا کہنا ہے کہ آپ ھمارا دفاع نہیں کرسکے ۔ اپنے اڈے نہیں بچا سکے ۔ھمارا دفاع کیسے کرینگے۔ ہمیں کس کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ اسرائیلی شہروں میں لاشوں کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔ ۔ تہہ خانوں میں یہودیوں کی لاشوں سے تعفن پھیل گیاہے۔ اسرائیلیوں پر موت کاخوف طاری ہے۔ یہودی اسرائیل سے بھاگ رہے ہیں۔ اسرائیل نے امریکہ کو براہ راست اس جنگ میں پھنسا دیا ہے۔ یہ دونوں شیطان اس جنگ کوتہذیبی جنگ کا رنگ دے رہے ہیں۔ شکست سے بچنے کیلئے امریکہ ایران پر ٹیکٹیکل ویپن کا استعمال بھی کرسکتا ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں سے سنجیدہ مذاکرات کئے ۔ تمام مطالبات مانے ۔ اسکے باوجود بد نیتوں نے ایران پر جنگ مسلط کی۔چن چن کر ایرانی انفراسٹرکچر تباہ کیا۔اس کے جواب میں ایران نے مشرق وسطی میں امریکی اڈوں پر بربادی پھیر دی۔معاشی پابندیوں، ناکابندی کے باوجودایران خطے میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی کوششیں اور دوسری طرف حملے جاری ہیں۔ عرب سلطنتیں روبہ زوال ہیں۔ بادشاہی نظام پر لرزہ طاری ہے۔ اگر یہ جنگ مزید جاری رہتی ہے تو عرب ممالک میں بادشاہی نظام زمین بوس ہوجائے گا۔عرب ممالک کو ایک منصوبہ کے تحت تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ متحدہ امارات میں جو ہوٹل کا کمرہ پانچ سو میں ملتا تھا ۔ وہاں ہو کا عالم ہے۔ دس ڈالر میں کمرہ مل رہا ہے۔ اگر یہ جنگ مزید دو ہفتے جاری رہی تو پاکستان پر بہت بڑا معاشی بوجھ پارے گا۔ اوورسیز پاکستانی گلف میں بیروزگاری کا سامنا ہے۔ جو پاکستان میں گیارہ بلین ڈالرز کا زرمبادلہ بھجتے ہیں۔ اگر حالات مزید حراب ہوئے تو پاکستان اوورسیز پاکستانیوں کی Remits s کی وجہ سے خسارے کا سامنا ہوگا۔ ایشائی ممالک میں گیس اور تیل کے بحران نے زندگی کو تیس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ہوٹلز، فیکٹریز ، ٹرانسپورٹ کا بزنس ٹھپ ہو رہا ہے۔ سائیکل اور لکڑی کا دور واپس آچکا ہے۔ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ دنیا میں معاشی تباہی نے کاروبار زندگی ٹھپ کردیا ہے۔ امریکہ، یورپ اور عرب ممالک کو اندازہ نہیں تھا کہ اس جنگ کے اثرات عالمی معیشت تباہ کردینگے۔ امریکہ سمجھتا تھا کہ وہ اور اسکا بغل بچہ چند دنوں میں ایران کو فتح کرلینگے۔مگر ایران کے جواب نے انہیں ورط حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایران پر ہر روز حملے ہورہے ہیں۔ جواب میں اسرائیل کی بربادی جاری ہے۔ انرجی عالمی طاقتوں کا ہتھیار ہے۔ جسے وہ جنگی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ صدرٹرمپ کے جارحانہ روئیے سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ نہ ہی امن ہونے دینا چاہتے ہیں۔ انکی جنگی ذہنیت نے پوری دنیا میں بیروزگاری پید اکردی ہے۔ شیطان مودی اور نیتن یاہو اکھنڈ بھارت اور گریٹ اسرائیل منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ انہیں اپنے عزائم میں ناکامی ہوگی۔ بھارت ایکبار پھرجنگی جنون میں مبتلا ہوچکا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کی طرف سےآئے روز دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ بھارتی آرمی چیف اور فضائیہ کے چیف کا کہنا ہے اب پاکستان کو تاریخی سبق سکھائیں گے۔آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا ہے۔ اس بار بھارت کو ایسا جواب دینگے کہ بھارت اسے برسوں یاد رکھے گا۔پاکستان کئی مخاذوں پر ڈٹا ہے۔ پاکستان بھارتی پراکسی کو بھی نیست ونابود کررہا ہے۔ افغان دہشتگردوں کا بھی علاج جاری ہے۔ عالمی ڈیپلومسی بھی جاری ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مصالحانہ کردار بھی جاری ہے۔ الحمدللہ پاکستان ایک مضبوط دفاعی قوت بن کر ابھرا ہے۔ جو خطے میں ایک بڑئے پلئیر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسے امریکہ اور ایران کی جنگ بند کرانے کاکردار سونپا گیا ہے۔ مشرق وسطی کی جنگ کے اثرات پٹرول ، ڈیزل اور آئل کی قیمتوں پر پڑے ہیں۔ پاکستان میں تیل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ پوری دنیا جنگ کی وجہ سے کرب میں مبتلا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل شکست دیکھ کر ایران پر تاریخ کا بھیانک ترین حملہ کرنے جارہے ہیں۔ آئیندہ چند گھنٹے بہت خوفناک ہونگے ۔امریکہ بپھر گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے مذاکرات نہ کئے تو منگل کی شام دس بجے کے بعد نہ کوئی بریج سلامت رہے گا ،نہ آئل تنصیبات۔ ایران میں چار سو پاور پلانٹس اور ڈیڑھ سو پل ہیں۔ امریکی صدر کا کہناہے کہ وہ تمام تباہ کردے گا۔ امریکہ نے اب تک پندرہ ہزار حملے کئے ہیں۔ ایران کی ہر چیز تباہ کردی ہے۔ اسکے باوجود ایران ڈٹ گیاہے۔ ایران پر چالیس سال پابندیاں لگانے والے ایک ماہ آبنائے ہرمز کی بندش پر گھبرا گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کہولنے کی کئی بار دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اس بار انہیں پورا یقین ہے کہ جنگ ضرور جیتیں گے۔ فرسٹریشن میں صدر ٹرمپ نے آرمی چیف کو فارغ کردیا جو کہہ رہے تھے کہ ہمیں اس آپریشن میں بہت نقصان ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے ابسٹین فائلز کے دفاع میں ناکامی پر اٹارنی جنرل بانڈی اور آٹھ بڑے جرنیلوں کو فارغ کردیاگیا ہے۔ اصفہان میں امریکی پائلٹ کی بازیابی کی آڑ میں کیا گیا آپربیشن مکمل طور پرناکام گیاہے۔ کئی اسپیشل کمانڈوز ،کرنل ،آفیسرز کی ہلاکتوں کے بعد آپریشن کو روک دیا گیا۔لیکن اب ایک بہت بڑے آپریشن تیاری کے۔ایرانی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم امریکی فوجیوں کے منتظر ہیں۔ ایران نے امریکی اور اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی، اسٹیلتھ طیارے، دفاعی سسٹم کا بھرپور مقابلہ کیا ۔ پہلی، دوسری اور تیسری لیڈرشپ کے خاتمے کے بعد بھی ایرانی لیڈرشپ جرآت کے ساتھ کھڑی رہی۔دنیا میں صرف ایک ہی مسلمان ملک ایران ہے۔جس نے اسرائیل کو پوری ٹکر دی۔باقی مسلم حکمرانوں میں اتنی سکت نہیں۔ متحدہ عرب امارات ، امریکہ اور اسرائیل اتحادی ہیں۔ ٹرمپ کی پریس کانفرس کے بعد ایران فوجی ترجمان کا کہنا ہے ایران پر حملوں کا جواب ہم امریکہ کے اتحادی ممالک پر حملوں سے دینگے۔ گزشتہ روز ایران کیطرف سے پاکستان کو پیغام دیا گیا ہے۔ کہ اگر ہم پر حملے ہوئے تو ہم پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دینگے۔ اس جنگ میں نقصان دونوں طرف مسلم ممالک کا ہی ہوگا ۔یہ جنگ عرب ممالک کی تباہی کے لئے ایک بڑی پلاننگ کے ساتھ شروع کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے مسلم ممالک کے آپس میں تعلقات بھی دا پر لگ چکے ہیں۔ عمان، عرب امارات، سعودی عرب ، قطر، کویت، بحرین اور ایران کے تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں۔ یو اے ای اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تنا پیدا ہو چکا ہے۔ یو اے ای چاہتا تھا کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہو۔ ایران کے خلاف لڑے۔آبنائے ہرمز کھلوائے ۔پاکستان کسی کا مہرہ نہیں بننا چاہتا۔ پاکستان،مصر اور ترکی ثالثی کا کردار اداکررہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کو پاکستان پر زیادہ اعتماد ہے۔ یو اے ای نے پاکستان پر ویزوں کی پابندی لگادی ہے۔تین بلین ڈالرز واپس مانگ لئے ہیں۔ تاکہ پاکستان کو جھکنے پر مجبور کیا جائے ۔ پاکستان نے ڈکٹیشن سے انکار کردیا ہے۔ خلیجی بندرگاہیں بند ہوچکی ہیں۔ ائیر لائنز دوبئی، ابوظہبی ، قطر، بحرین سے بہت کم آپریٹ ہورہی ہیں۔ یاد رہے کہ گوادر کی بندرگاہ آج تک اسی لئے آپریشنل نہیں تھی کیونکہ یواے ای اور ایران اسکے خلاف تہے۔ یو اے ای اور چاہ بہار کی بندرگاہیں بند ہونے سے پاکستانی بندرگاہوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے پاکستانی بندرگاہیں مکمل آپریشنل ہیں۔ پاکستان کے مثبت کردار کی وجہ سے خطے میں اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ اسی لئے پاکستان نے بھارت اور افغانستان کے ساتھ کبھی ٹریڈ بند نہیں کی گئی ۔افغانیوں کی دہشتگرد کاروائیوں کی وجہ سے ٹریڈ بند کرنے پر مجبور کیا جاتا ۔بھارتی پراکسی پاکستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے دہشتگردی کروا رہی ہے۔ افغانستان کو پاکستان پر دہشتگردی کیلئے ڈالرز اور ڈرانز فراہم کئے جارہے ہیں۔ سوموار کی شب افغانستان میں اسرائیلی سی ون تھرٹی طیارہ اترتے دیکھا گیا ہے۔ افغان طالبان اسلامی حکومت کے علمبردار مگر بھارت اور اسرائیل کا کھلونا بن چکے ہیں۔ پاکستان افغانستان اور بھارت سے مذاکرات کا خواہاں رہا ہے۔ خطہ میں جنگ کو روکنے کی پاکستان اپنی بھرپور کوشش کررہاہے۔ تاکہ خطے میں مزید تباہی نہ پھیلے۔ایران اور امریکہ دونوں اپنی اپنی شرائط پر اڑ چکے ہیں۔ ڈیڈ لائن سے پہلے ہی ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے خارگ جزیرے پر انتہائی شدید بمباری کی ہے۔ تہران کے ریلوے اسٹیشن کو تباہ کردیا گیا ہے۔ تہران نے عارضی جنگ بندی کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے۔ سعودی عرب پر میزائیل داغ دئیے ہیں۔ جس سے بات چیت کے عمل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ہر طرف تباہی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کا پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے۔ آئیندہ بھی بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔ سیز فائرہوا تو ایران ،دوبئی، اور بحرین مخفوظ ہو جائینگے۔ ابھی کالم بھیجتے وقت ٹی وی نیوز سے معلوم ہوا کے جنگ رک گئی ہے۔ پاکستان کو جو کردار ملا تھا اللہ رب العزت نے اس میں کامیابی نصیب فرمائی ۔مشرقی وسطی کو اللہ نے مزید مشکل سے مخفوظ فرما لیا۔ الحمد للہ ۔ اللہ کریم خطے میں امن فرمائے۔ مسلم ممالک کو مخفوظ فرمائے۔ انکی خفاظت فرمائے۔ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی شر سے مخفوظ فرمائے ۔آمین
٭٭٭











